! احکام شرعیہ کی علت و حکمت

الجواب بتوفیقِ اللّٰه تعالیٰ

آج کل لوگوں میں یہ مرض بہت عام ہے کہ جب کسی عمل کے بارے میں بتاؤ کہ شریعت میں یہ حکم موجود ہے کہ یہ کام کرو، یا یہ حکم ہے کہ فلاں کام مت کرو، تو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں چیز کو جو حرام قرار دیا گیا ہے ، یہ حرمت کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ اور سوال کرنے والے کا انداز میں بتاتا ہے کہ اگر ہمارے اس سوال کا معقول جواب ہمیں مل گیا اور ہماری عقل نے اس جواب کو تسلیم کر لیا تب تو ہم اس حکم شرعی کو مانیں گے ورنہ نہیں مانیں گے۔

دیکھیئے اللہ تعالی اپنی حکمت اور مصلحت سے اس کارخانہ عالم کا نظام چلا رہے ہیں تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارا یہ چھوٹا سا دماغ اس کی ساری حکمتوں اور مصلحتوں کا احاطہ کر لے، حالانکہ آج کے دور میں سائنس اتنی ترقی کے باجود اس چھوٹے سے دماغ کی بھی پوری تحقیق نہیں کر سکی اور یہ کہتی ہے کہ اس دماغ کا اکثر حصہ ایسا ہے جس کے بارے میں اب تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا عمل کیا ہے؟ ایسے دماغ کے ذریعہ تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالی کی ساری حکمتوں کا احاطہ کر لو کہ فلاں چیز کو کیوں حرام کیا ؟ اور فلاں چیز کو کیوں حلال کیا ؟ بات یہ ہے کہ اپنی حقیقت سے ناواقفیت اور دل میں اللہ تعالی کی عظمت کی کمی کے نتیجے میں اس قسم کے سوال ذہن میں آتے ہیں۔

جب یہ بات ذہن میں آ جائے کہ وحی الہی شروع ہی وہاں سے ہوتی ہے جہاں عقل کی پرواز ختم ہو جاتی ہے تو پھر وحی الہی کے ذریعہ قرآن وسنت میں جب کوئی حکم آ جائے اس کے بعد اس بنا پر اس حکم کو رد کرنا کہ صاحب اس حکم کا ریزن (Reason) میری سمجھ میں نہیں آتا احمقانہ فعل ہوگا ، اس واسطے کہ وحی کا حکم آیا ہی اس جگہ پر ہے جہاں ریزن کام نہیں دے رہی تھی ، اگر ریزن کام دے چکی ہوتی تو پھر وحی کے آنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

ایک حکم کے پیچھے جو حکمتیں ہیں اگر وہ ساری حکمتیں تمہاری عقل ادراک کر سکتی تھی تو پھر اللہ کو وحی کے ذریعہ اس کے حکم دینے کی چنداں حاجت نہیں تھی۔ آج ہمارے معاشرے میں جو گمراہی پھیلی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہر حکم میں حکمت تلاش کرو کہ اس کی حکمت اور مصلحت کیا ہے؟ اور اس کا عقلی قائدہ کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عقلی فائدہ نظر آئے گا تو کر لیں گے اور اگر فائدہ نظر نہیں آئے گا تو نہیں کریں گے، یہ کوئی دین ہے؟ کیا اس کا نام اتباع ہے؟ اتباع تو وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کر کے دکھائی اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کر کے دکھائی اور اللہ تعالی کو ان کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ قیامت تک کے لیے اس کو جاری کر دیا۔

اسی طرح یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ صحابه کرام حضور علیم سے کیسے سوال کرتے تھے؟ احکام کی حکمتوں کے بارے میں ؟

دین کے احکام کی حکمتوں کے بارے میں لوگ بکثرت سوالات کرتے ہیں کہ یہ فلاں چیز حرام کیوں ہے؟ فلاں چیز منع کیوں ہے؟ دین کے معاملے میں یہ کیوں ہے؟ ہمارے معاشرے میں یہ سوالات بہت پھیل گئے ہیں ، حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات پڑھوں گے تو یہ نظر آئے گا کہ حضور علیہ السلام سے صحابہ کرام سوالات کرتے تھے لیکن اس میں کیوں کا لفظ کہیں نہیں ملے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں یہ کیوں کر رہے ہیں ؟ یا یہ حرام کر رہے ہیں تو کیوں کر رہے ہیں؟

