آن لائن آیت سجدہ سننےپر سجدہ تلاوت اور سلام سننے پر جواب کا حکم
ریڈیو، ٹی وی یا موبائل پر آن لائن آیت سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے یا نہیں؟
اوراگر کوئی آن لائن سلام کریں تو اس کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں؟
الجواب
آن لائن آیت سجدہ سننےپر سجدہ تلاوت اور سلام سننے پر جواب کا حکم
ریڈیو ٹی وی یا موبائل پر اگر تلاوت کرنے والے کی آواز براہ راست سنائی دے رہی ہو تو آیت سجدہ سننے سے سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے اور اگر پہلے سے ریکارڈشدہ آواز ہو تو سجدہ واجب نہیں ہوگا
سلام کا جواب ہر حال میں واجب ہے چاہے سلام کرنے والے کی آواز براہ راست سنائی دے رہی ہو یا پہلے سے ریکارڈشدہ آواز ہو ،اس لیے کہ سلام کے جواب کے لئے سلام کہنے والے کو براہ راست سننا ضروری نہیں بلکہ محض سلام کہنے والے کا سلام پہنچنا کافی ہے(اسی وجہ سے خط میں بھیجے گئے سلام کا یا کسی کے واسطے زبانی بھیجے گئے سلام کا جواب دینا بھی واجب ہے) لیکن یہ واجب کفائی ہے چنانچہ اگرسننے والوں میں سےکسی ایک نے بھی جواب دے دیا تو باقی لوگوں کے ذمہ جواب دینا واجب نہیں ۔
البتہ چونکہ اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ کسی ایک نے بھی جواب دیا ہے یا نہیں اس وجہ سے احتیاط اسی میں ہے کہ جب بھی ایسا سلام سنے تو جواب دے دے کیونکہ بالفرض اگر کسی نے جواب دے بھی دیا ہوتب بھی باقی لوگوں کے لیے جواب دینا مستحب ہے
وأما سبب وجوب السجدة فسبب وجوبها أحد شيئين: التلاوة، أو السماع كل واحد منهما على حاله موجب فيجب على التالي الأصم والسامع الذي لم يتل. (بدائع الصنائع:1/ 180)
وأما بيان من تجب عليه فكل من كان أهلا لوجوب الصلاة عليه إما أداء أو قضاء فهو من أهل وجوب السجدة عليه، ومن لا فلا؛ لأن السجدة جزء من أجزاء الصلاة فيشترط لوجوبها أهلية وجوب الصلاة من الإسلام والعقل والبلوغ والطهارة من الحيض والنفاس حتى لا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا، وتجب على المحدث والجنب، وكذا تجب على السامع بتلاوة هؤلاء إلا المجنون لعدم أهليته لانعدام التمييز كالسماع من الصدى كذا في البدائع والصدى ما يعارض الصوت في الأماكن الخالية. (البحر الرائق :2/ 129)
قال في شرح الشرعۃ: واعلم أنہم قالوا: إن السلام سنۃ، وإسماعہ مستحب وجوابہ: أي ردہ فرض کفایۃ وإسماع ردہ واجب، بحیث لو لم یسمعہ لا یسقط ہٰذا الفرض عن السامع حتی قیل: لو کان المسلم أصم یجب علی الراد أن یحرک شفتیہ ویریہ بحیث لو لم یکن أصم لسمعہ. (ردالمحتار مع الدر المختار (593/9:
قال الإِمام أبو سعد المتولي وغيره: إذا نادى إنسان إنساناً من خلف ستر أو حائط فقال: السلام عليك يا فلان، أو كتب كتاباً فيه: السلام عليك يا فلان، أو السلام على فلان، أو أرسل رسولاً وقال: سلّم على فلان، فبلغه الكتاب أو الرسول، وجب عليه أن يردّ السلام، وكذا ذكر الواحدي وغيره أيضاً أنه يجب على المكتوب إليه ردّ السلام إذا بلغه السلام.
(الأذكار للنووي : 247)
