تقسیمِ برصغیر کی المناک داستان | 1947ء کی تاریخ اور ہجرت
اسلامی جمہوریہ پاکستان“ خالص نعمت خداوندی ہے۔ اللہ کریم نے ہمیں یہ آزاد مسلم ریاست ایسے حالات میں عطا فرمائی جب اسلام دشمن قوتیں اہل اسلام بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے گھناؤنے منصوبوں پر عمل پیرا تھیں۔ تقسیم برصغیر کی المناک داستان جان گسل حالات میں پیش آئی۔ ہندو، سکھ اور انگریز سب مل کر ایڑی چوٹی کا زور اس بات پر لگارہے تھے کہ مسلمان الگ آزاد مسلم ریاست حاصل نہ کر سکیں۔
:ظلم کی داستان
ظالم سامراج نے وہ کون ساظلم تھا جو بر صغیر کے مسلمانوں پر روا نہ رکھا۔ ان پر لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ، ان کے محلوں ، قصبوں، شہروں اور دیہاتوں کو لوٹا گیا۔ گھروں کو جلایا گیا، مساجد و مکاتب کو آگ لگائی گئی، ہزاروں بے گناہ بچیوں کی عزت کو تار تار کیا گیا۔ لٹے پٹے قافلوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ، آزادی کے متوالوں نے سولیوں پر چڑھ کر اپنا حق چھینا ، کئی کڑیل جو ان ارض پاک کے حصول کے لیے کار زار کی پیاسی زمین کو اپنے خون سے سیراب کرتے رہے۔ شہداء نے بہتے دریاؤں کو اپنے لہو کا خراج دیا۔ گنگا و جمنا اور راوی نے بے کسوں کے خون کی سرخ چادر اوڑھی، کئی سہاگ سسکیوں میں گم ہو گئے۔ ہزاروں بے گناہ شیر خوار بچے موت کی وادی میں رقصاں ہوئے۔ پاک گلشن کو سینچنے کے لیے جذبہ آزادی سے سرشار لہو کی گرمائش کو حالات کے ستم ٹھنڈا نہ کر سکے۔ بر صغیر کا مسلمان سمجھتا تھا کہ زندہ قوموں کے لیے غلامی سوہان روح ہے۔ اس کے لیے وہ ہر طرح کی ذہنی کوفت ، قلبی اذیت، بے چینی، بے قراری اور درد و کرب کو ہنس کر برداشت کرتے رہے۔ بر صغیر میں لگنے والی آگ بہار سے لے کر مشرقی پنجاب تک کو جھلس رہی تھی۔ پلاسی کے میدان سے لے کر پانی پت تک اور وہاں سے کرنال تک کی سر زمین لہو لہو تھی۔
تقسیم ہند کا منصوبہ
تجارت کی غرض سے برصغیر میں برطانوی سامراج نے اپنے قدم جمائے اور دیکھتے ہی دیکھتے بر صغیر کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔ اقتصادی طور سے بر صغیر کو سونے کی چڑیا “ کہا جاتا تھا۔ اس لیے اس کو لوٹنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کی گئی، یہاں کے رہنے والوں پر ظلم و تشدد کیا گیا اور لڑاؤ اور حکومت کرو“ کے اصول کو اپنا کر انہیں باہمی طور پر لڑا دیا گیا۔ جب بر صغیر کے باسیوں کی تین نسلیں ظلم سہ چکیں تو انہیں ہوش آیا گر حالات ایسے ہی رہے تو قیامت کی صبح تک ہم محکوم اور مظلوم بن کر زندگی گزاریں گے اس لیے بر صغیر کو برطانوی سامراج سے نجات دلائی جائے۔ اس کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی گئیں۔ ایک طویل محنت کے بعد برطانوی سامراج نکلنے پر مجبور ہو گیا، لیکن وہ فرار ہونے کے لیے باعزت طریقہ ڈھونڈ رہا تھا۔ انہی حالات میں انہوں نے ہندوستانیوں کو حکومتی اختیار کی منتقلی کی صورت اپنائی۔
تقسیمِ برصغیر کی المناک داستان | 1947ء کی تاریخ اور ہجرت
ہندوستانیوں کو اختیارات کی منتقلی سے متعلق برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی کے بیان کے بعد جب ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کا سورج غروب ہونے کو تھا۔ ہندوستانی مسئلے کا منطقی حل قریب نظر آرہا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے بنا کر بھیجا گیا۔ وہ 22 مارچ 1947ء کو ہندوستان پہنچ گئے۔ 24 مارچ 1947ء کو ہندوستان کے انتیسویں اور آخری گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ حلف اٹھانے کے فوراً بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کے تمام با اثر اور اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کے سلسلے کا آغاز کیا۔
