"امام ابن جوزی رحمه الله تعالی پر مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کے فتوے کی حقیقت”

✍️ تحریر و ترتیب: مولانا محمد حذیفہ راجکوٹی
✍️ از افادات: استاذ محترم مولانا محمد محسن طارق الماتریدی

جب سے "احتساب ناصبیت” شائع ہوئی ہے، تو ناصبیوں کی تکلیف تو سمجھ آتی ہے، لیکن نہ جانے کیا وجہ ہے کہ مفتی عبدالواحد قریشی صاحب بھی آپے سے باہر ہوئے جارہے ہیں، اور ان کی طرف سے ویڈیوز اور پوڈکاسٹوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس میں موصوف بزعم خود یہ بتارہے ہیں کہ "احتساب ناصبیت” نامی مجموعے میں معاذاللہ تعالی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنه کی توہین و تنقیص موجود ہے، اور موصوف مختلف جلدوں کی مختلف عبارات سوشل میڈیا پر دکھا کر اور اس میں اپنی پیشہ ورانہ خطابت کا مرچ مصالحہ لگاکر ناواقف لوگوں کی لاعلمی کا غلط فائدہ اٹھارہے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مفتی صاحب نے اپنی ویڈیوز میں جو اشکالات اٹھائے ہیں، ان کا علمی انداز میں تجزیہ کیا جائے، اور عوام کے سامنے حقیقت رکھی جائے کہ کیا واقعی اس مجموعے میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالى عنه کی "گستاخی” موجود ہے؟ یا کسی اور مقصد سے عوام کو ورغلایا جارہا ہے، مفتی صاحب نے تقریباََ اپنی ہر گفتگو میں "احتساب ناصبیت” کی پہلی جلد میں موجود امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالی کی کتاب "الرد علی المتعصب العنید” (جس کا ترجمہ "احتساب ناصبیت” کے مجموعے میں شامل ہے) کی ایک عبارت کو بڑے غلط انداز میں پیش کیا ہے، اور اس کو کفر بناکر پیش کیا ہے، کیونکہ مفتی صاحب کے زعم میں یہ عبارت رسول الله صلی الله عليه وسلم کی توہین پر مبنی ہے (معاذاللہ تعالى)۔
قارئینِ کرام! سب سے پہلے ان شاء الله تعالى وہ عبارت ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، پھر اس پر اپنی معروضات عرض کرتے ہیں۔

☀️عبارت کا پس منظر:
امام ابن جوزی رحمه الله تعالى نے مذکورہ بالا رسالہ عبدالمغیث حنبلی رحمه الله تعالى خلاف لکھا تھا، کیونکہ عبدالمغیث حنبلی رحمه الله تعالى نے یزید علیه ماعلیه کے دفاع میں ایک کتاب لکھی تھی، اور چونکہ یزید کا حال جگ ظاہر ہے اس لیے امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالی نے یزید کی اصل حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ان کے رد میں مذکورہ بالا رسالہ لکھا تھا، عبدالمغیث حنبلی رحمه الله تعالى نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنه کے بارے میں رسول الله صلی الله علیه وسلم کی دعا: "اللھم اجعله ھادیا مھدیا” سے یزید کے حق میں استدلال کیا ہے۔ وہ استدلال کیا تھا؟ ہم وہ استدلال ان شاء الله تعالى آپ حضرات کے سامنے امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی کتاب کے ترجمے سے جو کہ "احتساب ناصبیت” میں شامل ہے پیش کرتے ہیں:

"امام ابن جوزی رحمه الله تعالی پر مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کے فتوے کی حقیقت”

امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى لکھتے ہیں کہ:
"ان صاحب نے اپنے استدلال میں اس بات کو بھی پیش کیا ہے کہ نبی علیه السلام نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالى عنه کے حق میں یہ دعا فرمائی تھی:

اللھم اجعله ھادیا مھدیا

ترجمہ: اے اللہ ان کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنادے۔

چنانچہ جو صاحب، ہدایت دینے والے ہوں، خود انہوں نے جب یزید کو ولی عہدی کیلئے منتخب کیا ہو تو اس پر طعن و تشنیع کیسے ہوسکتی ہے؟ (حاصل یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی الله تعالى عنه کے حق میں آپ کی کی ہوئی دعا کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کا یہ اقدام درست اور ہدایت پر مبنی ہو اور یزید کے انتخاب میں کوئی کمی اور فروگذاشت نہ ہو)۔

لیکن ہم ان صاحب سے یہ عرض کریں گے کہ پہلے اس حدیث کی صحت کو معلوم کیجئے پھر ابن عليَّہ کو دیکھئے اور یہ کام آپ خود ہی کیجئے کیونکہ اگر ہم یہ کام کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ ہمیں الزام دیں کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ تعالى عنه کے خلاف تعصب سے کام لیتے ہوئے یہ کر رہے ہیں البتہ یہاں قارئین اور استفادہ کرنے والوں کیلئے ہم اس کی تھوڑی سی وضاحت کئے دیتے ہیں”
یزید کی شخصیت علامہ ابن جوزی کی نظر میں، صفحہ: 137،138، شاہ نفیس اکیڈمی (طبع اول)۔

مذکورہ بالا عبارت کے بعد امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى نے مذکورہ بالا روایت پر جرح نقل کی ہے، جسے ہم نظر انداز کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں، امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى نے روایت پر جرح کرنے کے بعد دوسرا جواب جو دیا وہ درج ذیل ہے۔

"بہرحال مذکورہ بالا روایت سند کے اعتبار سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی، لیکن اگر اسے ثابت بھی مان لیا جائے، یا یہ مرتبہ صحت و ثبوت کو بھی پہنچ جائے، تو پھر بھی اس روایت میں زیادہ سے زیادہ ایک دعا کا ذکر ہے، اور ضروری تو نہیں کہ ہر دعا قبول بھی ہو، کیونکہ اگر یہ دعا یا اس کی قبولیت ہر حال میں ہوتی تو پھر صفین کا یا یزید کی ولی عہدی کا معاملہ کیوں ہوتا؟”
یزید کی شخصیت علامہ ابن جوزی کی نظر میں، صفحہ: 140، شاہ نفیس اکیڈمی، (طبع اول)۔

