هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے
آج کی بات

اَللَّهُمَّ رَبَّنا اغفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبرَار (آلُ عِمْرَان: 193)
اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کو بخش دیجیے، ہم سے ہماری برائیوں کو دور کر دیجیے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ (اچھی موت) دیجیے۔

مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا طُوقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
صحیح بخاری: 2452
جس نے کسی کی ذراسی بھی زمین ظلم سے لے لی ، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
تازہ ترین فتاوی
! احکام شرعیہ کی علت و حکمت
حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ
🎯 انسان کی شخصیت کے دو پہلو
……مگر آشفتہ بیانی میری!
ہمارا مقصد
مقصد محض اللہ کی رضا کی خاطر، قرآن و سنت ، اجماع امت اور قیاس صحیح کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق شرعی رہنمائی کو جدید مواصلاتی ذرائع سے آپ کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔

مفتی صاحب کا تعارف
مفتی ابولبابہ عبد الماجد
ایک طالبِ علم، دینی محقق، مصنف اور اسلامی علوم کے خادم ہیں۔ قرآن و سنت، فقہ و شریعت، عقائد و نظریات، سیرت و اسلامی تاریخ اور اصلاحی و تربیتی موضوعات کے مطالعہ، تحقیق اور تحریر سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔
ان کی علمی و قلمی کاوش کا مقصد محض معلومات کی ترسیل نہیں، بلکہ علم کو فہم میں، فہم کو عمل میں اور عمل کو اصلاح و خیر میں ڈھالنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ ان کا قلم دینی مسائل کو سادہ اور دل نشیں انداز میں پیش کرنے، دلوں کو خیر کی طرف متوجہ کرنے اور دین سے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے وقف ہے۔
وہ اپنی اس علمی نسبت کو کسی فضیلت کا اظہار نہیں سمجھتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل، اکابرِ علم کی محنتوں اور اہلِ علم کی دعاؤں کا ایک معمولی ثمر تصور کرتے ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ ان کی تحریر جہاں پہنچے، وہاں علم کے ساتھ شعور، دل کے ساتھ خشیت، اور زندگی کے ساتھ عمل کی روشنی بھی پہنچے۔
یہ سفر علم کے دعوے کا نہیں، علم کی خدمت کا سفر ہے؛
اور یہ قلم شہرت کے لیے نہیں، خیر کے لیے اٹھانے کی آرزو ہے۔

ہ
ہدایات برائے سوالات
سوال پر اپنا نام مکمل پتہ، تاریخ اور رابطہ نمبر تحریر کریں۔
غیر ضروری تفصیل اور غیر متعلق سوالات سے پرہیز کریں ۔اپنے دینی سوالات واضح انداز میں ارسال کریں۔
تحریری فتوی کا حصول۔
فتوی کا حصول 3 دن کے اندر ممکن ہے ۔ریسرچ کے بعد فتوی مکمل ہونے اور وصول کرنے کے لیے دارالافتاء سے رابطہ فرمائیں۔
اپنا سوال پوچھیے

