میراث سے کسی وارث کو عاق کرنے کا حکم
اگرکوئی آدمی اپنی اولاد میں سے کسی کو اپنی جائیداد سے عاق کردے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس وارث کو میراث میں سے حصہ ملے گا؟
الجواب
زندگی میں انسان اپنی جائیداد میں جو تصرف کرنا چاہےکرسکتا ہے۔وہ کسی معقول شرعی عذر کی بنا پر اپنے بیٹے کو محروم کرکے کسی اور مصرف میں اپنا مال خرچ کرتا ہے یا کسی اور رشتہ دار کو دیکر قبضہ بھی کروادیتا ہے تو اس طرح اس کا بیٹا اس کے مال سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا،مگر یہ بات ملحوظ رہے کہ بلاوجہ کسی چھوٹی سی بات پر کسی وارث کو میراث سے محروم کرنا نہایت سنگین گناہ ہے،ایسا کرنے والے کو جنت سے محرومی کی وعید سنائی گئی ہے
لیکن اگر اپنی اولاد میں سے کسی کو مروجہ طریقے سےاپنی جائیداد سے عاق کرنے کی وصیت کرتا ہے یا عاق نامہ لکھ کر دیتا ہے تو یہ شرعا درست نہیں ہے اور نہ ہی شرعا اس کی کوئی حیثیت ہے،اگر کسی نےاس طریقے سے کسی کو عاق کر بھی دیا تو وہ میراث میں سے اپنے حصہ سے محروم نہیں ہوگا،بلکہ اس کو اپنا حصہ قاعدہ کے مطابق ملے گا۔
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَي} [النساء: 11]
حدثنا سويد بن سعيد قال: حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن أبيه، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» (سنن ابن ماجه :2/ 902)
الأرث جبري لايسقط بالإسقاط(تكملة رد المحتار:11/678)
ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه، كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية :4/ 391)