یہ ہے وہ جواب جس کی بنیاد پر قریشی صاحب نے ہنگامہ مچایا ہوا ہے، اور علامہ ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی اس عبارت کو "کفر” قرار دے دیا ہے، کیونکہ اس میں رسول الله صلی الله علیه وسلم کی دعا کی عدمِ قبولیت کی بات کی گئی ہے، لہذا یہ رسول الله صلی الله علیه وسلم کی گستاخی ہے۔

☀️ہماری گزارشات:
☀️پہلی بات:
ابن جوزی رحمه اللہ تعالی کی وفات 597ھ میں ہوئی ہے، اور آج ہے 1448ھ یعنی امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کو اس دنیا سے گئے ہوئے ساڑھے آٹھ سو سال ہوگئے، ہمارا قریشی صاحب کو چیلنج ہے کہ وہ ان آٹھ سو سالوں میں ایک معتبر عالم کا قول پیش کردیں، جس نے امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی مذکورہ بالا عبارت کو "گستاخی” قرار دیا ہو، لیکن آپ ان شاء اللہ تعالی ایک معتبر عالم بھی پیش نہیں کرسکیں گے۔

☀️دوسری بات:
یہ ہے کہ امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالی کی یہ عبارت اگر گستاخی ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ صرف مولانا الله وسایا صاحب حفظهم الله تعالى پر نہ برسیں، بلکہ مفتی عبدالواحد صاحب رحمه اللہ تعالى(لاہور) کو بھی اس جرم میں شامل کریں، کیونکہ یہ کتاب ان کے مقدمے کے ساتھ چھپی ہے، بلکہ آپ کو چاہیے کہ ان ساڑھے آٹھ سو سالوں میں تمام ان علماء کو کٹہرے میں کھڑا کریں، جنہوں نے امت کو امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی اس "گستاخی” پر متنبہ نہیں کیا، اور ان کی تعریف میں رطب اللسان رہے، تاکہ پتا چلے کہ آنجناب اپنے اس مؤقف میں مخلص ہیں، اور سب کو "جوتے کی نوک” پر رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، ذیل میں امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالی کی توثیق ملاحظہ ہو۔

☀️امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی توثیق:
☀️1. حافظِ حدیث اور شیخ الاسلام کی حیثیت سے توثیق
إمام حافظ شمس الدین الذهبی (رحمه اللہ تعالى) نے "سير أعلام النبلاء” میں آپ کی توثیق و تمجید کرتے ہوئے نہایت بلند مرتبے کے القاب سے یاد فرمایا ہے، اور آپ کا نسب خلیفہ راشد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنه سے ملا کر بیان کیا ہے۔

"أَبُو الْفَرَجِ ابْنُ الْجَوْزِيِّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيٍّ … الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْعَلَّامَةُ الْحَافِظُ، الْمُفَسِّرُ، شَيْخُ الْإِسْلَامِ، مَفْخَرُ الْعِرَاقِ، جَمَالُ الدِّينِ، أَبُو الْفَرَجِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَمَّادِيَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْفَقِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ الْفَقِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، الْقُرَشِيُّ.”
سير أعلام النبلاء، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي، جلد: 21، صفحہ: 365

☀️2. طبقاتِ حفاظِ حدیث میں شمولیت
إمام ذهبی (رحمه اللہ تعالی) نے اپنی مایۂ ناز تصنیف "تذكرة الحفاظ” میں (جو صرف ثقہ اور معتمد حفاظِ حدیث کے تراجم پر مشتمل ہے) ابن الجوزی رحمه الله تعالى کو ائمہ حفاظ کی فہرست میں شامل کیا ہے، اور ان کے علمِ حدیث اور وسعتِ تصانیف کو اجاگر کیا ہے۔

"ابْنُ الْجَوْزِيِّ، الْإِمَامُ الْعَلَّامَةُ الْحَافِظُ، عَالِمُ الْعِرَاقِ وَوَاعِظُ الْآفَاقِ، جَمَالُ الدِّينِ أَبُو الْفَرَجِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَمَّادِيَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ الْبَكْرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ الْحَنْبَلِيُّ الْوَاعِظُ الْمُفَسِّرُ، صَاحِبُ التَّصَانِيفِ.” السَّائِرَةِ فِي فُنُونِ الْعِلْمِ.
تذكرة الحفاظ = طبقات الحفاظ للذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي، جلد: 4، صفحہ: 92

☀️3. ائمہ و معاصرین کی جامع توثیق (علامہ موفق الدين عبد اللطيف البغدادی رحمه الله تعالى کا قول)
علامہ موفق الدین عبد اللطیف البغدادی (رحمه اللہ تعالى) نے حافظ ابن الجوزی رحمه الله تعالى کی علمی جامعیت اور فنِ حدیث میں ان کے حافظہ و توثیق پر نہایت مفصل اور جامع شہادت دی ہے، جسے امام ذہبی رحمه الله تعالى نے اپنے مصادر میں نقل فرمایا ہے۔

"قَالَ الْمُوَفَّقُ عَبْدُ اللَّطِيفِ فِي تَأْلِيفٍ لَهُ: كَانَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ لَطِيفَ الصُّورَةِ، حُلْوَ الشَّمَائِلِ، رَحِيمَ النِّعْمَةِ، مَوْزُونَ الْحَرَكَاتِ وَالنَّغَمَاتِ، لَذِيذَ الْمُفَاكَهَةِ، يَحْضُرُ مَجْلِسَهُ مِائَةُ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ، لَا يُضَيِّعُ مِنْ زَمَانِهِ شَيْئًا، يَكْتُبُ فِي الْيَوْمِ أَرْبَعَ كَرَارِيسَ، وَلَهُ فِي كُلِّ عِلْمٍ مُشَارَكَةٌ، لَكِنَّهُ كَانَ فِي التَّفْسِيرِ مِنَ الْأَعْيَانِ، وَفِي الْحَدِيثِ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَفِي التَّارِيخِ مِنَ الْمُتَوَسِّعِينَ، وَلَدَيْهِ فِقْهٌ كَافٍ، وَأَمَّا السَّجْعُ الْوَعْظِيُّ، فَلَهُ فِيهِ مَلَكَةٌ قَوِيَّةٌ.”
سير أعلام النبلاء، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي، جلد: 21، صفحہ: 375

