اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بحیثیت اسسٹینٹ لائبریرین ملازمت کا حکم
السوال
اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اسسٹینٹ لائبریرین کی نوکری کرنا حلال ہے یا حرام؟
الجواب
کسی بھی جگہ ملازمت کے جائز ہونے کے لئے دو شرائط ہیں:
1:ملازم جو کام کر رہا ہے وہ شرعا جائز ہو-
2: جس آمدنی سے اسے اجرت دی جا رہی وہ پوری یا کم از کم اس کا غالب حصہ حلال ہو-
چونکہ اسسٹینٹ لائبریرین کا کام شرعا جائز ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ،جو اسے اجرت دیتا ہے ،اس کی آمدنی کا غالب حصہ حلال ہے اس وجہ سے شرعا یہ ملازمت درست ہے- یاد رہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بنیادی طور پر حکومت کا بیت المال اور معاشی مشیر ہے-بینکوں کی نگرانی کے دوران اس کی کچھ آمدنی سود سے بھی حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے پاس ذیادہ تر اموال حلال ہوتے ہیں-
ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة وشرعا؛ لأن العقد لا يقع وسيلة إلى المعقود بدونه.
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:4/ 187)
وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما وكذا لو استأجر رجلا ليقتل له رجلا أو ليسجنه أو ليضربه ظلما وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلا يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا فإن كان ذلك بحق بأن استأجر إنسانا لقطع عضو جاز. )بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :4/ 189)
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية :5/ 342)
