#پہلی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے یونیورسٹی چانسلرز ، الغزالی یونیورسٹی کراچی، منعقدہ 11، 12 اکتوبر 2026ء
11 اکتوبر بروز اتوار
صدر مجمع الفتح الاسلامی،مفتي دمشق ڈاکٹر شیخ عبد الفتاح البزم مد ظلہ
موضوع: نظام تعلیم میں تبدیلی: علم کی منتقلی سے عملی مہارتوں اور صلاحیتوں کی تعمیر تک
🔴 تعلیم اور یونیورسٹی کا اصل مقصد صرف معلومات دینا نہیں، بلکہ ہنرمند اور ذمہ دار انسان بنانا ہے۔
🔴 آج کے فتنوں جیسے انتہا پسندی، غلو اور دہشت گردی کا مقابلہ صرف اچھی اور بامقصد تعلیم سے ہو سکتا ہے۔
🔴 علم امانت ہے، کیونکہ حکم خداوندی ہے۔ اس میں تینوں قسم کے حقوق داخل ہیں: استاد کا حق جس سے سیکھا، شاگرد کا حق جسے سکھانا ہے اور سچائی کا حق۔
🔴 شام کے مفتی اعظم ابن العابدین کا قول ہے : عالم چاہے کتنا ہی بڑا ہو، مفتی نہیں بن سکتا جب تک اپنے زمانے کو نہ پہچان لے۔ اس لیے زمانے سے واقفیت ضروری ہے۔
🔴 مفتی کو طب، معیشت جیسے مسائل میں ماہرین سے مشورہ لینا چاہیے۔
🔴 آپ نے چار عملی تجاویز پیش کیں:
- نصاب میں اخلاقیات اور کیس اسٹڈیز کی مدد سے تعلیم دی جائے، جیسے میڈیکل کے طالب علم کو مریض کے حقوق، انجینئر کو انسانی جان کی حفاظت اور شریعت کے طالب علم کو فتوے کی ذمہ داری۔
- یونیورسٹی میں سخت قانون ہو۔ چوری شدہ تحقیق، غلط حوالہ، دوسرے کا کام اپنا بنا کر پیش کرنا منع ہو۔
- تعلیم معاشرے کے مسائل حل کرے، فارغ التحصیل طلبہ کا نیٹ ورک روزانہ کی بنیاد پر فعال رہے، طالب علم ڈگری کے بعد لوگوں سے کٹ نہ جائے۔ اس کا معاشرے سے جڑا ہوا ہونا ضروری ہے۔
- پاکستان، عرب اور تمام اسلامی دنیا کی یونیورسٹیاں مل کر دیانت اور ذمہ داری پر مبنی ایک مشترکہ فریم ورک بنائیں اور تجربات کا تبادلہ کریں۔
میڈیا رپورٹنگ ٹیم

