#پہلی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے یونیورسٹی چانسلرز، الغزالی یونیورسٹی کراچی، منعقدہ 11، 12 اکتوبر 2026ء11 اکتوبر بروز اتوار
*کلیہ الدعوہ اسلامیہ لیبیا کے ڈین ڈاکٹر ابوبکر ابو سویر مدظلہ*
موضوع: تعلیمی معیار اور تعلیمی اسناد کی باضابطہ منظوری (ایکریڈیٹیشن)🔴 آپ نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا،جس کا مقصد، ایکریڈیشن اور پروگرام پلاننگ کے تصورات کو واضح کرنا، اور یہ سمجھنا ہے کہ بیرونی تشخیص کا اندرونی بہتری سے کیا تعلق ہے۔
🔴 تحقیق کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مقررہ معیارات پر پورا اترنے کا باضابطہ فیصلہ ہی تعلیم کے معیار میں بہتری ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، یا اس کے حقیقی اثرات کی تصدیق کے لیے مزید شواہد اور تحقیق درکار ہوتی ہے۔
🔴 مقالے کا طریقہ کار، وضاحتی اور تجزیاتی ہے اور اسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: معیار کا مفہوم، ایکریڈیشن کا تعلیم کی بہتری میں کردار اور اس کی افادیت کی حدود۔
🔴 تعلیمی معیار کے پانچ تصورات بیان کیے گئے ہیں: امتیازی حیثیت، پختگی اور مہارت، مقصد سے مطابقت، رقم کے بدلے قدر اور طالب علم کے اندر آنے والی تبدیلی۔
🔴 کوالٹی ایشورنس سے مراد، نصاب اور طریقہ کار کو مسلسل جانچنا ہے
، جبکہ ایکریڈیشن، طے شدہ معیارات پورے ہونے کا باضابطہ اعتراف ہے۔ ادارہ جاتی ایکریڈیشن، پورے ادارے کی صلاحیت کو دیکھتا ہے، جبکہ پروگرام ایکریڈیشن، کسی خاص پروگرام کے مقاصد پورے کرنے کی صلاحیت کو جانچتا ہے۔
🔴 ایکریڈیشن کی اصل طاقت، معیارات کو صرف کاغذ پر نہیں، بلکہ تعلیمی عمل پر اس کے براہ راست اثر میں ہے، جس کے لیے خود احتسابی، فیلڈ وزٹ اور تفصیلی رپورٹنگ ضروری ہے۔
🔴 اشاریوں کی جانچ بہت اہم ہے، جن میں کمی ہو ان کی اصلاح کی جائے، اور جائزہ لینے والوں کو ادارے کے ساتھ مفادات کے ٹکراؤ سے بچنا چاہیے۔🔴 تحقیق کے نتائج یہ ہیں: معیار کا تعلق کارکردگی سے ہے، ایکریڈیشن ایک باضابطہ فیصلہ ہے، اس کی قدر مستند دلائل پر ہے، اور اس کے اثرات کا اندازہ صرف کاغذات سے نہیں بلکہ فیلڈ اسٹڈی سے ہوتا ہے۔
🔴 سفارشات یہ ہیں: پروگرام کے نتائج کا موازنہ مستند حوالوں سے کیا جائے۔ براہ راست شواہد پر انحصار کیا جائے اور جائزے کے لیے ایک واضح فریم ورک بنایا جائے۔*میڈیا رپورٹنگ ٹیم*