اب آپ کو ایک مثال دیتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سود حرام کیا ، یعنی قرضہ دے کر اس کے اوپر زیادہ پیسے لینا سود ہے ، قرآن نے اس کو حرام کہا اور کہا کہ جو یہ نہ چھوڑے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لے، اتنی زبردست وعید بیان فرمائی، اس کے بارے میں تو صحابہ کرام یہ سوال کیسے کرتے کہ یہ کیوں حرام ہے؟ یہاں تک کہ بعد میں جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سود کی حرمت کی طرف لے جانے والے کچھ معاملات کو بھی حرام کیا مثلاً ایک بات یہ حرام کی کہ اگر کوئی شخص گندم کو گندم سے بچ رہا ہے تو چاہے ایک طرف گندم اعلی درجہ کا ہو اور دوسری طرف معمولی درجہ کا ہو تب بھی دونوں کا برابر ہونا ضروری ہے ، اگر اعلی درجہ کا گندم دوسیر ہو ، اور ادنی درجہ کا گندم چار سیر ہو ، اور دونوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ فروخت کیا جائے تو اس کو بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حرام اور نا جائز فرمایا ، یا مثلاً اچھی کھجور ایک سیر اور خراب کھجور دو سیر، اگر آپس میں بیچی جائیں تو فرمایا کہ یہ بھی حرام ہے ۔

اب بظاہر تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب ایک اچھے درجے کا گندم ہے تو اس کی قیمت بھی زیادہ ہے ، اس کا فائدہ بھی زیادہ ہے اور جو ادنٰی درجے کا گندم ہے اس کی قیمت بھی کم ہے اور اس کا فائدہ بھی کم ہے تو اگر ادنی درجے کے دو سیر اور اعلی درجے کا ایک سیر ملا کر فروخت کیا جائے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ لیکن جب نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ گندم کی پیچ جب گندم سے ہو گی تو برابر سرابر ہونا چاہیے ، چاہے اعلی درجے کا ہو یا ادنی درجے کا ہو ، کسی ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سن کر نہیں فرمایا کہ یا رسول اللہ کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ جبکہ وہ اعلی اور یہ ادنی ہے، لفظِ ”کیوں“ کا سوال صحابہ کرام کے ہاں نہیں تھا، اس لیے کہ انہیں اللہ تعالی پر اور نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا بھروسہ تھا کہ جو کم ہی دے رہے ہیں وہ برحق ہے ، ہماری سمجھ میں آئے تو برحق ہے، نہ آئے تو بھی برحق ہے، ہمیں حکمت کے پیچھے پڑنے کی حاجت نہیں ، جب کہہ دیا کہ حرام ہے تو حرام ہے۔ یہ تھا صحابہ کرام کا طریقہ ، آج سب سے زیادہ ”کیوں“ کا سوال ہے ، آج جو گندم کی بات میں عرض کر رہا ہوں کسی کے سامنے عرض کر کے دیکھ لو، وہ چھوٹتے ہی یہ کہے گا کیوں؟ یہ کیوں نا جائز ہے؟ سب سے پہلے اس کا سوال یہی ہوگا ، اور اسے تو چھوڑو آج کل جو قرض والا اصل سود ہے اس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ یہ حرام کیوں ہے؟ بہر حال! کثرت سوال ایک بڑی بیماری ہے ، احکام شرعیہ کے بارے میں سوال کرنا کہ یہ کیوں ہے؟ یہ سوال ٹھیک نہیں، البتہ اگر کوئی شخص ویسے ہی اپنے زیادتی اطمینان کے لیے پوچھے تو چلو گوارا ہے ، لیکن اب تو باقاعدہ اس لیے پوچھا جاتا ہے کہ اگر ہماری سمجھ میں اس کی وجہ آگئی تو حرام سمجھیں گے اگر نہیں آئی تو حرام نہیں سمجھیں گے، اللہ بچائے، یہ بات انسان کو بعض اوقات کفر تک لے جاتی ہے، اللہ تعالی ہر مسلمان کو محفوظ رکھے، آمین۔
[اصلاحی خطبات، ج ۱۲، ص ۲۸۱،۲۸۰]

                

متعلقہ فتاویٰ