`*تعارف لفظ اہلبیت*`

*لفظ اہل اور آل میں فرق:

* کسی شخص کے اہل بیت وہ ہوتے ہیں جو اس کے قریبی اور رشتہ دار ہوں ، خواہ وہ اس کے متبع ہوں یا نہ ہوں اور آل وہ کہلاتے ہیں جو کسی کے متبع ہوں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔دوسری بات یہ کہ آل عام لوگوں کی اولاد کے لیے استعمال نہیں ہوتا، یہ صرف شاہانِ مملکت اور عظیم شخصیات کی اولاد اور ان کی نسل یا ان کے اصحاب ومتبعین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 🔸 *درود ابراہیمی میں آل کے معنی:* نماز میں پڑھے جانے والے درود میں آل محمّد ﷺ وآل ابراہیم (علیہ السلام) کا مطلب اور اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لینا مناسب ہے کہ غیر نبی پر درود بھیجنا جائز ہے یا نہیں ؟ *درود علیٰ غیر النبی:*

🔸صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ترجمۃ الباب قائم کیا:

ھل یصلی علی غیرالنبی (کیا غیرنبی پر درود بھیجا جاسکتا ہے؟) اور پھر اس کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں : عن ابن ابی اوفٰی قال کان اذا اتی رجل النبی ﷺ بصدقۃ قال اللّٰہم صل علیہ فاتاہ ابی بصدقۃ فقال اللّٰہم صل علی آل ابی اوفی (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ھل یصلی علی غیرالنبی)(حضرت ابن ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس جو کوئی صدقہ لے کر آتا تو آپ ﷺ فرماتے، اے اللہ اس پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما۔ اسی دوران میرے والد (ابو اوفی) بھی صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ آل ابی اوفی پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما)۔

تعارف لفظ اہل بیت

🔹 اسی طرح امام ابوداؤد رحمۃ الله نے ترجمۃ الباب قائم کیا:

الصلاۃ علی غیرالنبی۔اس باب کے تحت امام ابوداؤد یہ حدیث لائے ہیں : عن جابر بن عبد اللّٰہ ان امرأۃ قالت للنبی صل علیّ و علی زوجی فقال النبی وعلی زوجک (ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، (باب تفریع ابواب الوتر) باب الصلاۃ علی غیرالنبی) (ایک عورت نے کہا کہ میرے اور میرے شوہر کے لیے دعاء رحمت فرمائیں ۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تم پر اور تمہارے خاوند پر رحمت نازل فرمائے)۔

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں حضورﷺ کے سوا دوسروں پر بھی درود بھیجنا جائز ہے؛ لیکن مستقلاً اور علیحدہ طور پر درود علی غیرالنبی کے سلسلہ میں اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ درست نہیں ۔

یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور احناف سے منقول ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: ما اعلم الصلاۃ ینبغی علی احد من احد الا علی النبی (فتح الباری، شرح صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ھل یصلی علی غیرالنبی) (رسول اللہﷺ کی ذات مبارک کے سوا کسی پر بھی تنہا درود پڑھنا درست نہیں)۔جاری ہے *

متعلقہ فتاویٰ