سنن الترمذی پر تحقیقی کام :علمائے ہند اور مصر کی علمی کاوشیں :
جامع ترمذی کی اشاعت اور علمی خدمت کے سلسلے میں برصغیرِ ہند اور مصر کے اہلِ علم نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ہندوستان میں اس عظیم کتاب کی متعدد طباعتیں عمل میں آئیں۔ دہلی میں پہلی طباعت 1269ھ میں ہوئی، جس کے بعد 1270ھ اور 1328ھ میں بھی اس کی طباعت کی گئی۔ اسی طرح لکھنؤ میں جامع ترمذی 1310ھ اور 1317ھ میں طبع ہوئی۔ یہ طباعتیں اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ برصغیر کے اہلِ علم نے کتبِ حدیث، بالخصوص جامع ترمذی کی نشر و اشاعت اور علمی فروغ میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔مصر میں بھی جامع ترمذی کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1292ھ میں قاہرہ کے مطبع بولاق سے جامع ترمذی دو جلدوں میں شائع ہوئی۔(ماخوذ از مقدمۃالتحقیق للشیخ شعیب ارناؤوط) *(ب) شیخ احمد شاکر اور دیگر اہلِ علم کی تحقیق:* جامع ترمذی کی اہم اور قابلِ قدر تحقیقات میں ایک نمایاں مقام ابو الاشبال شیخ احمد محمد شاکرؒ کی علمی کاوش کو حاصل ہے، ان کے تحقیقی قلم سے اس عظیم مجموعۂ حدیث کا ایک حصہ نہایت محنت، دقتِ نظر اور علمی ذوق کے ساتھ منصۂ شہود پر آیا، تاہم یہ گراں قدر علمی منصوبہ اپنی تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ شیخ احمد شاکرؒ نے اس کی دو جلدیں شائع فرمائیں، جن میں ایک مفصل علمی مقدمہ اور ابواب الصلاۃ کے اختتام تک کی احادیث شامل ہیں۔ یہ تحقیق محض تصحیحِ نص تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ شرح و توضیح کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس سے اس کام کی علمی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔شیخ احمد شاکرؒ نے تحقیقِ کتاب کے لیے متعدد مخطوطات اور مطبوعہ نسخوں سے استفادہ کیا، تاہم شیخ محمد عابد سندیؒ کے نسخے پر ان کا خصوصی اعتماد تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقدمے میں صراحت کی ہے کہ کتاب کی تصحیح کے سلسلے میں یہی نسخہ ان کے لیے بنیادی ماخذ اور اصلِ اعتماد کی حیثیت رکھتا تھا۔شیخ احمد شاکرؒ کے بعد جامع ترمذی کی اس علمی خدمت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا فریضہ شیخ محمد فؤاد عبد الباقیؒ اور شیخ ابراہیم عطوہ عوضؒ نے انجام دیا۔ شیخ محمد فؤاد عبد الباقیؒ نے تیسری جلد میں کتاب الزکاۃ سے کتاب الأحکام تک کے حصے پر کام کیا۔ ان کی خدمت کا بنیادی دائرہ مختصر اور فنی انداز میں تخریجِ احادیث اور متعلقہ علمی امور کی تکمیل تھا؛ البتہ شیخ احمد شاکرؒ کی طرح مستقل شرح کا اہتمام ان کے حصے میں نہیں تھا۔اس کے بعد شیخ ابراہیم عطوہ عوض نے چوتھی اور پانچویں جلد میں کتاب الدیات سے اختتامِ کتاب تک کے حصے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے نصوص کی تحقیق، تصحیح اور مراجعت کو پیشِ نظر رکھا اور یوں شیخ احمد شاکرؒ کی شروع کردہ اس علمی کاوش کا باقی ماندہ حصہ بھی مکمل ہوگیا۔ *(ج)شیخ بشارعواد معروف کی تحقیق :* جامع ترمذی کی ایک اور تحقیق معروف محققِ حدیث شیخ دکتور بشار عواد معروف کے قلم سے منظرِ عام پر آئی، جسے معروف اشاعتی ادارے دار الغرب الإسلامي نے 1996ء میں چھ جلدوں میں شائع کیا ہے۔