☀️تیسری بات:
ہم یہ نہیں کہتے آنجناب ضرور بالضرور اس استدلال کو تسلیم کریں، اور اس سے اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ہے، بلکہ امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کے اس جواب کو اگر "تحقیقی جواب” قرار دیا جائے، تو ہمیں بھی اس سے اتفاق نہیں ہے۔ خود امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی زیرِ بحث کتاب کے مترجم، مولانا شعیب احمد صاحب حفظهم الله تعالى نے اس مقام پر امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی اس بات کو قابل اشکال قرار دیا ہے چنانچہ حضرت لکھتے ہیں کہ:

"علامہ ابن جوزی رحمه الله تعالى نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنه کے بارے میں بات کو جس انداز سے لیا ہے، وہ بظاہر اشکال سے خالی نہیں ہے، یہاں دعا ہدایت کی ہے اور ہدایت ضلالت اور گمراہی کے منافی ہے، خطاء اجتہادی کو شامل نہیں”
یزید کی شخصیت علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کی نظر میں، صفحہ: 140، شاہ نفیس اکیڈمی، (طبع اول)۔

لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود قریشی صاحب کا اتنا واویلا مچانا اور گستاخی کا ڈھنڈورا پیٹنا سمجھ سے بالاتر ہے، قریشی صاحب کی امانت و دیانت کا یہ حال ہے کہ مختلف ویڈیوز میں امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کی یہ عبارت بغیر کسی سیاق و سباق اور امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالى کے "استدلال” کی وضاحت کئے بغیر پیش کر رہے ہیں، لیکن محشی صاحب نے نیچے جو وضاحت کی ہے، اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ اور اگر حاشیہ پڑھتے بھی ہیں تو اس مقام سے پڑھتے ہیں جہاں سے قریشی صاحب کو فتنہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے، اور مقصودی بات کو لوگوں کے سامنے پیش نہیں کر رہے، اب جب مفتی اور علامہ کہلانے والوں کا یہ حال ہوجائے تو عوام بچاری کدھر جائے؟۔

☀️امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالی کی عبارت کی ممکنہ توجیہ:
جیسا کہ تفصیل سے معلوم ہوا ہے کہ امام ابن جوزی رحمه اللہ تعالی نے اپنی زیر بحث عبارت عبدالمغیث حنبلی صاحب کے استدلال کو توڑنے کے لیے لکھی ہے اس لیے یہ کہنے کی مکمل گنجائش موجود ہے کہ بسا اوقات مصنف جو جو باتیں پیش کرتا ہے وہ تمام کی تمام اس کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہوتیں بلکہ کبھی کبھی بہت سی باتیں دوسری اغراض سے بھی مصنف پیش کردیتا ہے چنانچہ آپ ہی کے شاگرد مفتی فضل الرحمن صاحب جو کہ ادارہ دارالشیبان سے منسلک ہیں انہوں نے رسائل امام اہل سنت شائع کئے ہے اس میں درج ذیل بات موجود ہے کہ:

"مولوی صاحب آپ عجیب سمجھ کے آدمی ہیں، آپ کو یہ معلوم نہیں کہ ایک مصنف جن جن باتوں کا ذکر کرتا ہے، وہ سب کی سب اس کی نظر میں مختار اور قابل قبول و تسلیم ہی ہوا کرتیں، بہت سی باتیں دوسری اغراض سے بھی ذکر کرتا ہے مثلا تمام تمام اقوال کا استقصاء یا یہ کہ ناظر اس دھوکے میں نہ رہے….الخ”
رسائل امام اہل سنت، جلد: 2، صفحہ: 86

باقی رہ گئی یہ بات کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم کی کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہو تو اس پر عرض ہے کہ شارحین نے شروحات حدیث میں واضح انداز میں یہ بات لکھی ہے کہ انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی ہر ہر دعا کا فوراََ یا من و عن قبول ہونا ضروری اور واجب نہیں ہے، اگر یہ بات کہنے کی وجہ سے انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی گستاخی ہوتی ہے تو ہمارا قریشی صاحب سے مطالبہ ہے کہ ہم ذیل میں ان شارحین کی آراء باحوالہ پیش کر رہے ہیں آنجناب نام بنام ان حضرات پر بھی کفر اور گستاخی کا فتوی لگائیں۔
شارحین کے حوالہ جات پیش کرنے سے پہلے مفتی فضل الرحمن صاحب کا ایک اور حوالہ بھی پیش کرنا چاہوں گا جو کہ موصوف نے "رسائل امام اہل سنت” کے حاشیہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنه کے لیے لفظ "باغی” کی وضاحت کرتے ہوا لکھا ہے، چنانچہ موصوف لکھتے ہیں کہ:

"یعنی بغاوت کا اصل (لغوی معنی) زیادتی ہے اور محاورہ ہے کہ آدمی نے ہم پر بغاوت کی بغاوت کرنا یہ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی شخص "حق” سے پھر جائے”
رسائل امام اہل سنت، جلد: 8، صفحہ: 191

یہاں پر "حق سے پھر جانے” کے الفاظ قابل غور ہے، قریشی صاحب! اگر آپ والی ذہنیت سے کام لیا جائے تو یہاں بھی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنه کی گستاخی کا فتوی بڑی آسانی سے لگتا ہے، اس لیے خیال فرمائیں اور گستاخی اور کفر کے فتوؤں سے پرہیز کریں۔ عین نوازش ہوگی۔

☀️نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی دعاؤں کی قبولیت کے حوالے سے محدثین اور شراحِ حدیث (مثلاً امام نووی، حافظ ابن حجر عسقلانی، ابن بطال، علامہ کرمانی رحمهم اللہ تعالی، اور اکابر علماء دیوبند رحمهم الله تعالی و کثر الله تعالى سوادھم) کی علمی تحقیقات کی روشنی میں تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

☀️موقف کی علمی وضاحت:
☀️1. قطعی و یقینی قبولیت والی خاص دعا (دعوة قطعية الإجابة):
اللہ تعالی نے ہر نبی (بشمول نبی کریم ﷺ) کو ایک خاص دعا ایسی عطا فرمائی تھی جس کی قبولیت قطعی اور یقینی تھی، اور جس کے پورا ہونے کا اللہ تعالی کی طرف سے جزم و حتمی وعدہ تھا۔ نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے اس قطعی قبولیت والی دعا کو دنیاوی مقصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھا ہے۔