قائد اعظم نے وائسرائے پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ، بلوچستان، صوبہ سرحد ، پنجاب، بنگال اور آسام کے صوبوں پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار پاکستان چاہتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریسی لیڈروں نے وائسرائے ہند کو یہ عندیہ دیا کہ وہ ہندوستان کی تقسیم اس صورت میں قبول کر لیں گے جس کے تحت بنگال اور پنجاب کے صوبے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ قیام پاکستان سے پہلے سندھ، بلوچستان، صوبہ سرحد مغربی پنجاب اور مشرقی بنگال کے عوام کی مرضی بھی معلوم کی جائے گی۔ ان ابتدائی ملاقاتوں کے بعد وائسرائے اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ متحدہ ہندوستان کی خواہش کا خواب ہے جو کبھی بھی شر مندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔
اس فیصلہ کن مرحلے پر وائسرائے کی ہندوستانی راہنماؤں سے بات چیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لندن سے شائع ہونے والے اخبار سنڈے ابزرور (Sunday Observer) نے لکھا: ”ان ملاقاتوں سے یقیناً وائسرائے اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ تقسیم ہی انتشار کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔“
آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کا موقف جاننے کے بعد وائسرائے نے اپنی طرف سے ایک منصوبے کا بلیو پرنٹ تیار کر لیا۔ ہندوستان میں Dominion Status کی حامل دو ریاستوں کا قیام اس منصوبے کا سب سے اہم ترین مقصد تھا۔ برطانوی کابینہ کے ساتھ مزید صلاح مشورہ کرنے اور اپنے منصوبے کی حتمی منظوری حاصل کرنے کی غرض سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن 18 مئی 1947ء کو لندن کے لیے روانہ ہوئے۔ دس دن تک برطانوی کابینہ کے اجلاسوں میں ماؤنٹ بیٹن پلان کے ہر پہلو کا مکمل جائزہ لیا گیا ۔ 28 مئی 1947ء کو ہندوستانی مسئلے پر وائسرائے ہند کے پلان کو آخری شکل دی گئی۔ برطانوی حکومت نے لارڈ ماؤنٹ کو مزید اختیارات سے و مسلح کر کے ہندوستان کے لیے روانہ کیا۔ 30 مئی 1947ء کو ہندوستان پہنچے۔
بروز پیر صبح 10 بجے 2 جون 1947ء کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں کے درمیان ایک تاریخ ساز اور نہایت ہی اہم اجلاس کا آغاز ہوا۔ اس اجلاس میں لارڈ ماؤنٹ اور اس کی با ر ٹیم، قائد اعظم ان کی ٹیم اور جواہر لال نہرو اور اس کی ٹیم نے شرکت کی۔ جبکہ سکھوں کی طرف سے بلدیو سنگھ اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ لارڈ ماؤنٹ نے ان رہنماؤں کے سامنے اپنا منصوبہ پیش کیا۔ 3 جون 1947ء کو آل انڈیا کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں نے اصولی طور پر اس منصوبے کو منظور کر لیا۔ اسی روز شام کو آل انڈیا ریڈیو پر لارڈماؤنٹ نے ہر میجسٹی گورنمنٹ کی طرف سے اپنے منصوبے کا اعلان کیا۔ یہ وہ دن تھا جس روز سورج قیام پاکستان کی نوید لے کر طلوع ہوا تھا۔ 9 جون 1947ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا اور کافی غور کے بعد 3 جون کو منصوبہ As a basis for compromise کے طور پر منظور کر لیا گیا۔ اور یہ بامر مجبوری کیا کیونکہ یہ بات دستاویزات سے ثابت ہو چکی ہے کہ اگر مسلم لیگ ایسانہ کرتی تو انگریز حکومت کا نگریس کے حوالے کر کے یہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لیتی۔ اور مسلمان ہندؤوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جاتے۔ اس کے فوراً بعد آل انڈیا کانگریس نے بھی مذکورہ منصوبے کی منظوری کا اعلان کیا۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا۔