اس تحقیق کے آغاز میں ایک مفصل علمی مقدمہ شامل ہے، جس میں امام ترمذی رحمہ اللہ کے حالاتِ زندگی، علمی مقام و مرتبہ اور ان کی تصنیف سنن الترمذی کا مختلف جہات سے تعارف اور تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ محقق نے اپنے منہجِ تحقیق اور تحقیق کے لیے اختیار کیے گئے مصادر و مراجع کی بھی وضاحت کی ہے، نیز متعددقابل مطالعہ علمی فوائد کوبھی ساتھ ذکر کیا ہے۔احادیثِ مبارکہ کی تحقیق و تخریج میں مختلف کتبِ حدیث سے استفادہ کیا گیا ہے اور ہر حدیث کے مصادر کی حتی الامکان نشان دہی کی گئی ہے۔ اسی طرح جہاں ضرورت محسوس ہوئی، وہاں اسناد پر علمی و فنی گفتگو، رواۃ کے احوال، عللِ حدیث اور دیگر متعلقہ مباحث کو بھی واضح کیا گیا ہے۔اس تحقیق کی چھٹی اور آخری جلد میں متعدد نہایت مفید اور جامع علمی فہارس شامل کی گئی ہیں، جو کتاب سے استفادہ کرنے اور مطلوبہ مواد تک رسائی کو خاصا آسان بناتی ہیں۔ ان میں بالخصوص درج ذیل فہارس قابلِ ذکر ہیں:۔۔۔۔ فهرس أطراف الأحاديث والآثار — احادیث و آثار کے ابتدائی الفاظ کی فہرست۔۔۔ فهرس شيوخ المصنف — مصنف، یعنی امام ترمذی رحمہ اللہ کے شیوخ کی فہرست۔۔۔۔فهرس مسانيد الصحابة — صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مسانید کی فہرست۔۔۔۔ فهرس الرواة العام۔۔۔۔ فهرس كلام الترمذي في الرجال — رجال کے بارے میں امام ترمذی رحمہ اللہ کی گفتگو کی فہرست۔*(د) شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقائے علم کی تحقیق* :جامع ترمذی کی ایک نہایت قابلِ قدر علمی تحقیق شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقائے علم کی مشترکہ کاوش کے نتیجے میں منصۂ شہود پر آئی، جسے معروف اشاعتی ادارے دار الرسالة العالمية نے 2002ء میں چھ جلدوں میں شائع کیا۔اس تحقیق کے آغاز میں تقریباً 195 صفحات پر مشتمل ایک جامع اور وقیع علمی مقدمہ شامل ہے، جس میں امام ترمذی رحمہ اللہ کی حیات و سوانح، علمی مقام و مرتبہ اور سنن ترمذی کے مختلف علمی و تحقیقی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔محققین نے مختلف نسخوں کے باہمی تقابل کے ذریعے ان میں پائی جانے والی کمی و بیشی کی وضاحت کی ہے، نیز احادیثِ مبارکہ کی مختلف مصادرِ حدیث سے تخریج کی ہے۔ ہر حدیث کے صحت و ضعف کے اعتبار سے مناسب حکم بھی ذکر کیا گیا ہے، اور حسبِ موقع اسنادِ حدیث پر نہایت مفید اور دقیق علمی و فنی مباحث پیش کیے گئے ہیں۔کتاب کی آخری جلد میں احادیثِ مبارکہ کے مختلف اطراف و فہارس شامل کیے گئے ہیں۔ *(ہ) شیخ عصام موسیٰ ہادی کی تحقیق* :اس کتاب کی ایک اور تحقیقی کاوش شیخ عصام موسیٰ ہادی کے قلم سے معرض وجود میں آئی، جس میں چھ قلمی نسخوں سے استفادہ کرتے ہوئے کتاب کی تحقیق و تدوین کا اہتمام کیا گیا۔ یہ علمی کاوش معروف اشاعتی ادارے دار الصدیق کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔کتاب کے آغاز میں ایک جامع علمی مقدمہ پیش کیا گیا ہے، جس میں اپنے منھج تحقیق کے ساتھ مختلف مباحث کو ذکر کیا گیا ہے۔ تحقیق کے دوران مختلف قلمی نسخوں کے باہمی اختلافات کو سامنے لاتے ہوئے ان کی نشان دہی کی گئی ہے، تاکہ متن کی صحت اور ضبط میں زیادہ سے زیادہ دقت پیدا ہو سکے۔ مزید برآں، احادیثِ مبارکہ پر صحت و ضعف کے اعتبار سے حکم لگانے کے ساتھ ساتھ مختلف مصادر و مراجع سے ان کی تخریج بھی کی گئی ہے۔ *(و) دار التأصيل قاہرہ کی تحقیق و اشاعت:* اس کتاب کی ایک اہم، وقیع اور نہایت عمدہ تحقیق معروف علمی و تحقیقی ادارے دار التأصيل سے پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔جس کی دوسری طباعت 1437ھ بمطابق 2016م کو ہوئی ہے ، اس تحقیق کی ابتدا میں ایک مفصل «المقدمة العلمية» شامل کی گئی ہے، جو چار ابواب پر مشتمل ہے۔باب اول میں امام ترمذی رحمہ اللہ کی سوانح حیات کے مختلف گوشوں پر تفصیلی اور جامع گفتگو کی گئی ہے، جبکہ باب دوم میں سنن ترمذی کے مختلف علمی و تحقیقی پہلوؤں کا عمدگی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ باب ثالث میں اس کتاب کی سابقہ مختلف طبعات کا تعارف کرانے کے ساتھ موجودہ طبع کی امتیازی خصوصیات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ باب رابع میں منہجِ تحقیق کی وضاحت کرتے ہوئے تحقیق میں استعمال کیے گئے مختلف نسخِ خطی اور ان کے باہمی تقابل کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔احادیثِ مبارکہ کی تخریج میں حافظ مزی کی معروف کتاب «تحفة الأشراف» کو خصوصی طور پر پیشِ نظر رکھا گیا ہے، نیز مشکل الفاظ کی تشریح و توضیح کا بھی بھرپور اہتمام کیا گیا ہے، جس سے کتاب کی افادیت اور تحقیقی وقعت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اس طبع کی آخری جلد میں آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ مبارکہ کے اطراف اور دیگر اہم موضوعات و مباحث کی مفصل فہارس شامل کی گئی ہیں۔ *(ز) شیخ صدقی جمیل العطار کی تحقیق:* اس کتاب کی ایک اور تحقیق شیخ صدقی جمیل العطار کے قلم سے معروف اشاعتی ادارے دارالفکر نے 1425ھ بمطابق 2005ء میں ایک جلد میں شائع کی۔ کتاب کے آغاز میں ایک مختصر مگر مفید مقدمہ شامل کیا گیا ہے، جبکہ احادیثِ مبارکہ کی تخریج مختلف مصادر و کتبِ حدیث سے کی گئی ہے۔ کتاب کے اختتام پر احادیثِ مبارکہ کے اطراف بھی درج کیے گئے ہیں۔*(ح)معاصر اہلِ علم کی علمی خدمات:* جامع ترمذی کے علمی مقام، منہجِ تالیف اور مختلف علمی جہات کو سمجھنے کے لیے معاصر اہلِ علم نے بھی قابلِ قدر علمی کاوشیں انجام دی ہیں۔ ان تحقیقات میں امام ترمذیؒ کے منہجِ حدیث، اسلوبِ استدلال، احکامِ حدیث، تفسیر اور علومِ قرآن سے متعلق متعدد اہم پہلوؤں کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ ان میں چند قابلِ ذکر یہ ہیں:1۔۔۔۔المدخل الی جامع الامام الترمذی 2۔۔۔۔الامام الترمذی و منھجہ فی کتابہ الجامع3۔۔۔۔منهج الإمام الترمذي في عرض القراءات القرآنية من خلال كتابه السنن.4۔۔۔۔منھج الامام الترمذی فی جامعہ 5۔۔۔۔منهج الإمام الترمذي في نقد الحديث سنداً ومتناً في كتابه المسمى بالجامع الصحيح أو سنن الترمذي6۔۔۔۔منهج الإمام الترمذي فی التفسير من خلال كتابه "الجامع” وأثره على التفسير والمفسر7۔۔۔۔منھج الامام الترمذی فی احکامہ علی الاحادیث فی السنن 8۔۔۔۔منهج الإمام الترمذي في علوم القرآن من خلال كتاب التفسير في جامعه✍️: محمد طارق تونسوی سلسلہ: حدیثی نگارشات 16ربیع الثانی 1448ھ