☀️2. عمومی دعاؤں کی قبولیت (سائر الأدعية):
نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی دیگر تمام عمومی دعائیں اللہ کے فضل و کرم سے غالباً اور اکثریتی طور پر مقبول ہوتی تھیں اور آپ ﷺ کی بے شمار دعائیں فوری قبول ہوئیں (جیسے بارش کی دعا، صحابہ کرام رضوان الله تعالى عنهم اجمعين کے لیے دعائے خیر، اور غزوات میں فتح کی دعا)۔ تاہم، ہر ہر عمومی دعا کا من و عن یا فوراً پورا ہونا بطورِ کلی شرط یا واجب نہیں تھا؛ کیونکہ بعض اوقات حکمتِ الہی یا لوحِ محفوظ کی سابقہ تقدیر کے پیشِ نظر کوئی دعا من و عن قبول نہیں کی گئی (جیسے صحیح حدیث میں صراحت ہے کہ آپ صلی الله عليه وسلم نے امت میں باہمی لڑائی نہ ہونے کی دعا فرمائی تو حکمتِ الہی کے تحت وہ سوال منع فرما دیا گیا)۔

☀️حوالہ جات:
«حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.»
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
"ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے، پس میں چاہتا ہوں، ان شاء اللہ، کہ اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔”
صحیح البخاري، کتاب التوحید، باب: في المشيئة والإرادة، وما تشاءون إلا أن يشاء الله. رقم: 7474

«حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي، شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا.»
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہر نبی کے لیے ایک ایسی دعا ہے جو قبول کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہر نبی نے اپنی دعا جلدی مانگ لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھا ہے۔ پس ان شاء اللہ میری یہ شفاعت میری امت میں سے ہر اس شخص کو پہنچے گی جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹہراتا تھا۔”
صحیح المسلم، كتاب الإيمان، باب: اختباء النبي دعوة الشفاعة لأمته، رقم: 199

«وَمَعْنَاهَا أَنَّ كُلَّ نَبِيٍّ لَهُ دَعْوَةٌ مُتَيَقَّنَةُ الْإِجَابَةِ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ إِجَابَتِهَا وَأَمَّا بَاقِي دَعَوَاتِهِمْ فَهُمْ عَلَى طَمَعٍ مِنْ إِجَابَتِهَا وَبَعْضُهَا يُجَابُ وَبَعْضُهَا لَا يُجَابُ.»
ترجمہ:
​”اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک ایسی دعا ہوتی ہے جس کی قبولیت کا انہیں یقینِ کامل ہوتا ہے اور وہ اس کے قبول ہونے پر پورا یقین رکھتے ہیں؛ جب کہ ان کی باقی دعاؤں کے بارے میں وہ قبولیت کی امید پر ہوتے ہیں، سو ان میں سے بعض دعائیں قبول کر لی جاتی ہیں اور بعض قبول نہیں کی جاتیں۔”
شرح النووي على مسلم، الإمام يحيى بن شرف النووي، جلد: 3، صفحہ: 75

«وَقَدِ اسْتُشْكِلَ ظَاهِرُ الْحَدِيثِ بِمَا وَقَعَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنَ الدَّعَوَاتِ الْمُجَابَةِ، وَلَا سِيَّمَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَظَاهِرُهُ أَنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُجَابَةً فَقَطْ. وَالْجَوَابُ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْإِجَابَةِ فِي الدَّعْوَةِ الْمَذْكُورَةِ الْقَطْعُ بِهَا، وَمَا عَدَا ذَلِكَ مِنْ دَعَوَاتِهِمْ، فَهُوَ عَلَى رَجَاءِ الْإِجَابَةِ… وَأَمَّا جَزْمُهُ أَوَّلًا بِأَنَّ جَمِيعَ أَدْعِيَتِهِمْ مُسْتَجَابَةٌ، فَفِيهِ غَفْلَةٌ عَنِ الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: سَأَلْتُ اللَّهَ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً.»
ترجمہ:
حدیث کے ظاہری مفہوم پر اس وجہ سے اشکال کیا گیا ہے کہ بہت سے انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی متعدد دعائیں قبول ہوئی ہیں، خصوصاً ہمارے نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی بہت سی دعائیں۔ جبکہ حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ہر نبی کے لیے صرف ایک ہی دعا ایسی ہے جو قبول ہوتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ دعا کے بارے میں "قبولیت” سے مراد یہ ہے کہ اس دعا کی قبولیت یقینی اور قطعی ہے۔ البتہ ان انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی دیگر دعائیں بھی قبول ہو سکتی ہیں، مگر وہ قبولیت کی امید کے درجے میں ہیں یعنی ان کی قبولیت قطعی طور پر متعین نہیں۔
اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے ابتدا میں یہ قطعی طور پر کہہ دیا کہ ان انبیائے کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی تمام دعائیں قبول ہوتی ہیں، تو یہ بات اس صحیح حدیث سے غفلت کی بنا پر ہے، جس میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے) فرمایا: "میں نے اللہ تعالی سے تین دعائیں مانگیں، تو الله تعالى نے مجھے دو دعائیں عطا فرما دیں اور ایک دعا سے مجھے محروم رکھا۔”
فتح الباري بشرح البخاري، الحافظ ابن حجر العسقلاني، جلد: 11، صفحہ: 97

«وَلَيْسَ قَوْلُهُ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ» مِمَّا يَدُلُّ أَنَّهُ لَا يُسْتَجَابُ لِلْأَنْبِيَاءِ غَيْرُ دَعْوَةٍ وَاحِدَةٍ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ – عَلَيْهِ السَّلَامُ – أَنَّهُ أُجِيبَتْ دَعْوَتُهُ فِي الْمُشْرِكِينَ حِينَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، وَدَعَا عَلَى صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ الْمُعَانِدِينَ لَهُ، فَقُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، وَغَيْرُ ذَلِكَ مِمَّا يَكْثُرُ إِحْصَاؤُهُ مِمَّا أُجِيبَ مِنْ دُعَائِهِ، بَلْ لَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ رُدَّ مِنْ دُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَّا سُؤَالَهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ اللَّهُ بَأْسَ أُمَّتِهِ خَاصَّةً، لِمَا سَبَقَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ مِنْ كَوْنِ ذَلِكَ، قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ﴾.

