بھارت کی سازشیں، قومی اداروں کا کردار اور قیامِ پاکستان کے نظریاتی اہداف

پاکستان کو درپیش خارجی اور داخلی چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں حالیہ عرصہ میں بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کے لیے مختلف ڈیمز اور نہریں بنانے کی منصوبہ بندی کا باقاعدہ اعلان سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے عوام بالخصوص زراعت سے وابستہ طبقہ شدید مشکلات اور قلتِ آب کا شکار ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت پاکستان میں سی پیک کی وجہ سے آنے والے معاشی استحکام سے بھی شدید خوفزدہ ہے اور اسی بوکھلاہٹ میں وہ گھٹیا حرکات پر اترا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو غیر محفوظ ثابت کرنے کے لیے سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹے دعوے، ممبئی اور اڑی حملوں کا پروپیگنڈا، فضائی حدود اور سرحدی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں، اور مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کی شہادت جیسے اقدامات ایسے زمینی حقائق ہیں جو دنیا کے سامنے واضح ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ٹاسک پر مامور ہیں، جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

بھارت کی سازشیں، قومی اداروں کا کردار اور قیامِ پاکستان کے نظریاتی اہداف

ہمارے محافظ اداروں کا روشن کردار

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد اگر ہمارے محافظ اداروں کے نوجوان اور افواجِ پاکستان کے جری سپاہی اپنی جانوں کے نذرانے پیش نہ کرتے تو دشمن کب کا پاکستان کو تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کر چکا ہوتا۔ جہاں دشمن کی سنگ باری تکلیف دہ ہے، وہیں اپنوں کی بے جا تنقید اور گلہ باری زیادہ دکھ پہنچاتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کے اندر بھی کچھ عناصر دہشت گردی، فرقہ واریت، کرپشن اور لوٹ مار کے ذریعے پاکستان کو معاشی و اقتصادی طور پر کھوکھلا کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ عناصر سرکاری اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کر کے ملک کو اس کی اساسی بنیادوں سے دور کرنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں۔

نشانِ منزل اور 23 مارچ کی اہمیت

23 مارچ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو کہ ہمارے جداگانہ اسلامی تشخص کی بقا اور تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کا درس دیتا ہے اور ہمیں اس پیغام کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ اسلامی مملکت کی حفاظت اور استحکام کے لیے مسلسل جدوجہد لازم ہے۔ ہمیں قیامِ پاکستان کے اصل محرکات اور بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہئیں۔

علامہ عثمانی کی آزادیِ پاکستان میں جدوجہد

تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنما علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے مجاہدانہ کردار کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان کی پوری زندگی ملتِ اسلامیہ کی خدمت سے عبارت ہے۔ حصولِ پاکستان کی خواہش کے حوالے سے آپ نے 26 دسمبر 1945ء کو دارالعلوم دیوبند کے ایک تاریخی جلسے میں اپنی طویل علالت کے باوجود شرکت کی اور فرمایا کہ ملتِ اسلامیہ اس وقت جس نازک صورتحال سے دوچار ہے، اس نے مجھے بیماری کی حالت میں بھی میدانِ سیاست میں آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آپ نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اگر پاکستان کے حصول کے لیے میرے خون کی ضرورت پڑی تو میں اسے اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھوں گا، کیونکہ مسلمانوں کی بقا اور باعزت زندگی صرف قیامِ پاکستان سے ہی وابستہ ہے۔

مسلم لیگ کی حمایت کی علمی بنیاد

علامہ عثمانی کی جانب سے مسلم لیگ کی حمایت کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے کافی عرصہ غور و خوض، قرآن و سنت کا مطالعہ، استخارہ اور فقہ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے پر سوچا، جس کے بعد میرا شرحِ صدر ہوا۔ آپ نے حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ کی کتاب السیر الکبیر کی ایک تصریح سے رہنمائی حاصل کی اور مسلم لیگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ آپ کا موقف تھا کہ مسلم لیگ اگرچہ نقائص سے پاک نہیں، لیکن غیر مسلم قوموں کے مقابلے میں یہ کلمہ گو مسلمانوں کی جماعت ہے جو مسلمانوں کے سیاسی استقلال کی علامت ہے۔

پاکستان سے وابستہ امیدیں اور قائدِ اعظم پر اعتماد

علامہ عثمانی کا ماننا تھا کہ پاکستان کا قیام خلافتِ راشدہ کے نظام کی جانب پہلا ابتدائی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ نے اسے مسلمانوں کے لیے سفینہ نجات قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ سرزمین ہی حکومتِ الٰہیہ کے قیام کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر مکمل اعتماد تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مسٹر جناح سیاست کے داؤ پیچ سے مکمل واقف ہیں اور وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی دباؤ کے سامنے جھکایا جا سکتا ہے۔ یہ علامہ عثمانی کا خلوص اور بصیرت تھی جس نے تحریکِ پاکستان کو ایک مضبوط علمی و مذہبی سہارا فراہم کیا۔

علم • سوچ • عمل

متعلقہ فتاویٰ