ٍٍٍاس عالم کون و مکاں میں بے شمار معاشرے ابھرے اور اپنا وقت پورا کر کے رخصت ہو گئے۔ مگر آج سے چودہ سو سال پہلے سرزمین عرب میں رسول معظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت اور فیض لاثانی سے جو معاشرہ عالم وجود میں آیا اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ صحابہ کرام کا معاشرہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی اور مدنی زندگی میں صرف تیس سال کی انتہائی مختصر مدت میں معرض ظہور میں آیا، اس معاشرے کی پاکیزہ روشی و پارسائی اور زہدیت ولو ترتبیت کی شہادت خود قرآن مجید نے دی، ان نفوس قدسیہ پر بارگاہ خداوندی کی طرف سے رضا و رحمت کا شامیانہ تانا گیا، اور انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے حوالے کر دیا۔
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ٥ المائدہ۔ ۱۱۹
صحابہ قرآن کے ائینے میں
(اللہ ان پر راضی ہو گیا اور یہ اللہ سے راضی ہو گئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔)
رضائے الٰہی جن لوگوں کو حاصل ہو جائے اور جو لوگ اپنی زندگی کے تمام معاملات کو خدا کے سپرد کر دیں ان سے زیادہ خوش بخت اور بلند قسمت اور کون ہو سکتا ہے۔
قرآن حکیم نے اسی کو عظیم الشان کامیابی اور فوز و فلاح کا آخری مرتبہ قرار دیا ہے۔ اس مجموعہ فضائل و کمال جماعت میں بعض ایسے خوش نصیب حضرات بھی ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں ان کے نام لے کر کیا گیا ہے جیسا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ۔
ہجرت مدینہ کے موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے اور غار ثور میں قیام فرمایا تو قرآن نے واضح الفاظ میں اس کا تذکرہ کیا اور ان کی بے پناہ عظمت و امانت الہی کا تذکرہ شاندار الفاظ میں فرمایا۔
فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ٤٠ : توبہ
(اللہ نے اپنے پیغمبر کی اس وقت مدد فرمائی جب کافروں نے اس حال میں اسے گھر سے نکالا تھا کہ وہ صرف دو آدمی تھے اور دو میں دوسرا (اللہ کا رسول ﷺ تھا) اور دونوں غار میں تھے اس وقت اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ساتھی سے کہا غمگین نہ ہو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔)
یہ دونوں کون تھے؟ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ۔
