سیدناعبداللہ بن زبیر

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اسلام کے جلیل القدر صحابی، پہلے نوائسِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے گھرانے کے چشم و چراغ) اور تاریخِ اسلام کی ایک عظیم، شجاع اور عبادت گزار شخصیت ہیں۔ وہ مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے، جس پر پوری مسلم برادری نے خوشی منائی تھی۔
ذیل میں ان کی سیرت، فضائل، دورِ خلافت اور شہادت پر مستند حوالوں کے ساتھ ایک جامع مقالہ پیش ہے:

۱۔ ولادتِ با سعادت اور بچپن

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت ۲۰ شوال سن ۱ ہجری (یا ۲ ہجری) میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔

  • والد کا نام: سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد اور حواری)۔
  • والدہ کا نام: سیدہ اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہا (ذات النطاقین اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی)۔
  • تسمیہ و برکت: پیدائش کے بعد انہیں بارگاہِ رسالت ﷺ میں لایا گیا۔ آپ ﷺ نے کھجور چبا کر ان کے منہ میں ڈالی (تحنیک فرمائی)۔ اس طرح ان کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا لعابِ دہن گیا۔ آپ ﷺ نے ان کا نام ‘عبداللہ’ رکھا اور انہیں برکت کی دعا دی۔
    حوالہ: صحیح بخاری، کتاب مناقب الانصار، حدیث نمبر: ۳۹۰۹۔

۲۔ علم و فضل اور عبادت گزاری

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ علم، فہم اور کثرتِ عبادت میں اپنی مثال آپ تھے۔ انہیں "عبادلہ اربعہ” (چار مشہور عبداللہ نامی صحابہ) میں شمار کیا جاتا ہے۔

  • نماز میں خشوع: ان کی نماز کا خشوع و خضوع ضرب المثل تھا۔ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خشوع کی وجہ سے ایسے ساکت ہو جاتے جیسے کوئی لکڑی کا ستون ہو۔ ایک بار مسجد الحرام میں منجنیق کا پتھر ان کے لباس کو چھو کر گزرا لیکن انہوں نے نماز کا سجدہ تک لمبا نہیں کیا۔
  • روزہ اور تلاوت: آپ کثرت سے روزے رکھتے تھے اور راتوں کو طویل قیام فرماتے تھے۔ بعض اوقات ایک ہی رات میں پورا قرآن کریم ختم فرما دیتے۔
    حوالہ: سیر اعلام النبلاء، امام ذہبی، جلد ۳، صفحہ ۳۶۷۔

۳۔ شجاعت اور جہاد میں حصہ

آپ بچپن ہی سے انتہائی نڈر اور بہادر تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ۸ یا ۹ سال تھی، لیکن انہوں نے اسی عمر میں آپ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی تھی۔

  • معرکہ افریقہ (سبيطلة): سن ۲۷ ہجری میں عہدِ عثمانی کے دوران شمالی افریقہ کی مہم میں انہوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے رومی جرنیل "جرجیر” کو عین جنگ کے دوران قتل کیا، جس سے رومیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
    حوالہ: البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد ۷، صفحہ ۱۵۲۔

۴۔ دورِ خلافت (۶۴ ھ تا ۷۳ ھ)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات اور یزید کی تخت نشینی کے بعد، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ سانحہ کربلا اور پھر واقعہ حرہ کے بعد، حجاز (مکہ و مدینہ)، یمن، عراق، مصر اور شام کے ایک بڑے حصے کے عوام اور اکابرین نے آپ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کر لی۔

  • تعمیرِ کعبہ: آپ کے دورِ خلافت کا ایک بڑا کارنامہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر ہے۔ آپ نے کعبہ کو اسی بنیاد (قواعدِ ابراہیمی) پر قائم کیا جس کی خواہش رسول اللہ ﷺ نے ظاہر فرمائی تھی (جس میں حطیم کا حصہ بھی کعبہ کے اندر شامل کیا گیا تھا)۔
    حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الحج، باب نقض الکعبۃ وبنائہا، حدیث نمبر: ۱۳۳۳۔

۵۔ محاصرہ مکہ اور شہادتِ عظمیٰ

بنو امیہ کے حکمران عبدالملک بن مروان نے اپنے ظالم جرنیل حجاج بن یوسف ثقفی کو ایک بھاری لشکر دے کر مکہ روانہ کیا۔ حجاج نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا اور جبلِ ابو قیس پر منجنیقیں نصب کر کے کعبہ پر پتھراؤ کیا، جس سے کعبہ کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ محاصرہ کئی ماہ جاری رہا۔ مکہ میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی اور آپ کے بہت سے ساتھی ساتھ چھوڑ گئے۔ اس نازک وقت میں آپ اپنی بہادر والدہ سیدہ اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور مشورہ مانگا۔ ۹۰ سال سے زائد عمر کی مجاہدہ ماں نے تاریخی الفاظ کہے:
"بیٹا! اگر تم حق پر ہو تو حق پر ڈٹ جاؤ، کیونکہ تمہارے ساتھی اسی حق پر قربان ہوئے ہیں۔ اور اگر تم دنیا کے لیے لڑ رہے ہو تو تم بہت برے بندے ہو!”
ماں کے اس جواب نے ان کا حوصلہ فولاد بنا دیا۔ آپ ۱۷ جمادی الاول ۷۳ ہجری کو انتہائی بہادری سے لڑتے ہوئے حرمِ مکہ کے اندر شہید ہو گئے۔ حجاج بن یوسف نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے آپ کے جسدِ مبارک کو سولی پر لٹکا دیا۔ بعد میں سیدہ اسماء نے اپنے بیٹے کی لاش کو غسل دے کر دفن کیا۔
حوالہ: تاریخ الطبری، جلد ۶، صفحہ ۱۷۴تا ۱۸۰؛ البدایہ والنہایہ، جلد ۸، صفحہ ۳۳۲۔

حاصلِ کلام (نتیجہ)

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی حق گوئی، شجاعت، اور استقامت کا ایک روشن مینار ہے۔ انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے جامِ شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔ امتِ مسلمہ ہمیشہ ان کی عبادات، زہد اور کلمہِ حق کے لیے دی جانے والی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتی رہے گی

متعلقہ فتاویٰ