طائف کی سرزمین کو دیکھتے ہوئے دل میں سب سے پہلے وہ عظیم واقعہ تازہ ہو جاتا ہے جو رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے مشکل ترین ادوار میں پیش آیا۔ یہاں کے پہاڑوں، وادیوں اور پتھریلے راستوں کو دیکھ کر انسان تصور کرتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال سے بھی زیادہ پہلے نبی کریم ﷺ اسی علاقے میں اللہ کا پیغام پہنچانے تشریف لائے تھے۔ آج طائف ایک خوبصورت اور آباد شہر ہے، لیکن اس سرزمین سے وابستہ وہ تاریخی واقعہ صبر، رحمت اور استقامت کی ایسی مثال ہے جسے پڑھ کر دل بھر آتا ہے۔

یہ واقعہ تقریباً 619ء، یعنی 10 نبوی میں پیش آیا۔ یہ وہ دور تھا جب مکہ مکرمہ میں نبی کریم ﷺ کو شدید مخالفت کا سامنا تھا۔ اسی زمانے میں آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب اور آپ ﷺ کی رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی وفات پا چکے تھے۔ ان حالات میں آپ ﷺ دعوتِ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے۔

طائف پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ ثقیف کے بااثر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، مگر انہوں نے آپ ﷺ کی دعوت قبول نہ کی۔ سیرت کی روایات کے مطابق جب آپ ﷺ وہاں سے واپس ہونے لگے تو شہر کے لوگوں میں سے بعض کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا گیا، جنہوں نے آپ ﷺ کو پتھر مارے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس تکلیف دہ واقعے کے بعد آپ ﷺ ایک باغ میں جا کر ٹھہرے۔ اسی موقع سے وہ مشہور دعا منسوب ہے جس میں آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کمزوری اور بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی رحمت طلب کی۔

اسی باغ میں عدّاس نامی ایک نصرانی غلام کا واقعہ بھی سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے۔ باغ کے مالکوں نے اسے انگور دے کر آپ ﷺ کے پاس بھیجا۔ رسول اللہ ﷺ نے انگور تناول کرتے وقت اللہ کا نام لیا تو عدّاس متوجہ ہوا۔ دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی اور نبی کریم ﷺ نے اس سے حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ یہ ملاقات سفرِ طائف کے یادگار واقعات میں شمار ہوتی ہے۔

اس سفر کا سب سے دل کو چھو لینے والا پہلو اس وقت سامنے آیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو ان لوگوں پر دونوں پہاڑ ملا دیے جائیں۔ اتنی تکلیف برداشت کرنے کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے انتقام کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ امید ظاہر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

طائف کا وہ مقام جہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کچھ دیر آرام کیا

Title

Subtitle

یہی بات سفرِ طائف کو میرے لیے محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیتی۔ اس سرزمین کو دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ احساس اس بات کا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو شدید تکلیف پہنچی، انہی کے لیے آپ ﷺ نے ہدایت اور آنے والی نسلوں کی بھلائی کی امید رکھی۔ یہ آپ ﷺ کی رحمت، صبر اور عفو و درگزر کی عظیم مثال ہے۔

طائف کی ان جگہوں اور پہاڑی مناظر کو دیکھتے ہوئے انسان تاریخ کے اس باب کو پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ وقت بدل گیا، آبادیاں بدل گئیں اور راستوں کی شکل بھی بدل گئی، لیکن سفرِ طائف کا پیغام آج بھی وہی ہے: مشکل حالات میں صبر، مخالفت میں حکمت، اور تکلیف پہنچانے والوں کے مقابلے میں بھی رحمت اور بھلائی کا دامن نہ چھوڑنا۔

متعلقہ فتاویٰ