کالے تیتر کی آواز کا مقابلہ کروانے کا حکم

 ہمارے ہاں لوگ کالے تیتر کے آواز کا مقابلہ کرواتے ہیں، اس مقابلہ میں دونوں فریق اپنے تیتر میدان میں رکھ دیتے ہیں،جس کا تیتر زیادہ دیر تک آواز نکالتا ہے وہ جیت جاتا ہے،بعض اوقات لوگ اس میں بڑی بڑی رقم بھی لگاتے ہیں۔شرعا یہ مقابلہ جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب

    یہ ایک بے مقصد کام ہے،قرآن اور حدیث میں مسلمان کو بے مقصد کام سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے،پھر اگر اس پر مال بھی لگایا جاتاہو تو یہ جوا اور حرام ہوگا،اگر اس مقابلہ میں شریعت کے خلاف کوئی امر نہ ہو تب بھی لایعنی کام ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا بہتر ہے۔

    {والذين هم عن اللغو معرضون} [المؤمنون: 3]

                             عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه» (سنن الترمذي:4/ 558)

متعلقہ فتاویٰ