وَمَعْنَى قَوْلِهِ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ» يُرِيدُ أَنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رَفِيعِ الدَّرَجَةِ وَكَرَامَةِ الْمَنْزِلَةِ أَنْ جَعَلَ لَهُ أَنْ يَدْعُوَ فِيمَا أَحَبَّ مِنَ الْأُمُورِ، وَيَبْلُغَهُ أُمْنِيَّتَهُ، فَيَدْعُوَ فِي ذَلِكَ وَهُوَ عَالِمٌ بِإِجَابَةِ اللَّهِ لَهُ، عَلَى مَا ثَبَتَ عَنْهُ: «أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنْ أَرَدْتَ أَنْ يَحُولَ اللَّهُ لَكَ جِبَالَ تِهَامَةَ ذَهَبًا فَعَلَ»، وَخَيَّرَهُ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا مَلِكًا، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا، وَلَيْسَتْ هَذِهِ الدَّرَجَةُ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَإِنَّمَا [أُمِرُوا] بِالدُّعَاءِ رَاجِينَ الْإِجَابَةَ غَيْرَ قَاطِعِينَ عَلَيْهَا؛ لِيَقِفُوا تَحْتَ الرَّجَاءِ وَالْخَوْفِ.»
ترجمہ:
نبی کریم صلی الله علیه وسلم کا یہ فرمان کہ "ہر نبی کے لیے ایک دعا ایسی ہے جو قبول ہوتی ہے” اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی صرف ایک ہی دعا قبول ہوتی ہے۔
چنانچہ نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے بارے میں یہ بات ثابت ہے کہ جب آپ نے مشرکین کے لیے قحط کی دعا فرمائی، جیسا کہ حضرت یوسف علیه الصلوة والسلام کے زمانۂ قحط کی طرح ان پر بھی سات سال کا قحط مسلط ہو، تو آپ کی دعا قبول ہوئی۔ اسی طرح آپ نے قریش کے ان سرداروں کے خلاف بددعا فرمائی جو آپ کی مخالفت اور عناد پر تلے ہوئے تھے، چنانچہ وہ جنگِ بدر کے دن قتل کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کی قبول ہونے والی دعائیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا دشوار ہے۔
بلکہ ہمیں نبی کریم علیه الصلوة والسلام کی دعاؤں میں سے کسی ایسی دعا کے رد کیے جانے کا علم نہیں جو آپ نے مانگی ہو، سوائے اس دعا کے کہ اللہ تعالی ان کی امت پر آپس کی لڑائی کا عذاب مسلط نہ فرمائے۔ اس دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ امّ الکتاب (لوحِ محفوظ) میں پہلے ہی یہ بات مقدر ہو چکی تھی کہ امت کے بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے قتال کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ﴾
"اور اگر اللہ چاہتا تو وہ باہم جنگ نہ کرتے، لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔”
اور نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے فرمان "ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر نبی کو اس کے بلند مرتبہ اور خصوصی عزت و کرامت کی بنا پر یہ خصوصی مقام عطا فرمایا کہ وہ اپنی پسند کے معاملات میں دعا کرے اور اس کی آرزو پوری کر دی جائے۔ چنانچہ وہ اس معاملے میں دعا کرتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اس کی دعا قبول فرمائے گا۔
اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے بارے میں منقول ہے کہ حضرت جبرئیل علیه الصلوة السلام نے آپ سے عرض کیا: "اے محمد! اگر آپ چاہیں تو اللہ تعالی آپ کے لیے تہامہ کے پہاڑوں کو سونے کا بنا دے۔” اسی طرح آپ صلی الله علیه وسلم کو اختیار دیا گیا کہ آپ اللہ تعالی کے نبی اور بندے بن کر رہیں یا اللہ تعالی کے نبی اور بادشاہ بنیں، تو آپ صلی اللہ علیه وسلم نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی اور نبی و بندہ بننا پسند فرمایا۔
یہ مرتبہ کہ نبی کو اپنی دعا کی قبولیت کا یقین اور اس میں اختیار حاصل ہو عام لوگوں میں سے کسی کو حاصل نہیں۔ عام لوگوں کو تو دعا کرنے کا حکم اس حال میں دیا گیا ہے کہ وہ قبولیت کی امید رکھیں، لیکن اس کے بارے میں قطعی فیصلہ نہ کریں، تاکہ وہ ہمیشہ امید اور خوف کے درمیان رہیں۔
شرح صحيح البخاري، العلامة ابن بطال، جلد: 10، صفحہ: 74

«وَمَعْنَاهُ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُجَابَةٌ أَبَتَّةً، وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ إِجَابَتِهَا، وَأَمَّا بَاقِي دَعَوَاتِهِمْ فَهُوَ عَلَى رَجَاءِ إِجَابَتِهَا، وَبَعْضُهَا يُجَابُ، وَبَعْضُهَا لَا يُجَابُ، وَجَاءَ فِي الصَّحِيحِ: سَأَلْتُ اللَّهَ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، وَهِيَ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَ أُمَّتِهِ بَأْسَ بَعْضٍ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ لِأُمَّتِهِ، وَفِيهِ بَيَانُ كَمَالِ شَفَقَتِهِ عَلَى أُمَّتِهِ وَرَأْفَتِهِ بِهِمْ، وَالنَّظَرِ فِي مَصَالِحِهِمُ الْمُهِمَّةِ، فَأَخَّرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَتَهُ إِلَى أَهَمِّ أَوْقَاتِ حَاجَتِهِمْ.»
ترجمہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک ایسی دعا ہوتی ہے جو یقینی طور پر قبول کی جاتی ہے، اور وہ اس دعا کی قبولیت کے بارے میں پورے یقین میں ہوتا ہے۔ البتہ ان کی باقی دعاؤں کے بارے میں انہیں قبولیت کی امید ہوتی ہے؛ چنانچہ بعض دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور بعض قبول نہیں کی جاتیں۔
صحیح حدیث میں ہے: "میں نے اللہ تعالی سے تین دعائیں مانگیں، تو اس نے ان میں سے دو مجھے عطا فرما دیں اور ایک سے مجھے روک دیا۔” وہ ایک دعا یہ تھی کہ اللہ تعالی میری امت کے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کی باہمی لڑائی کا مزہ نہ چکھائے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہر نبی کے لیے اپنی امت کے حق میں ایک دعا ہوتی ہے۔ اس میں اپنی امت کے ساتھ نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی انتہائی شفقت و مہربانی اور ان کے لیے اہم مصالح (اور بھلائی کے امور) پر آپ کی خصوصی توجہ کا بیان ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیه وسلم نے اپنی اس دعا کو ان اوقات کے لیے مؤخر رکھا جب آپ کی امت کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔
الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري (شرح الكرماني)، العلامة شمس الدين الكرماني، جلد: 22، صفحہ: 122-123
🔻🔺🔻🔺🔻

