بیٹےسے دفع مرض پر نذر کا حکم
ایک عورت کا بیٹا بیمار تھا اس نے نذر مانی کہ اگر میرا بیٹا ٹھیک ہوگیا تو میں روزانہ بارہ رکعت نفل پڑھوں گی بیٹا ٹھیک ہو گیا وہ عورت روزانہ نوافل پڑھتی رہی اب تقریبا پندرہ سال بعد بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے تو اب وہ عورت نوافل پڑھے گی یا نہیں؟اب وہ کمزور بھی ہوگئی ہے نوافل نہیں پڑھ سکتی تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب
بیٹےسے دفع مرض پر نذر کا حکم
صورت مسئولہ میں عورت کو جب تک قدرت ہے اس کے ذمہ زندگی بھر روزانہ بارہ رکعت نفل پڑھنا لازم ہے۔اگر کبھی عذر کی وجہ سے رہ جائے تو بعد میں قضاء لازم ہے،زندگی میں نفل کی ادائیگی کے سوا کوئی چارہ نہیں،اگرکھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتی تو بیٹھ کر پڑھے۔اگر یہ عورت زندگی میں ان نوافل کو ادا کرنے سے بالکل عاجز ہوگئی تو جتنے دن ان سے یہ نماز قضاء ہوئی ہےوفات سے پہلے اتنے دن ہر دو رکعت کے بدلےصدقہ فطر کے بقدر فدیے کی وصیت کریں کہ میرے ذمہ نذر کی اتنی نمازیں ہیں میرے مال سے ان کا فدیہ ادا کیا جائے۔اگر عورت کی وفات کے بعد فدیہ کی مقدار بہت زیادہ ہوگئی تو ورثہ کو چاہئے کہ حیلہ کے لئے اس وقت علماء سے رابطہ کریں۔
عن عائشة رضي الله عنها عن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال:”من نذر أن يطيع الله فليطعه، ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه”.( صحيح الإمام البخاري :4/ 187)
والخبر صريح في الأمر بوفاء النذر إذا كان في طاعة وفي النهي عن ترك الوفاء به إذا كان في معصية.( فتح الباري لابن حجر :11/ 582)
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم. )تنوير الأبصارمع رد المحتار:2/ 72)
ولو نذر صوم الأبد فأكل لعذر فدى. (الدر المختارمع رد المحتار:3/ 741)
(قوله فأكل لعذر) وكذا لدونه ح (قوله فدى) أي لكل يوم نصف صاع من بر أو صاعا من شعير وإن لم يقدر استغفر الله تعالى كما مر( رد المحتار مع الدر المختار:3/ 741) (والقراءة واجبة) ؛ أي لازمة بحيث يفوت الجواز بفوتها (في جميع ركعات النفل وفي جميع) ركعات (الوتر) قال في الهداية: أما النفل فلأن كل شفع منه صلاة على حدة، والقيام إلى الثالثة كتحريمة مبتدأة؛ ولهذا لا يجب بالتحريمة الأولى إلا ركعتان في المشهور عن أصحابنا. ومن هذا قالوا: يستفتح في الثالثة، وأما الوتر فللاحتياط. اهـ . )اللباب في شرح الكتاب :1/ 92)
