میرا پاکستان
تحریک آزادی، تصورِ آزادی اور قیامِ پاکستان کا تاریخی تناظر
صفحات 16 تا 19
بنیادی بات
پاکستان تحریکِ آزادی کی بدولت نعمتِ آزادی سے سرفراز ہوا۔ پاکستانی قوم کے نزدیک آزادی کا مفہوم مغربی تصورِ آزادی سے یکسر مختلف ہے۔ مغرب میں لبرلائزیشن کے تحت ہر فرد کو ہر قسم کی اخلاقی، دینی اور سماجی آزاد روی کا حق دیا جاتا ہے، جس میں خالقِ حقیقی کی بندگی اور رسولِ خدا ﷺ کی اطاعت سے انحراف بھی شامل ہے۔ یہ سوچ اسلامی اقدار اور ہماری ریاستی روایات کے منافی ہے۔ اسلام انسان کو غلامی سے نکال کر ایسی مکمل زندگی عطا کرتا ہے جس کا فائدہ اخروی زندگی میں بھی حاصل ہوتا ہے۔ آج ہمارے حکمران طبقے میں بھی یہ منفی لبرل سوچ سرایت کر رہی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کا مقصد غلبہِ دین تھا، نہ کہ اہل اسلام کو دین سے آزاد کرنا۔
شرعی نقطہ نظر سے
رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں میثاقِ مدینہ کی صورت میں پہلی باضابطہ آئینی دستاویز مرتب کی، جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو بنیاد بنایا گیا۔ اس نظام نے امن و انصاف کی ایسی فضا قائم کی جو آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہماری تحریکِ آزادی کا مقصد بھی اسی روح کے مطابق غلبہِ دین اور نفاذِ اسلام تھا، نہ کہ لبرل تصورِ آزادی۔
آزادی کا پس منظر
آزادی کی آبیاری ہمارے اسلاف کے خون اور قربانیوں سے ہوئی ہے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی منظم کوششیں کیں، جس کے جواب میں علماء نے دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ سہارنپور جیسے تعلیمی مراکز قائم کیے۔
تقسیمِ برصغیر کی المناک داستان
پاکستان ایک نعمتِ خداوندی ہے جو ایسے حالات میں ملی جب اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو مٹانے پر تلی ہوئی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے دوران قتل و غارت، لوٹ مار اور خواتین کی تذلیل کے المناک واقعات پیش آئے۔ مسلمانوں نے ہر طرح کی اذیتیں برداشت کیں کیونکہ وہ غلامی کو سوہانِ روح سمجھتے تھے۔
تقسیم ہند کا منصوبہ
برطانوی سامراج نے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت برصغیر کو لوٹا۔ جب حالات ناقابلِ برداشت ہو گئے تو انگریز یہاں سے نکلنے پر مجبور ہوا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے وائسرائے بن کر آنے کے بعد جب اختیارات کی منتقلی کا مرحلہ آیا، تو قائدِ اعظم نے ایک آزاد اور خود مختار پاکستان کا مطالبہ کیا جس میں سندھ، بلوچستان، سرحد، پنجاب، بنگال اور آسام شامل ہوں۔ کانگریسی لیڈروں نے تقسیمِ ہند کی مخالفت کی، لیکن آخرکار وائسرائے اس نتیجے پر پہنچے کہ متحدہ ہندوستان کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