علماءِ دیوبند (مثلاً حجة الله فی الارض مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب، علامہ شبیر احمد عثمانی، اور مولانا رشید احمد گنگوہی / مولانا محمد یحیی کاندھلوی/ مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمهم اللہ تعالى، مولانا محمد رفیع عثمانی مولانا، عبد القیوم حقانی) کی معتبر اور مستند شروحاتِ حدیث سے بھی صریح دلائل موجود ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی تمام تر عمومی دعاؤں کی قطعی قبولیت لازم نہیں تھی، بلکہ بعض دعائیں حکمتِ الہی کے تحت من و عن قبول نہیں کی گئیں۔

☀️1. علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رحمه اللہ تعالی کا تعاقب اور صراحت:
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور شرحِ مسلم "فتح الملهم” میں ان لوگوں کے موقف کا رد کیا ہے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ تمام دعائیں قطعی طور پر قبول ہوتی ہیں۔ آپ رحمه الله تعالى نے فرمایا کہ یہ دعوی صحیح احادیث سے غفلت پر مبنی ہے، کیونکہ حدیث میں صریح موجود ہے کہ آپ صلی الله عليه وسلم نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں تو دو قبول کی گئیں اور ایک سے منع فرما دیا گیا۔

☀️2. عمومی دعاؤں کے "غیر قطعی” اور "رجاء” پر ہونے کی وضاحت:
علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رحمهم اللہ تعالی فتح الملهم کی پانچویں جلد میں امام نووی اور شارحینِ حدیث رحمهم الله تعالى کے حوالے سے نقل فرمایا کہ صرف ایک خاص دعا دعوہ مستجابة ایسی تھی جو قطعی و یقینی طور پر مقبول تھی (جسے آپ ﷺ نے شفاعت کے لیے مؤخر رکھا)، جبکہ آپ ﷺ کی دیگر عمومی دعائیں امید و رجاء کے درجے میں تھیں اور قطعی الاجابۃ نہ تھیں۔

☀️3. اکابرینِ دیوبند (مولانا رشید احمد گنگوہی و مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمهما الله تعالى) کا استدلال:
جامع ترمذی کی مشہور شرح "الکوکب الدری” میں اکابرینِ دیوبند نے صراحت کے ساتھ ان احادیث سے استدلال کیا ہے جن میں نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد مبارک مروی ہے کہ آپ ﷺ نے امت کے لیے تین سوالات کیے جن میں سے دو قبول ہوئے اور تیسرا منع کر دیا گیا۔

☀️حوالہ جات:
حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب رحمہ الله لکھتے ہیں کہ:
"چنانچہ امام جلال الدین سیوطی (رحمه الله تعالى) نے امام احمد (رحمه الله تعالى) یا کسی اور امام کی تخریج سے یہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالى عنه سے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے میں نے یہ تین دفعہ عرض کیا کہ (حضرت) علی رضی اللہ تعالی عنه سب میں مقدم رہیں پر عرض منظور نہ ہوئی……رہی یہ بات کہ دعا قبول نہ ہوئی سو اس میں کچھ قباحت نہیں اور بھی بعض مواقع میں ایسا ہوا،چنانچہ امت کی خانہ جنگیوں کے نہ ہونے کی استدعا مقبول نہ ہوئی، بخاری وغیرہ کتابوں میں موجود ہے، معہذا نبی بندہ خدا ہوتا ہے، خدا کا حاکم نہیں ہوتا اگر کوئی استدعا قبول نہ ہو تو کیا حرج ہے بلکہ یہ نہ ہو تو پھر امتیوں کا ان کی طرف اور گمان ہونے لگے اس لیے حضرت نوح علیه الصلوة والسلام کی دعا بیٹے کے حق میں اور حضرت ابراہیم علیه الصلوة والسلام کی دعا باپ کے حق میں مقبول نہ ہوئی، کلام اللہ موجود ہے”
مقالات حجة الاسلام، جلد: 6 صفحہ: 149/150

«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا. فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِيءَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.»
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا:
"ہر نبی کے لیے ایک ایسی دعا ہے جو وہ مانگتا ہے، سو میں چاہتا ہوں کہ اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔”
موسوعة فتح الملهم بشرح صحیح المسلم، العلامة شبير أحمد العثماني، تعليق: العلامة المفتي محمد رفيع العثماني، جلد: 3، صفحہ: 377

