:آزادی کا تصور واہمیت

:آزادی کا تصور واہمیت

آزادی کا تصور و اہمیت اور میرا پاکستان

پاکستان؛ تحریک آزادی کی بدولت نعمت آزادی سے مالا مال ہوا۔ پاکستانی قوم کے لیے آزادی کا تصور مغرب کے تصور آزادی سے یکسر جدا گانہ ہے۔ اہل مغرب کے آزادی کے تصورات میں تنوع بھی پایا جاتا ہے اور باہم اختلاف بھی۔ لبر لائزیشن میں ہر فرد کو دینی، روایتی، سماجی، قبائلی، نسلی، گروہی، علاقائی، خاندانی، لسانی، قومی اور اخلاقی الغرض ہر قسمی «آزاد روی کا پورا پورا حق ہے، وہ ہر نوعیت کی آزادی کو ہر سطح پر ممکن بنا کر اس میں وسعت کی قائل ہے۔

یعنی انسان اپنے خالق حقیقی کی عبدیت، بر حق نمائندہ خدا (رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت سے بھی آزاد ہو سکتا ہے۔ اور وہ معاشرے میں جو کچھ بھی کرتا پھرے اس بارے میں مکمل ”آزاد“ ہے۔ اس کو خالق کی عبدیت ، رسول کی اطاعت اور منشور انسانیت و دستور حیات ( قرآن کریم ) کا اسیر نہیں کیا جا سکتا۔

بظاہر اس تصور کی دلر بائی کا حسن انسان کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ بطور خلاصہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس تصور میں آزادی کا مفہوم فقط اتنا ہی ہے کہ ہر انسان محض اپنے عقل کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔ وہ ادیان میں سے دین اسلام کو اپنے لیے غلامی سے تعبیر کرتا ہے۔ جبکہ یہ سوچ ہماری اسلامی اقدار کے بھی منافی ہے اور ہماری ریاستی روایات اور آئینی قوانین کے بھی بالکل بر عکس ہے۔ اسلام غلامی کی زنجیروں میں قید نہیں کرتا بلکہ غلامی سے نجات دلا کر انسان کی مکمل زندگی کو ایسا کار آمد بناتا ہے جس کا فائدہ مرنے کے بعد بھی ہمیشہ کی زندگی میں ملتارہتا ہے۔

بد قسمتی سے آج اسی فکر کو پروان چڑھایا جا رہا ہے حتی کہ ہمارے اس آئینی، نظریاتی، فلاحی ، جمہوری اور اسلامی مملکت کے حکمران طبقے میں بھی یہ منفی سوچ سرایت کر رہی ہے۔ جو ہم سب کے لیے مشتر کہ لمحہ فکر یہ ہے۔یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم تصور آزادی کے مفہوم کو بھولتے یا از خود نظر انداز کرتے جارہے ہیں۔

حالانکہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس ملک میں ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں اس کے حصول کا مقصد غلبہ مدین“ تھا، نہ کہ اہل اسلام کو دین سے ”آزاد“ کرنا۔

:شرعی نقطہ نظر سے

شرعی نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے تو بھی یہی نظر آتا ہے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں مختلف قبائل ، اقوام اور مذاہب کے پیرو کار موجود تھے۔ آپ نے یہاں آکر ریاستی امور کی پہلی باضابطہ آئینی دستاویز مرتب کرائی۔ جسے ” میثاق مدینہ “ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ 53 دفعات پر مشتمل ایسا جامع دستور حیات ہے جس میں ریاست کی معیشت کو مستحکم کرنا، باہمی خانہ جنگی کا خاتمہ اور خارجہ پالیسی کو مضبوط تر بنانے کے لیے عسکری خود مختاری کو بنیادی قرار دیا گیا تا کہ دشمن اس کی سالمیت کو گزند پہنچانے سے باز رہے۔

اسی ” میثاق مدینہ “ میں اللہ احکم الحاکمین کی حاکمیت اعلی اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حاکمیت اعلی کو اساسی اہمیت و حیثیت حاصل ہے۔ اس جامع ترین حکمت عملی … جو در حقیقت وحی الہی کی عملی صورت ہے … سے ہی امن کا نفاذ ممکن ہوا۔ اقوام عالم نے اس کی بدولت وہ سنہر ادور دیکھا ہے کہ امن و انصاف عوام کی دہلیز تک پہنچا، عوام کو انصاف کی دہلیز کے چکر نہیں کاٹنے پڑے۔ ہم اس ملک کے رہائشی ہیں جس کو آزادی دلانے کے لیے ہمارے اکابر نے منظم ” تحریک آزادی پاکستان چلائی۔ جس کی بدولت ہمیں آزادی حاصل بھی ہوئی لیکن بد قسمتی کہ ہم آج تحریک آزادی کی روح آزادی کو فراموش کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں ! ” تحریک آزادی پاکستان کا مقصد غلبہ دین اور نفاذ اسلام ہی تھا ” لبرل تصور آزادی نہیں۔

یوم آزادی پاکستان

:آزادی کا پس منظر

آزادی کی جس کو نپل نے غلامی کی سنگلاخ زمین کا سینہ چیرا، اس کی آبیاری ہمارے اسلاف واکابرین کے خون اور پسینے سے ہوئی ہے۔ ہمارے بزرگوں کی بے مثال قربانیاں تھیں جنہوں نے اسلام اور اہل اسلام کو بچانے کی خاطر جہاں میدان کارزار میں اپنی جانوں کا نذانہ پیش کیا وہاں عقائد اسلامیہ کے تحفظ کے لیے دینی جامعات کی داغ بیل ڈالی۔ چنانچہ حکیم آفتاب حسن قریشی لکھتے ہیں

ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے باوجود جہاد کا سلسلہ جاری رہا انگریزوں نے انبالہ اور پٹنہ میں مجاہدین پر مقدمات چلا کر انہیں قید و بند کی سزائیں دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم تحریک چلائی اور مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے عیسائی مشنریوں کی پشت پناہی کی۔ اس وقت یہ علماء ہی تھے جو اسلام کے تحفظ اور احیا کے لیے میدان عمل میں اترے۔ انہوں نے مختلف جگہوں پر دینی مدارس قائم کیے اور نوجوانوں کو دین کی تعلیم دینے لگے۔ ان مدارس میں سے دارالعلوم دیو بند اور مدرسہ دار العلوم سہارنپور خاص طور پر مشہور ہیں۔“

مطالعہ پاکستان بی۔ اے (لازمی) علامہ اقبال یونیورسٹی پاکستان صفحہ (305)

متعلقہ فتاویٰ