رمضان کے متعدد روزوں کے کفاروں میں تداخل کا بیان
ایک آدمی نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا ،پھر اس کے بعد کھا پی کے باقاعدہ روزہ توڑا،اسی طرح اگلے سال پھر جماع سے یا کسی اور چیز سے اس نے روزہ توڑا، اب ان دونوں روزوں کے کفاروں میں تداخل ہو گا یا نہیں؟
الجواب
رمضان کے متعدد روزوں کے کفاروں میں تداخل کا بیان
: اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ قصدا بلاعذرتوڑ دے تو اس پر کفارہ واجب ہے- پھر بلاعذر روزہ توڑنے کی دو صورتیں ہیں
روزہ کھانے پینے سے توڑے
جماع سے توڑے
اگر کسی نے رمضان کےمتعدد روزے قصدا بلاعذر توڑے ہو تو اگر پہلی صورت ہو یعنی متعدد روزے قصدا بلاعذر کھانے پینے سے توڑے تو ان کے کفاروں میں تداخل ہوگا، یعنی سب روزوں کی طرف سے ایک کفارہ کافی ہو جائے گا، چاہے ایک رمضان کے روزے ہو یا الگ الگ،البتہ اگر کفارہ ادا کرنے کے بعد کوئی روزہ عمدا توڑا تو اس کے لئے الگ کفارہ ادا کرنا ہو گا اگرچہ ایک ہی رمضان کے روزے ہو
اگر دوسری صورت ہو یعنی رمضان کے متعد روزے قصدا جماع سے توڑے ہو تو اگر ایک ہی رمضان کے متعدد روزے ہو تو ان میں تداخل ہوگا –البتہ اگر متعدد رمضانوں میں جماع سے قصدا متعدد روزے توڑے ہو تو ان میں تداخل نہیں ہوگا بلکہ ہر روزے کے لئے علیحدہ کفارہ ادا کرنا ہو گا
تداخل کا مطلب یہ ہے کہ کئی روزوں کا ایک ہی کفارہ کافی ہوگا
ولو جامع في رمضان متعمدا مرارا، بأن جامع في يوم، ثم جامع في اليوم الثاني، ثم في الثالث، ولم يكفر، فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، وعند الشافعي عليه لكل يوم كفارة، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، وروى زفر عن أبي حنيفة أنه ليس عليه كفارة أخرى، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية.
وذكر محمد في الكيسانيات أن عليه كفارة واحدة وكذا حكى الطحاوي عن أبي حنيفة.
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:2/ 101)
ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة، ولو في رمضانين عند محمد، وعليه الاعتماد بزازية ومجتبى وغيرهما ،واختار بعضهم للفتوى أن الفطر بغير الجماع تداخل ،وإلا لا.( الدر المختار: 2/ 413)
(قوله: وعليه الاعتماد) نقله في البحر عن الأسرار، ونقل قبله عن الجوهرة لو جامع في رمضانين فعليه كفارتان وإن لم يكفر للأولى في ظاهر الرواية وهو الصحيح. اهـ.قلت: فقد اختلف الترجيح كما ترى ويتقوى الثاني بأنه ظاهر الرواية. (رد المحتار:2/ 413)
