# حضرت حلیمہ سعدیہؓ کا گھر: وہ آنگن جہاں برکت نے ڈیرہ ڈالا

## تمہید

بعض گھر محلوں سے نہیں، ایک مہمان سے مشہور ہوتے ہیں۔ بنو سعد کی ایک غریب بدوی عورت کا خیمہ نما گھر تاریخ میں اس لیے زندہ ہے کہ وہاں کائنات کے سب سے مبارک یتیم ﷺ نے اپنے بچپن کے ابتدائی سال گزارے۔ یہ گھر کسی عمارت کا نام نہیں، ایک ماں کی ممتا، ایک خاندان کے صبر اور رب کی برکتوں کا نام ہے۔

## گھر کی حقیقت اور محلِ وقوع

یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے: حضرت حلیمہؓ کا گھر کوئی محفوظ یا متعین عمارت نہیں جو آج زیارت کے لیے موجود ہو۔ بنو سعد بن بکر کی آبادی طائف کے آس پاس کی پہاڑی سرزمین میں بتائی جاتی ہے، اور بدوی گھر خیموں اور سادہ جھونپڑیوں پر مشتمل ہوتے تھے جو وقت کے ساتھ مٹ گئے۔ بعض مقامات پر لوگ کسی جگہ کو "حلیمہؓ کا گھر” کہہ دیتے ہیں، مگر اس نسبت کی قطعی تاریخی سند موجود نہیں۔ اس لیے اسے تاریخی روایت اور ذوقِ سیرت کے طور پر پڑھنا چاہیے، کسی مخصوص عمارت کی زیارت کے طور پر نہیں۔

## ایک غریب گھر، ایک بڑی قسمت

حلیمہؓ کا گھرانہ مفلس تھا۔ سال قحط کا تھا، اونٹنی دودھ سے خالی، گدھی لاغر، اور شوہر حارث بن عبدالعزیٰ کے پاس وسائل کم۔ روایات کے مطابق جب وہ یتیم بچے ﷺ کو لے کر لوٹیں تو اسی دن سے گھر کی حالت بدلنے لگی۔ دودھ اترا، بکریاں آسودہ ہو کر لوٹنے لگیں، اور گھر میں وہ سکون آیا جو مال سے نہیں خریدا جاتا۔سیرت کی ان تفصیلات کی اسناد میں اہلِ علم کے ہاں کلام ہے، اس لیے انہیں سیرت کی روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

## گھر کے افراد

اس گھر میں چند ہستیاں تھیں جن کا ذکر سیرت میں ملتا ہے:- **حلیمہ بنت ابی ذؤیبؓ:** رضاعی ماں۔- **حارث بن عبدالعزیٰ:** رضاعی باپ۔- **عبداللہ، انیسہ اور شیماءؓ:** رضاعی بھائی بہن۔ شیماءؓ بچپن میں نبی ﷺ کو گود میں اٹھا کر کھلایا کرتی تھیں۔

## بچپن کی فضا

بنو سعد کی کھلی فضا، صاف ہوا، صحرا کی وسعت اور خالص عربی زبان، یہ سب کچھ نبی کریم ﷺ کے بچپن کا حصہ بنا۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ بکریاں چرائیں۔ بعد میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ (صحیح بخاری) اسی سے عاجزی، صبر اور مخلوق کی نگہداشت کا ذوق پروان چڑھا۔ آپ ﷺ کا یہ بھی ارشاد منقول ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ فصیح ہوں، کیونکہ میں قریش میں پیدا ہوا اور بنو سعد میں پلا بڑھا۔ اس روایت کی سند میں کلام ہے، اس لیے احتیاط سے نقل کریں۔

## گھر سے رخصتی

شقِ صدر کے واقعے کے بعد حلیمہؓ کو اندیشہ ہوا اور وہ نبی ﷺ کو والدہ حضرت آمنہ کے پاس مکہ واپس لے آئیں۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ روتے ہوئے رخصت ہوئیں، کیونکہ جس بچے کے ساتھ برکت آئی تھی وہ اب لوٹ رہا تھا۔ ماں کی ممتا اور امانت کی ادائیگی کی یہ کشمکش ایک نہایت لطیف منظر ہے۔

## احسان کا بدلہ

برسوں بعد جب نبی ﷺ منصبِ نبوت پر فائز تھے، حلیمہؓ کے قبیلے کے لوگ حنین کے بعد قیدی ہوئے۔ نبی ﷺ نے رضاعت کی نسبت کا لحاظ کر کے ان کی رہائی کا انتظام فرمایا۔ سیرت کی کتب میں ہے کہ حلیمہؓ جب آپ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر بچھاتے۔ ان روایات کی اسناد کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں کلام ہے۔ ان کے قبولِ اسلام اور مدفن کے متعلق بھی اختلاف ملتا ہے۔

## روحانی کیفیت

خیمے کے اس آنگن کا تصور کیجیے، جہاں ایک غریب عورت نے یتیم کو سینے سے لگایا تھا۔ دل میں چند سوال اترتے ہیں:- کیا میرا گھر برکت کا مرکز ہے یا صرف سامان کا گودام؟- کیا میں اپنے دروازے پر آئے کسی بے سہارا کو اپنا لینے کا حوصلہ رکھتا ہوں؟- کیا میں اپنے محسنوں کی عزت میں اٹھ کھڑا ہوتا ہوں؟

## ایک ضروری وضاحت

حضرت حلیمہؓ کے گھر کی کسی مخصوص جگہ پر نماز، دعا یا مٹی سے تبرک کی کوئی ثابت شدہ فضیلت نہیں۔ اگر کوئی جگہ اس نام سے منسوب ہو تو اسے تاریخی نسبت سمجھ کر سبق حاصل کیا جائے، اور من گھڑت رسموں یا عقائد سے بچا جائے۔

## سبق جو ساتھ لے جانا ہے1

. **یتیم کی کفالت:** نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں ہوں گے۔ (صحیح بخاری)2. **غربت میں سخاوتِ قلب:** وسائل کم ہوں تو بھی نیکی کی گنجائش نکل آتی ہے۔3. **برکت رب کی عطا ہے:** مقدار نہیں، قبولیت اہم ہے۔4. **احسان شناسی:** محسنوں کی عزت زندگی بھر کا فرض ہے۔5. **سادگی:** سادہ گھروں سے بھی عظیم شخصیات جنم لیتی ہیں۔

## اختتامیہ

وقت نے وہ خیمے مٹا دیے، مگر اس آنگن کی خوشبو آج بھی سیرت کے صفحات میں زندہ ہے۔

ایک غریب عورت کا ایک چھوٹا سا فیصلہ، ایک یتیم کی گود میں لینے کا، تاریخِ انسانیت کا سب سے روشن باب بن گیا۔اے اللہ! ہمارے گھروں کو برکت، سکون اور محبت سے بھر دے، ہمیں یتیموں اور بے سہاروں کا سہارا بننے کی توفیق دے، اور ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی سچی محبت نصیب فرما۔ آمین

**#حلیمہ_سعدیہ #رضاعت #سیرت_النبی #بنو_سعد #روحانیت***

متعلقہ فتاویٰ