پاکستان کا ابتدائی تصور | نظریۂ پاکستان اور قیام کی بنیاد

:جون 1928ء کو مولا نا عبد الماجد دریا بادی رحمہ اللہ کی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی۔ تو حضرت تھانوی فرمانے لگے

جی یوں چاہتا ہے کہ ایک خطہ پر خالص اسلامی حکومت ہو ، سارے قوانین و تعزیرات وغیرہ کا اجراء احکام شریعت کے مطابق ہو، بیت المال کا نظام قائم ہو ، نظام زکوۃ رائج ہو ، شرعی عدالتیں قائم ہوں۔ مسلمانوں کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے ، دوسری قوموں کے ساتھ مل کر یہ نتائج کہاں حاصل ہو سکتے ہیں ؟“

تعمیر پاکستان، از منشی عبدالرحمان – ص 35

پاکستان کا ابتدائی تصور | نظریۂ پاکستان اور قیام کی بنیاد

:تاریخی حقیقت و صداقت

پاکستان کا ابتدائی تصور اور اس کے شرعی خدو خال در حقیقت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے پیش کردہ ہیں۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی مرحوم نے اپنی کتاب ”حکیم الامت“ میں لکھا ہے

پاکستان کا تخیل ، خالص اسلامی ریاست کا خیال، سب آوازیں بعد کی ہیں، پہلے پہلے اس قسم کی آوازیں یہیں تھانہ بھون میں کانوں میں پڑیں۔“

حکیم الامت ، از عبد الماجد دریا بادی- ص 33

اسی طرح ” نقوش و تاثرات اور اسعد الابرار “ میں بھی قریباً قریباً یہی بات درج ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے پیش کردہ تصور کے کچھ عرصہ بعد 29 دسمبر 1930ء کو علامہ محمد اقبال نے الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں خطبہ صدارت کے دوران اس تصور کو مزید واضح کر کے ظاہر فرمایا۔

:مسلم لیگ کی حمایت

قائد اعظم کی جماعت مسلم لیگ کو ضرورت تھی کہ علماء کرام اس کے حق میں آواز بلند کریں۔ اور حصول ریاست کے لیے انتھک محنت کریں۔ چنانچہ 10 فروری 1938ء کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے مسلم لیگ کی حمایت میں ایک تفصیلی فتوی (جو تنظیم المسلمین کے نام سے شائع ہو چکا ہے ) جاری فرمایا۔

جبکہ اس سے پہلے دو قومی نظریے کی حمایت جھانسی الیکشن میں فرما چکے تھے۔

:جھانسی الیکشن میں حمایت کے مضمرات

جھانسی الیکشن پہلا الیکشن تھا جو مسلم لیگ کا نگریس نے علیحدہ ہو کر لڑنا تھا۔ اس لیے حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اس کی حمایت فرمائی۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ جب تک مسلم لیگ ؛ کانگریس کے ساتھ رہی حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے ان کی حمایت نہیں فرمائی۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ شروع ہی سے بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست اور الگ تنظیم کے حق میں تھے بلکہ اس کے زبردست محرک تھے۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اسی فکر و نظر کو بعد میں دو قومی نظریہ کا نام دیا گیا۔ گویا بر صغیر میں پاکستان کی داغ بیل ڈالنے اور الگ آزاد مسلم ریاست کے لیے راہ ہموار کرنے والے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی اور آپ کے رفقاء کار ہیں۔

:حضرت تھانوی کو اجلاس میں دعوت

23 اپریل 1943ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کا انعقاد ہونا تھا جس میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ دعوت نامے میں استدعا کی گئی کہ آپ اس موقع پر تشریف لا کر اپنے ارشادات سے مجلس کو ہدایت فرمائیں تو بہتر ہے لیکن اگر حضور تشریف نہ لا سکیں تو اپنے نمائندے کو بھیج کر مشکور فرمائیں اور دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی اس اجتماع کے رعب سے غیر مسلموں کے دلوں کو مسحور کر دے اور ہمارا مطالبہ پاکستان منوادے تاکہ اسلامی سلطنت قائم ہو سکے۔

خاتمه السوانح ، از عزیز الحسن مجذوب ، ص 171)

:حضرت تھانوی کا مسلم لیگ کے نام خط

بخدمت ارکان مسلم لیگ نصر هم الله وانصرهم الله

السلام علیکم

لیگ کے عزائم معلوم کر کے اس آیت پر عمل کی توفیق ہوئی: قل بفضل الله وبرحمته فبذالك فلیفرحوا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عذر نہ ہوتا تو اس آیت پر عمل کرتا: انفروا خفافاً وثقالا ۔ لیکن عذر کے سبب اس رخصت پر عمل کی اجازت مل گئی : ليس على الضعفاء ولا على المرضى ولا على الذين لا يجدون ما ينفقون۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس آیت کا شرف حاصل ہو گیا۔ اپنی دو کتابوں کا پتہ دیتا ہوں ، جو ان شاء اللہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے پیام عمل ہے ایک حیوۃ المسلمین، شخصی اصلاح کے لیے دوسری صیانۃ المسلمین جمہوری نظام کے لیے نمائندہ وہ کام نہیں کر سکتا جو یہ کتابیں کر سکتی ہیں مگر شرط عمل ہے۔

