مورث کی زندگی میں ورثہ کا تقسیم میراث کا مطالبہ کرنا

۔ایک شخص کے پاس پچاس لاکھ روپے ہو اور اولاد اپنے اپنے حصص کا مطالبہ کرے تو ان کا مطالبہ جائز ہوگا یا نہیں؟

۔مذکورہ صورت میں اگر اولاد میں سے کوئی والد صاحب کا کوئی خیال نہیں رکھتا اور اس کا رویہ بھی والد کے ساتھ اچھا نہ ہوتو اس کو اس کا حصہ نہ دینا جائز ہوگا یا نہیں؟

الجواب

            ۔ہر شخص زندگی میں صحت کی حالت میں اپنی جائیداد اوردیگر املاک کاتنہا مالک ہے،اس کی زندگی میں اس کےورثہ کا اس کے مال میں کوئی حق نہیں،اس لیےمذکورہ صورت

میں بیٹوں کا اپنے والد سےمطالبہ جائز نہیں۔البتہ والد اگر اپنی مرضی  سے یہ پیسے ان کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

            ۔والد اگر ان پیسوں کو زندگی میں ہی تقسیم کرتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ سب بیٹوں میں برابر تقسیم کرے اگر اولاد میں صرف بیٹے ہو،اگر بیٹیاں بھی ہو تو ان کو بھی بیٹوں کے برابر حصہ دیاجائے اسی طرح وراثت کی ترتیب سے بھی ہبہ کرسکتا ہے۔البتہ اگر والد اپنے کسی بیٹے کو نافرمانی کی وجہ سے بلکل محروم کرنا چاہے یا کسی معقول وجہ سے کسی کو زیادہ دینا چاہےتو ایسے کرسکتا ہے۔ بلاوجہ کسی کو محروم کرنا جائز نہیں۔

1۔وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة. ( رد المحتارمع الدر المختار:6/ 758)

2۔{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَي} [النساء: 11]

حدثنا سويد بن سعيد قال: حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن أبيه، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة»  (سنن ابن ماجه :2/ 902)

وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90] . (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:6/ 127)

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.( الدر المختار مع رد المحتار:5/ 696)

(قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي.( رد المحتارمع الدر المختار:5/ 696)

ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة.

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:6/ 127)

ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه، كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية :4/ 391)

متعلقہ فتاویٰ