🎯 تبلیغی جدوجہد کے سو سال
(20 اکتوبر 1926ء ـــ 20 اکتوبر 2026ء)

ایک صدی کی دعوت، فکرِ امت اور اخلاص کی محنت

3 مارچ 1924ء کو خلافتِ عثمانیہ کا چراغ بجھ گیا، وہ خلافت جو صدیوں تک امتِ مسلمہ کے اجتماعی نظم اور باہمی ربط کی ظاہری علامت رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی امت ایک ایسے دور میں داخل ہوئی جہاں سہارے کم تھے اور سوالات زیادہ۔
اس خلافت کے بچاؤ کے لئے اکابرِ امت و مسلمانانِ ملت نے مختلف تحریکات و خدمات سر انجام دیں جو تاریخ کے صفحات میں مرقوم ہیں، سو امت مسلمہ کو "کلمہ طیبہ کی لڑی” سے جوڑنے والی خلافت کے خاتمہ کے بعد اکابرین امت فکر مند ہوئے کہ کیسے اس "عروة الوثقی” سے رابطہ رہے، اگرچہ سرکار نہ رہی مگر دعوتِ دین اور علومِ نبوت کا فروغ تو اس کے بغیر بھی ممکن ہے، سو دارالعلوم دیوبند کے اکابرین نے بھی عوام الناس کی اصلاح و تربیت کے لئے "شعبہ دعوت و تبلیغ” قائم کیا جس کے تحت مختلف علمائے کرام کی مختلف شہروں میں تشکیل جاتی تھی جیسا کہ مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے، دوسری طرف تھانہ بھون میں حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بھی "صيانة المسلمین” کے نام سے عوام الناس میں دینی آگہی کا سلسلہ شروع کیا، انہی ایام میں مختلف اہل اللہ و اہل قلب نے امت کی تربیتِ افکار و اصلاحِ احوال کے لئے سوچ و بچار کیا، انہی بکھرتے ہوئے حالات میں ایک درویش صفت داعی کے دل میں امت کی فکر نے کروٹ لی، وہ بے چین و بے قرار ہوئے اور انہوں نے تھوڑے عرصہ میں پورے برصغیر کی کایا پلٹ دی، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ (جس کو دنیا نے مجدد التبلیغ کا لقب بھی دیا) نے مسلمانوں کی دینی حالت پر تڑپتے ہوئے ایک ایسی محنت کی بنیاد رکھی جس کی اساس کلمہ طیبہ، اصلاحِ ایمان، نماز کی پابندی اور دین کے بنیادی اعمال کی فکر تھی، مقصد یہ تھا کہ عام مسلمان دین سے جڑے، اپنی اصلاح کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرے اور پھر خود دوسروں کی دینی فکر کرنے والا بن جائے، آپ فرماتے تھے کہ "ہماری محنت کا ابتدائی عنوان کلمہ و نماز ہے مگر اس کے ذریعہ پورے دین کا احیاء مقصود ہے۔” …. آپ فرماتے تھے کہ "رسول اللہ ﷺ امت کو دین کی جس سطح پر چھوڑ گئے، اس پر پھر سے امت کو لانا ہے۔”
آپ کا یہ ارشاد معروف ہے کہ "ہماری اس جدوجہد کا مقصد احیاء بجمیع ماجاء به النبی ﷺ ہے۔”
آپ کی پیدائش 1303ھ (1885ء) میں حضرت مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کے گھر ہوئی، آپ کی والدہ "صفیہ” خاتون ایک دیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، انہوں نے شادی کے بعد اپنے بڑے بیٹے حضرت مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ کی شیر خوارگی کے زمانے میں حفظ قرآن کیا اور ایسا اچھا یاد کیا کہ معمولی حافظ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا، آپ کی نانی "أمة الرحمن” خاتون جو حضرت مولانا مظفر حسین صاحب رحمہ اللہ (جو حضرت مفتی الہی بخش رحمہ اللہ ـــ تلمیذ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمہ اللہ ـــ کے بھتیجے ہیں اور حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں، ان) کی صاحبزادی تھیں اور خاندان میں "امی بی” کے نام سے معروف تھیں، رابعہ سیرت خاتون تھیں، ان کی نماز حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ (ولادت : 10 مئی 1829ء ــــ وفات : 11 اگست 1905ء) کی نماز کا نمونہ تھی، وہ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے طبقہ میں ممتاز شمار ہوتی تھیں، مرشدی عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب رحمہ اللہ سے یہ قصہ سنا ہے کہ انگریزی تہذیب کے اثرات اور ہندوانہ رسموں کے شیوع کے سبب مسلمانانِ ہند بہت فکر مند تھے، چنانچہ ایک جگہ تقریب تھی تو وہاں خواتین میں یہ بات چلی کہ کیسے ان اثرات کا ازالہ ہو، مختلف باتیں سامنے آئیں، ایک رائے یہ آئی کہ کوئی اپنی بیٹی کا کسی نیک صالح عالم سے رشتہ کروائے اور وہ جوڑا امت کی اصلاح کے لئے فکر کرے، چنانچہ امی بی نے اسی تقریب میں مردوں کے ہاں پیغام بھیجا کہ کوئی صالح و عالم مرد ہو تو اس سے میری بیٹی کا رشتہ کروایا جائے، اور وہیں پر مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ سے صفیہ بی بی کا رشتہ ہوا (آپ کی پہلی بیوی کا وصال ہوچکا تھا جس سے ایک بیٹا مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ تھے، یہ آپ کا عقد ثانی تھا جو [24 یا 26] جمادی الأخرى 1285ھ بمطابق 13 اکتوبر 1868ء میں ہوا، ابھی دارالعلوم دیوبند کو قائم ہوئے تقریبا دو ڈھائی سال ہی ہوئے تھے) خیر ! اس رشتہ کی برکت سے یہ نسل چلی جس نے پورے برصغیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا (یہ قصہ مختصر لکھا ہے، تفصیل دوسری جگہ مراجعت کی جائے) چنانچہ اس رشتہ کے بعد ان کے دو بیٹے ہوئے :

🎯 تبلیغی جدوجہد کے سو سال
(20 اکتوبر 1926ء ـــ 20 اکتوبر 2026ء)

نوٹ: بعض انگریزی تاریخ کو کنورٹر کے ذریعہ نکالا گیا ہے، مختلف تقویم میں ایک دو دن کا آگے پیچھے فرق ہوسکتا ہے۔

متعلقہ فتاویٰ