[(٨٦) ـ بَابُ: اِخْتِبَاءِ النَّبِيِّ ﷺ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ]
٣٣٤ ـ (١٩٨) ـ قَوْلُهُ: (لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا) إِلَخْ: وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ الصَّحِيحَةِ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ». قَالَ الْحَافِظُ: «وَقَدِ اسْتُشْكِلَ ظَاهِرُ الْحَدِيثِ بِمَا وَقَعَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنَ الدَّعَوَاتِ الْمُجَابَةِ، وَلَا سِيَّمَا نَبِيُّنَا ﷺ. وَظَاهِرُهُ أَنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً فَقَطْ. وَالْجَوَابُ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْإِجَابَةِ فِي الدَّعْوَةِ الْمَذْكُورَةِ الْقَطْعُ بِهَا، وَمَا عَدَا ذَلِكَ مِنْ دَعَوَاتِهِمْ فَهُوَ عَلَى رَجَاءِ الْإِجَابَةِ. وَقِيلَ: مَعْنَى قَوْلِهِ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ» أَيْ: أَفْضَلُ دَعَوَاتِهِ، وَلَهُمْ دَعَوَاتٌ أُخْرَى. وَقِيلَ: لِكُلٍّ مِنْهُمْ دَعْوَةٌ عَامَّةٌ مُسْتَجَابَةٌ فِي أُمَّتِهِ، إِمَّا بِإِهْلَاكِهِمْ، وَإِمَّا بِنَجَاتِهِمْ. وَأَمَّا الدَّعَوَاتُ الْخَاصَّةُ: فَمِنْهَا مَا يُسْتَجَابُ، وَمِنْهَا مَا لَا يُسْتَجَابُ. وَقِيلَ: لِكُلٍّ مِنْهُمْ دَعْوَةٌ تَخُصُّهُ لِدُنْيَاهُ أَوْ لِنَفْسِهِ، كَقَوْلِ نُوحٍ: ﴿لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ﴾ [نُوحٌ، آيَةٌ: ٢٦]، وَقَوْلِ زَكَرِيَّا: ﴿فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا يَرِثُنِي﴾ [مَرْيَمَ، الْآيَتَانِ: ٥، ٦]، وَقَوْلِ سُلَيْمَانَ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ [صٌ، آيَةٌ: ٣٥]، حَكَاهُ ابْنُ التِّينِ! وَقَالَ بَعْضُ شُرَّاحِ الْمَصَابِيحِ مَا لَفْظُهُ: «اعْلَمْ أَنَّ جَمِيعَ دَعَوَاتِ الْأَنْبِيَاءِ مُسْتَجَابَةٌ، وَالْمُرَادُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ كُلَّ نَبِيٍّ دَعَا عَلَى أُمَّتِهِ بِالْإِهْلَاكِ إِلَّا أَنَا، فَلَمْ أَدْعُ، فَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ عِوَضًا عَنْ ذَلِكَ لِلصَّبْرِ عَلَى أَذَاهُمْ، وَالْمُرَادُ بِالْأُمَّةِ أُمَّةُ الدَّعْوَةِ لَا أُمَّةُ الْإِجَابَةِ».
وَتَعَقَّبَهُ الطَّيِّبِيُّ بِأَنَّهُ ﷺ دَعَا عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ، وَدَعَا عَلَى أُنَاسٍ مِنْ قُرَيْشٍ بِأَسْمَائِهِمْ، وَدَعَا عَلَى رَعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَدَعَا عَلَى مُضَرَ، قَالَ: وَالْأَوْلَى أَنْ يُقَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً تُسْتَجَابُ فِي حَقِّ أُمَّتِهِ، فَنَالَهَا كُلٌّ مِنْهُمْ فِي الدُّنْيَا. وَأَمَّا نَبِيُّنَا ﷺ فَإِنَّهُ لَمَّا دَعَا عَلَى بَعْضِ أُمَّتِهِ نَزَلَ عَلَيْهِ: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ﴾ [آلِ عِمْرَانَ، آيَةٌ: ١٢٨]، فَبَقِيَتْ تِلْكَ الدَّعْوَةُ الْمُسْتَجَابَةُ مُدَّخَرَةً لِلْآخِرَةِ، وَغَالِبُ مَنْ دَعَا عَلَيْهِمْ لَمْ يُرِدْ إِهْلَاكَهُمْ، وَإِنَّمَا أَرَادَ رَدْعَهُمْ لِيَتُوبُوا، وَأَمَّا جَزْمُهُ أَوَّلًا بِأَنَّ جَمِيعَ أَدْعِيَتِهِمْ مُسْتَجَابَةٌ فَفِيهِ غَفْلَةٌ عَنِ الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: «سَأَلْتُ اللَّهَ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً» الْحَدِيثَ.»
ترجمہ:
باب: نبی کریم صلی الله علیه وسلم کا اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کو محفوظ رکھنا
نبی کریم صلی الله علیه وسلم کا فرمان: "ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے جو وہ مانگتا ہے” وغیرہ۔
بعض صحیح روایات میں یہ الفاظ بھی ہیں: "ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے۔”
سو حافظ ابن حجر رحمه اللہ تعالی اس متعلق فرماتے ہیں:
اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ بہت سے انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی متعدد دعائیں قبول ہوئی ہیں، خصوصاً ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ جبکہ حدیث کا بظاہر مفہوم یہ ہے کہ ہر نبی کے لیے صرف ایک ہی دعا ایسی ہے جو قبول کی جاتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ دعا میں قبولیت سے مراد اس کی قطعی اور یقینی قبولیت ہے، جبکہ انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی دیگر دعاؤں کے بارے میں قبولیت کی امید ہوتی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ صلی الله علیه وسلم کے فرمان "ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے” سے مراد ان کی سب سے افضل دعا ہے، ورنہ ان کے لیے دوسری دعائیں بھی تھیں۔
ایک قول یہ ہے کہ ان میں سے ہر نبی کے لیے اپنی امت کے بارے میں ایک عمومی دعا ایسی تھی جو ضرور قبول ہوتی تھی؛ یا تو اس دعا کے ذریعے ان کی امت کو ہلاک کر دیا جاتا، یا انہیں نجات عطا کی جاتی۔
رہی انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی خصوصی دعائیں تو ان میں سے بعض قبول کی جاتی ہیں اور بعض قبول نہیں کی جاتیں۔
ایک اور قول یہ ہے کہ ان میں سے ہر نبی کے لیے ایک ایسی دعا تھی جو اس کی اپنی ذات یا دنیاوی زندگی کے ساتھ خاص تھی؛ جیسے حضرت نوح علیه الصلوة والسلام کی دعا:
﴿لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ﴾
"اے میرے رب! زمین پر ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔”

اور حضرت زکریا علیه الصلوة والسلام کی دعا:
﴿فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا يَرِثُنِي﴾
"پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک ایسا وارث عطا فرما جو میرا وارث ہو۔”

اور حضرت سلیمان علیه الصلوة والسلام کی دعا:
﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
"اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایانِ شان نہ ہو۔”
یہ قول ابن التین رحمه الله تعالى نے نقل کیا ہے۔
اور شرحِ مصابیح کے بعض شارحین نے کے الفاظ یہ ہیں:
"جان لو کہ تمام انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی امت کے خلاف ہلاکت کی دعا کی، سوائے میرے؛ میں نے اپنی امت کے خلاف ایسی دعا نہیں کی۔ چنانچہ ان کے پہنچائے ہوئے اذیتوں پر صبر کرنے کے بدلے مجھے شفاعت عطا کی گئی۔
یہاں "امت سے مراد امتِ دعوت ہے، امتِ اجابت نہیں۔”

