کسی بستی میں جمعہ کی قیام کے لیے شرائط

    مفتی صاحب! ہمارا اپنے علاقے میں جمعہ کی نماز شروع کرنے کا ارادہ ہے-کسی علاقہ میں جمعہ کی قیام کے لیے کیا شرائط ہیں؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں-

الجواب

            جمعہ  کی قیام کے جواز کے لیے شہر یا قریہ کبیرہ کا ہونا ضروری ہے اور شہر یا قریہ کبیرہ کی فقہاء کرام نےدرج ذیل نمایاں علامات بیان کی ہیں:

پختہ سڑکیں اور گلیاں ہوں۔

اکثر مکانات پختہ ہوں۔

دورویہ دکانیں ہوں

روز مرہ ضروریات کی تمام اشیاء مہیا ہوں۔

مظلوم کو انصاف دلانے کے لئے کوئی نظام ہو۔

جس شہر یا بستی میں یہ نمایاں علامات موجود ہوں اور وہاں کے لوگ اس کو شہر سمجھتے بھی ہوں تووہاں  جمعہ قائم کرنا جائز ہوگا اور جس بستی میں شہر ہونے کی نمایاں علامات نہ ہوں اور وہاں کے لوگ اس بستی کو شہر نہ سمجھتے ہوںوہاں جمعہ قائم کرنا جائز نہیں ۔

وأما بيان شرائط الجمعة.فللجمعة شرائط، بعضها يرجع إلى المصلي، وبعضها يرجع إلى غيره…… وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:1/ 258)

وسئل أبو القاسم الصفار عن حد المصر الذي تجوز فيه الجمعة فقال: أن تكون لهم منعة لو جاءهم عدو قدروا على دفعه فحينئذ جاز أن يمصر وتمصره أن ينصب فيه حاكم عدل يجري فيه حكما من الأحكام، وهو أن يتقدم إليه خصمان فيحكم بينهما.

وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:1/ 260)

 (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر) ………الخ

(تنويرالأبصارمع رد المحتارعلى الدر المختار) (2/ 137-151)

والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ إلا أن صاحب الهداية ترك ذكر السكك والرساتيق لأن الغالب أن الأمير والقاضي الذي شأنه القدرة على تنفيذ الأحكام وإقامة الحدود لا يكون إلا في بلد كذلك. اهـ. (رد المحتار مع الدر المختار:2/ 137)

متعلقہ فتاویٰ