جیسے اعلیٰ درجے کا اء اللحم بوتلوں میں بھرا قیمتی ہے مگر نتیجہ خیز نہیں، یہ نفع اس وقت ظاہر ہو گا جب حلق سے اترے گا، ورنہ بدون عمل یہ سب کو ششیں اس کا مصداق ہوں گی کہ نشستند و گفتند و برخاستند باقی دعاء هر حال میں خصوصا ان تاریخوں میں زیادہ اہتمام سے جاری رکھوں گا۔

:حضرت تھانوی؛ قائد اعظم کی نگاہ میں

قائد اعظم کے دل میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی بہت قدر و منزلت تھی، جس پر کئی تاریخی واقعات موجود ہیں۔

قائد اعظم فرماتے ہیں  : ” مسلم لیگ کے ساتھ ایک بہت بڑا عالم ہے جس کا علم و تقدس اگر ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے میں تمام علماء کا علم و تقدس رکھا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہو گا اور وہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ہیں جو ایک چھوٹے سے قصبہ میں رہتے ہیں مسلم لیگ کو ان کی حمایت کافی ہے اور کوئی موافقت کرے یا نہ کرے ہمیں پر واہ نہیں۔“

حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد مجلس دعوۃ الحق بمبئی کے پانچ ممبر ان خانقاہ تھانہ بھون تعزیت کی غرض سے تشریف لائے ، وہ بتاتے ہیں:  ”ہم لوگ کچھ تبلیغ کے سلسلے میں قائد اعظم صاحب کے پاس گئے تھے دوران گفتگو قائد اعظم نے بڑے جوش سے فرمایا اس قریب زمانہ میں ہندوستان میں سب سے بڑا عالم کون گزرا ہے ؟“ ہمارے ذہن میں حضرت ( تھانوی رحمہ اللہ ) تھے ، مگر ہم نے سوچا کہ نہ معلوم ان کے ذہن میں کون ہے ؟

اس لیے ہم نے قائد اعظم ہی سے دریافت کیا کہ آپ ہی بتائیے؟ اس پر قائد اعظم اٹھ کر دوسرے کمرےمیں گئے اور ایک فائل لا کر کھول کر دکھلایا کہ ” آپ لوگ پہچانتے ہیں کہ یہ تحریر کس کی ہے ؟“ ہم سب نے حضرت کی تحریر پہچان کر کہا کہ یہ تحریر تو حضرت ( حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی ہے۔ اس پر قائد اعظم نے بڑے جوش سے کہا کہ ”ہاں ! اور یہی شخص اس زمانہ کا سب سے بڑا عالم گزرا ہے اور بہت سے کلمات حضرت کی تعریف میں کہے۔“

(بحوالہ تعمیر پاکستان، از منشی عبدالرحمان۔ ص 73)

مولانا شبیر علی تھانوی قائد اعظم محمد علی جناح سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے قائد اعظم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ میں بے چوں چراں آپ کا کہا مانوں تو میں تیار ہوں آج تک تو میں آپ سے سمجھنے کے لیے بحث بھی کیا کرتا تھا۔ لیکن آج کے بعد میں خاموش بیٹھ کر سنوں گا اور مذہبی معاملات میں جو ہدایات آپ دیں گے ان کو تسلیم کروں گا کیونکہ مجھے حضرت تھانوی پر پورا پورا اعتماد ہے کہ مذہبی معاملات میں ان کا پایہ بہت بلند ہے اور ان کی رائے درست ہوتی ہے۔“

روئید اد از مولانا شبیر علی تھانوی ص 10

:نواب جمشید علی خان کا تجزیہ

نواب جمشید علی خان قائد اعظم کو ” یار غار ، تصور کرتے تھے۔ عموماً موسم سرما میں اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح کے ہمراہ نواب صاحب کے ہاں باغ پت میں تشریف لے جایا کرتے۔ نواب صاحب اپنے ایک مکتوب مورخہ 4 اپریل 1955 میں لکھتے ہیں: ” یہ بالکل حقیقت ہے کہ قائد اعظم کی تمام تر دینی تربیت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا فیضان تھا اور ان کا اسلامی شعور حضرت والا ( حضرت تھانوی رحمہ اللہ ) کی بدولت تھا۔ مولوی شبیر علی صاحب نے قائد اعظم کو حضرت والا کے قریب لانے میں بڑا کام کیا۔“

اپنے اسی مکتوب میں چند سطور کے بعد لکھتے ہیں کہ قائد اعظم باغ پت کے دوران قیام میں حضرت والا کا بہت خلوص اور ادب سے تذکرہ فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ قائد اعظم کو تھانہ بھون حاضر ہونے کا انتہائی شوق تھا لیکن افسوس چند در چند وجوہات کی بناء پر ان کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکی۔“

متعلقہ فتاویٰ