ناک میں جماہوا میل غسل میں پاکی سے مانع نہیں
بندہ کو غسل سے متعلق کچھ مسائل میں رہنمائی درکار ہے امید ہے آپ بند کی رہنمائی فرمائیں گے۔
غسل کرنے کے بعد پتا چلا کہ ناک میں کچھ میل جم جانے کی وجہ سے ناک کےاندر میل کے نیچے کی جگہ سوکھی رہ گئی ہوگی تو غسل ہوا یا نہیں؟اگر نہیں ہوا تو کیا اب صرف ناک میں پانی ڈالنا کافی ہے یا مکمل غسل کرنا ہوگا؟
الجواب
صورت مسئولہ میں غسل ہوگیا،ناک کا میل ایسی چیز نہیں کہ پانی کے بہاؤ کو روک سکے،میل اور اس کے نیچے جلد پوری گیلی ہوجاتی ہے۔
والدرن اليابس في الأنف كالخبز الممضوغ والعجين يمنع تمام الاغتسال.
( البحر الرائق :1/ 49)
(وفرض الغسل) ….. (غسل) كل (فمه)… (وأنفه) حتى ما تحت الدرن (و) باقي (بدنه).
(تنویرالأبصار مع الدر المختار ورد المحتار:1/ 152)
(قوله: حتى ما تحت الدرن) قال في الفتح: والدرن اليابس في الأنف كالخبز الممضوغ والعجين يمنع. اهـ.( رد المحتار الدر المختار:1/ 151)
قلت أرأيت رجلا جنبا اغتسل فبقى من جسده قدر موضع الدرهم لم يصبه الماء ثم صلى ركعة أو ركعتين ثم ضحك قال عليه أن يغسل ذلك المكان الذي لم يصبه الماء ويستقبل الصلاة ولا يعيد الوضوء.( الأصل المعروف بالمبسوط للشيباني:1/ 40)
