متونِ احادیث کی کتب کے مطالعہ کا آسان طریقہ (4)
جب طالبِ علم حدیث کی بنیادی اور وسیع ذخیرۂ کتب یعنی کتبِ ستہ، مسانید، زوائد اور مصنفات کے مطالعہ سے گزر جائے اور ان مصادرِ حدیث سے مناسبت و انسیت حاصل کر لے، تو علمی شاہراہ کے چوتھے پڑاؤ میں اس کے لیے یہ طرزِ عمل زیادہ موزوں اور نافع ہے کہ وہ اپنی توجہ "کتبِ اطراف ” جیسے تحفۃ الأشراف از امام مزی رحمہ اللہ،اتحاف المہرۃ از حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ وغیرہ ، اور "کتبِ جوامع "جیسے الجامع الصغیر از امام سیوطی رحمہ اللہ اور کنزالعمال از شیخ علی متقی رحمہ اللہ وغیرہ کے مندرجات پر ایک نظر ڈال لے، مقصود یہ ہو کہ ان کتب میں مذکور مصادرِ حدیث کا جائزہ لےجو کتب اس کے مطالعہ سے پہلے گزر چکی ہیں ان کے بارے میں اطمینان حاصل کرلے، اور جو ابھی تک اس کے دائرۂ مطالعہ میں داخل نہیں ہوئیں انہیں اپنے مطالعاتی منصوبے کا حصہ بنا لے۔۔۔۔۔
مزید توضیح یہ ہے کہ مثال کے طور پر حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مایۂ ناز تصنیف اتحاف المہرۃ کو دیکھےجس میں انہوں نے متعدد اہم حدیثی مصادر کے اطراف کو جمع فرمایا ہے، جن کے نام درج ذیل ہیں:
موطأ امام مالک، مسند امام شافعی، مسند امام احمد، سنن امام دارمی، المنتقی لابن جارود، صحیح ابن خزیمہ، مستخرج ابی عوانہ، شرح معانی الآثار للطحاوی، صحیح ابن حبان، سنن دارقطنی اور مستدرک حاکم
اب ان مصادر میں جو کتابیں اس کے زیرِ مطالعہ آ چکی ہیں مثلاً مسند احمد ،مستخرج ابی عوانہ ، ان کے اعادۂ مطالعہ کی ضرورت نہیں کیونکہ ان سے ایک درجہ کی علمی واقفیت پہلے حاصل ہو چکی ہے۔ البتہ وہ کتب جو ابھی تک اس کے علمی سفر میں شامل نہیں ہو سکی جیسے مسند امام شافعی، المنتقی لابن جارود، صحیح ابن خزیمہ اور دیگر مصادر، انہیں اپنے مطالعہ میں لائے ۔۔۔۔
اسی طرح الجامع الصغیر کے مصادرِ حدیث پر ایک نظرڈالے،امام سیوطی رحمہ اللہ نے اس کتاب کی ترتیب میں متعدد عظیم حدیثی مصادر سےاستفادہ کیا ہے،ان میں کتبِ ستہ، الادب المفرد، صحیح ابن حبان، معاجمِ ثلاثہ از امام طبرانی، شعب الإیمان اور سننِ امام بیہقی وغیرہ شامل ہیں۔
اب ان مصادر میں سے جو کتب اس کے مطالعہ سے پہلے ہی گزر چکی ہیں مثلاً کتبِ ستہ ،معاجمِ ثلاثہ ان کے اعادۂ مطالعہ کی حاجت نہیں البتہ وہ مصادر جو ابھی اس کے دائرۂ مطالعہ میں شامل نہیں ہو سکے جیسے الادب المفرد ،شعب الإیمان، انہیں اپنے علمی سفر کا حصہ بنائےتاکہ اس کا مطالعہ مزید جامع، مربوط اور ہمہ گیر صورت اختیار کر لے۔۔۔۔
متونِ احادیث کے مطالعہ میں تدریج اور توسّع کے بعد طالبِ علم کے لیے مناسب ہے کہ وہ ان عظیم جوامعِ حدیث کی طرف رجوع کرے جن میں مختلف مسانید، سنن، معاجم اور حدیثی ذخائر کو یکجا کرنے کی نہایت وقیع اور محنت طلب کوشش کی گئی ہے۔ چنانچہ جامع المسانید امام ابن الجوزی، جامع المسانيد والسنن الهادی لأقوم سنن امام ابن کثیر، الجامع الصغیر اور الجامع الکبیر امام سیوطی، اور کنز العمال امام علی متقی ہندی وغیرہ کا مطالعہ کرے۔ یہ کتب محض حدیثی مجموعے نہیں بلکہ ایک ایسے علمی خزانے کی حیثیت رکھتی ہیں جن کے ذریعے طالبِ علم کو متفرق حدیثی مصادر تک رسائی، مختلف طرق و اسانید سے واقفیت، اور ذخیرۂ حدیث کے وسعت آمیز افقوں کا ادراک حاصل ہوگا۔
اسی کے ساتھ معاصر اہلِ علم کی ان علمی کاوشوں سے بھی استفادہ کرےجن میں متفرق حدیثی ذخائر کو جدید اسلوبِ تحقیق و ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہےمثلاً المسند المصنف المعلل اور المسند الجامع جو شیخ بشار عواد معروف اور ان کے رفقاء کی محنتِ شاقہ کا نتیجہ ہیں، الکامل فی السنن از شیخ عامر حسینی، الجامع الصحیح للسنن والمسانید از صہیب عبدالجبار، اور المدونۃ الجامعۃ جو دارالعلوم کراچی کے اساتذہ کی ایک علمی کاوش ہے، ان سب پر بھی نظر ڈالنا نہایت مفید ہوگا۔
اختتامِ مضمون پر دعا ہے کہ پیارے کریم اللہ اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،بندہ اور قارئین کے لیے نافع بنائے،اور متون احادیث کی کتب کے مطالعہ کا ذوق وشوق نصیب فرمائے،آمین
نزلها جماعةٌ من الصحابة ، كابن مسعودٍ ، و عمّار بن ياسرٍ ، و عليّ بن أبي طالبٍ رضي الله عنهم ، و خلقٍ من الصحابة .
ثم كان بها من التابعين كعلقمة ، و مسروقٍ ، و عبيدة ، و الأسود . ثم الشعبيّ ، و النخعيّ ، و الحكم بين عتيبة ، و حمّاد ، و أبي إسحاق ، و منصورٍ ، و الإعمش ، و أصحابهم .
16ذوالحجہ 1447ھ
