🎯 انسان کی شخصیت کے دو پہلو
چلتے چلتے قلم کے قدم رک گئے، وقت نے ٹھٹھک کر پوچھا، کیوں؟ قلم نے سر اٹھایا اور کہا : کیا لکھوں؟ وقت بولا : انسان کے بارے میں لکھو، قلم نے مسکرا کر کہا، انسان تو "أحسن التقویم” ہے، اس کی شان ہی نرالی ہے، وقت نے ٹھنڈی آہ بھری اور جواب دیا، مگر یہی انسان جب صفات سے خالی ہو جائے تو "أسفل السافلین” بن جاتا ہے۔
جی ہاں! یہ حقیقت ہے کہ جب انسان کا باطن گدلا ہوجائے، تعفن زدہ ہو جائے اور بدبو مارنے لگے تو اس کی شخصیت داغدار ہوجاتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "سِبابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ” (بخاری : 6044) کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، یعنی ایسا عمل جو آدمی کو فاسق بنا دیتا ہے یعنی اطاعت سے نکل جانا اور مقررہ حد سے تجاوز کرنا۔
حدیث نبوی میں چوہے کو بھی "فُوَيْسِقَةَ” کہا گیا ہے (بخاری : 6295) کیونکہ وہ بھی ضرر رسانی اور اذیت کا سبب بنتا ہے، گویا لفظِ فسق کے اندر تکلیف کا مفہوم چھپا بیٹھا ہے، آخرکار قلم اور وقت اس نتیجہ پر متفق ہوگئے کہ انسان ایک ایسی کتاب ہے جس کا ایک ورق سرِ بازار کھلا رہتا ہے اور دوسرا دل کے بند کمرے میں محفوظ ہوتا ہے، جو ورق دنیا کو نظر آئے، وہ اس کا "ظاہر” ہے اور جو فقط خالق کی نگاہ میں رہے، وہ اس کا "باطن” ہے، اور شخصیت دراصل انہی دو وَرقوں کے باہمی ارتباط کا نام ہے۔
① باطن: شخصیت کی جڑ
زبان کی گرفت، ذہنی پختگی، فہم و فراست، فن پر دسترس اور جذبات کی تہذیب، یہ سب وہ خاموش خزانے ہیں جو آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں مگر انسان کے ہر فیصلے، ہر جملے اور ہر ردِعمل میں بول اٹھتے ہیں، جیسے زمین کی تہہ میں پھیلی جڑیں کسی کو نظر نہیں آتیں مگر شاخوں کی ہریالی اور پھلوں کی مٹھاس انہی کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔
② ظاہر: شخصیت کا تعارف
لباس، چال ڈھال، لہجہ، نشست و برخاست اور چہرے کی بشاشت وہ پہلا تعارف ہیں جو انسان کے لب کھولنے سے پہلے ہی اس کا حال سنا دیتے ہیں، اور دنیا اکثر کتاب کھولنے کی زحمت سے پہلے سرورق دیکھ کر ہی رائے قائم کر لیتی ہے۔
③ اسلام کا حکم: دونوں کو سنوارو
دینِ حنیف نے ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں رکھا بلکہ دونوں کو سنوارنے کا حکم دیا ہے، یہی اخلاق حسنہ ہے، شریعت نے ظاہر و باطن دونوں کو پاک رکھنے کا حکم دیا ہے۔
➊ باطن کے بارے میں فرمایا، قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا (الشمس : 09) کامیاب وہ ٹھہرا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، وہ سنور جائے تو سارا بدن سنور جاتا ہے اور بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے، سنو! وہ دل ہے۔ (بخاری : 52)
➋ ظاہر کے بارے میں ارشاد ہوا، يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف : 31) اور ارشاد نبوی ہے کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے (طبرانی : 7962) یوں پاکیزہ لباس، سلیقہ اور خوش اطواری بھی عبادت کے آداب میں شامل ہو گئے۔
➌ زبان اور برتاؤ کے بارے میں حکم آیا، وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة : 83) لوگوں سے اچھی بات کہو، اور خود رسول اللہ ﷺ کے حق میں گواہی دی گئی، وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : 04) کہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں باطن کی پاکیزگی اور ظاہر کی دلکشی یکجا ہوگئی ہے۔
یہ تنبیہ بھی فرما دی گئی کہ اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے (ابن حبان : 394) یعنی ظاہر کو سنوارنا مطلوب ہے مگر باطن کا سودا کر کے نہیں، کیونکہ بے روح خوبصورتی محض ایک آراستہ مکان ہے جس میں کوئی بسنے والا نہیں۔
آج سوشل میڈیا پر ہم دیکھیں کہ ہمارا ظاہر اور باطن کیسا ہے؟ ہماری گفتگو کا انداز کیسا ہے؟ کیا ہم چند نازیبا کمنٹ اور منفی تبصرے کرکے معاشرہ سنوار رہے ہیں یا ہم اپنوں کو بھی کھو رہے ہیں؟ نوجوان نسل ظاہری آئینہ کا اسیر بن کر ظاہری سجاوٹ میں عمر گنوا رہی ہے، وہ اپنے باطن کی تربیت پر توجہ کئے بغیر اظہار کا سلیقہ بھی کھو چکی ہے، کوئی درد دل ہے ؟ کوئی حزن و ملال ہے ؟ اخلاق کا تقاضہ یہ ہے کہ ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی سنوارا جائے، سیرتِ نبوی کا پیغام بھی یہ ہے کہ دل کو خوفِ خدا اور محبتِ خلقِ خدا سے آباد کرو اور اس کی روشنی کو اخلاق، گفتار اور کردار کے راستے دنیا تک پہنچنے دو، کیونکہ جس کا اندر باکردار اور باہر مہذب ہو، وہی دلوں پر حکومت کرتا ہے۔
✍️ مفتی سفیان بلند
مدیر معهد الإمام سفیان الثوری
🗓 30 اکتوبر 2026ء | الجمعة
🌏 دارالریان اکادمی آن لائن
(علوم نبوت کی فکری درسگاہ)