علامہ طیبی رحمه الله تعالى نے اس قول پر یہ گرفت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم نے عرب کے بعض قبائل کے خلاف دعا فرمائی، قریش کے بعض افراد کے نام لے کر ان کے خلاف دعا کی، رِعل اور ذکوان کے خلاف دعا فرمائی، اور مُضَر کے خلاف بھی دعا فرمائی۔

انہوں نے فرمایا: بہتر بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالی نے ہر نبی کے لیے اپنی امت کے حق میں ایک ایسی دعا مقرر فرمائی تھی جو قبول کی جاتی تھی، چنانچہ ان میں سے ہر ایک نے اپنی وہ دعا دنیا ہی میں حاصل کر لی۔

لیکن ہمارے نبی کریم صلی الله علیه وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ جب آپ نے اپنی امت کے بعض لوگوں کے خلاف دعا فرمائی تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی:

﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ﴾
"اس معاملے میں آپ کا کوئی اختیار نہیں؛ یا اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے۔”

چنانچہ وہ قبول ہونے والی دعا آخرت کے لیے محفوظ رہ گئی۔ اور جن لوگوں کے خلاف آپ صلی الله علیه وسلم نے دعا فرمائی، ان میں سے اکثر کے بارے میں آپ کا مقصد انہیں ہلاک کرنا نہیں تھا، بلکہ انہیں تنبیہ اور روک تھام کے ذریعے اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ توبہ کر لیں۔

رہی ان کی یہ بات کہ ابتدا ہی میں قطعی طور پر یہ کہہ دیا جائے کہ تمام انبیاء کرام علیهم الصلوات والتسلیمات کی تمام دعائیں قبول ہوتی ہیں، تو یہ صحیح حدیث سے غفلت کے مترادف ہے، جس میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:

"میں نے اللہ تعالی سے تین دعائیں مانگیں، تو الله تعالى نے مجھے ان میں سے دو عطا فرما دیں اور ایک سے مجھے روک دیا۔”
موسوعة فتح الملهم بشرح صحیح المسلم، العلامة شبير أحمد العثماني، تعليق: العلامة المفتي محمد رفيع العثماني، جلد: 3، صفحہ: 377

«قَوْلُهُ: (مَسْأَلَةٌ تَسْأَلِينَهَا إِلَخْ): قَالَ النَّوَوِيُّ: مَعْنَاهُ مَسْأَلَةٌ مُجَابَةٌ قَطْعًا، وَأَمَّا بَاقِي الدَّعَوَاتِ فَمَرْجُوَّةٌ لَيْسَتْ قَطْعِيَّةَ الْإِجَابَةِ، اهـ. وَقَالَ الْأُبِّيُّ: تَقَدَّمَ مَا فِي حَدِيثِ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ… أَنَّ مَعْنَاهُ أَنَّ تِلْكَ الدَّعْوَةَ مُحَقَّقَةُ الْإِجَابَةِ، وَأَنَّ غَيْرَهَا عَلَى الرَّجَاءِ، وَأَنَّ كَوْنَهَا مُحَقَّقَةَ الْإِجَابَةِ لَا يَمْنَعُ مِنْ قَبُولِ غَيْرِهَا.»
ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم کے فرمان: «مَسْأَلَةٌ تَسْأَلِينَهَا» الخ کی شرح میں امام نووی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی دعا ہے جس کی قبولیت یقینی ہے۔ البتہ باقی دعائیں قبولیت کی امید پر ہوتی ہیں، ان کی قبولیت قطعی اور یقینی نہیں ہوتی۔

علامہ اُبّی رحمه اللہ تعالى فرماتے ہیں: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ» والی حدیث کے تحت یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دعا یقینی طور پر قبول ہونے والی ہے، جبکہ دوسری دعائیں قبولیت کی امید پر ہوتی ہیں۔ اور اس دعا کی قبولیت کا یقینی ہونا اس بات کے منافی نہیں کہ دوسری دعائیں بھی قبول کی جائیں۔
موسوعة فتح الملهم بشرح صحيح مسلم، العلامة شبير أحمد العثماني، تعلیق: العلامة المفتي محمد رفیع العثماني جلد: 5، صفحہ: 213

«فَقَدْ وَرَدَ فِي رِوَايَاتٍ عَدِيدَةٍ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ: سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي ثَالِثَةً: سَأَلْتُهُ أَلَّا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَلَّا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمَنَعَنِيهَا.»
ترجمہ:
چنانچہ متعدد روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ یہ مضمون منقول ہے: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں؛ اس نے ان میں سے دو مجھے عطا فرما دیں اور تیسری دعا سے مجھے محروم رکھا۔ میں نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ وہ میری امت کو غرق کرکے ہلاک نہ کرے، تو اس نے یہ دعا قبول فرما لی۔ پھر میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہ کرے، تو یہ دعا بھی قبول فرما لی۔ اور میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کے باہمی نزاع و جنگ کو خود ان ہی کے درمیان رکھے، تو اللہ تعالی نے یہ دعا قبول نہیں فرمائی۔
الكوكب الدري في شرح جامع الترمذي، افادات: مولانا رشيد أحمد گنگوہی، جمع و ترتیب: مولانا محمد يحيى الكاندهلوي، تحقیق و تعلیق: مولانا محمد زکریا الکاندھلوي، جلد: 7، صفحہ: 159

مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمه الله تعالى لکھتے ہیں کہ:
"الله رب العزت کی طرف سے ہر نبی کو یہ پیشکش کی گئی تھی کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی ایک دعا مانگ لیں، جس کو اللہ جل شانه ضرور قبول فرمائیں گے، اگرچہ انبیاء علیهم السلام کی دیگر دعائیں بھی اکثر قبول ہوتی ہیں لیکن ان کا قبول ہونا علی سبیل الوعد نہیں، بلکہ تلطفا و تفضلا تھا”
درس مسلم، جلد: صفحہ: 570

حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب حفظهم الله تعالى لکھتے ہیں کہ:

"البتہ ان کی خاص دعائیں بعض قبول کرلی جاتی ہیں اور بعض دعائیں دنیا میں قبول کرنے کے بجائے……آخرت میں ان کا بدل عظیم دے دیا جاتا ہے”
شرح صحیح مسلم، جلد: 6 صفحہ: 459

متعلقہ فتاویٰ