*تعلیم سے غیر سنجیدگی قوم سے غداری کے مترادف ہے* تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ ہمارے بچوں کا تعلیمی وقت پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر متاثر ہو رہا ہے، ایسے میں ہفتے میں مزید تعطیلات کا فیصلہ یقیناً والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ہم حکومت سے محاذ آرائی نہیں چاہتے، بلکہ صرف یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم سے متعلق فیصلے وقتی انتظامی سہولت کے بجائے طویل المدت قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ پوار سال تعلیمی تسلسل کسی بھی قیمت پر برقرار رکھنے کا مؤثر نظام وضع کیا جانا چاہیے، تاکہ ہمارے بچوں کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حکومتی سطح پر دیگر اہم معاملات کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں، تو تعلیم جیسے بنیادی شعبے کے لیے بھی ایسے ہی سنجیدہ اور متوازن انتظامات کیوں نہیں کیے جا سکتے؟ چاہیئے تو یہ تھا حکمران ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے ایسا انتظام کرتے جس سے ترقی یافتہ ممالک کی طرح تعلیمی سلسلہ دن رات اور سال کے بیشتر ایام میں جاری رہتا لیکن ان نا عاقبت اندیش پالیسی سازوں نے پہلے سے موجود کم تعلیمی اوقات کو اور بھی کم کر دیا ہے ۔ پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشنز سے خصوصی اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کو صرف اپنے اداروں کا مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ سمجھتے ہوئے اجتماعی طور پر اپنا مؤثر اور آئینی کردار ادا کریں۔انڈیا میں جس طرح بچے اپنے تعلیم کے لیے نکلے اس طرح اساتذہ بھی نکلیں اور ملک میں تعلیم کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پُرامن اور مہذب انداز میں عوامی شعور اجاگر کریں ، متعلقہ حکام سے باضابطہ رابطہ کریں ، آزاد صحافتی اداروں اور سول سوسائٹی کو مسئلے کی اہمیت سے آگاہ کریں اور ضرورت پڑنے پر قانونی و آئینی ذرائع بھی اختیار کریں ۔ احتجاج کریں دھرنا دیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن بچوں کا ضائع ہونے والا تعلیمی وقت واپس نہیں آتا۔ہماری درخواست کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے خلاف نہیں؛ ہماری درخواست صرف پاکستان کے بچوں کے حقِ تعلیم کے لیے ہے۔آئیے، اختلاف کو سیاسی مخالفت نہ بنائیں، بلکہ تعلیم کے معاملے میں اجتماعی آواز بنیں۔آج اگر ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے آواز نہ اٹھائی تو کل ہمیں ان کے مستقبل کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو درست فیصلوں کی توفیق دے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو محفوظ فرمائے۔ آمین۔ *اور کچھ نہیں کر سکتے تو اس تحریر کو ہی مختلف گروپوں اور سوشل میڈیا پر فاروڈ کر دیں* ۔

متعلقہ فتاویٰ