# حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور طائف:
علم اور رحمت کی سرزمین پر ایک روحانی زیارت##
تمہید
بعض شہر اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ وہاں کسی بڑی ہستی نے آخری سانس لی اور مٹی نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ طائف ایسا ہی شہر ہے، اور یہاں دو یادیں ایک ساتھ بستی ہیں:
ایک رحمۃ للعالمین ﷺ پر برسنے والے پتھروں کی، اور دوسری امت کے سب سے بڑے مفسرِ قرآن **حضرت عبداللہ بن عباسؓ** کی، جنہیں امت **”حبرُ الامۃ”** اور **”ترجمانُ القرآن”** کے لقب سے یاد کرتی ہے۔
آپ اس وقت انہی کی سرزمین پر زیارت کے لیے موجود ہیں، اس لیے یہ مضمون دونوں تحریروں کو ایک ہی روحانی سفر کی صورت میں جوڑتا ہے۔## محلِ وقوع
طائف مکہ مکرمہ سے مشرق کی جانب پہاڑوں میں تقریباً 80 سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر، خاصی بلندی پر واقع ہے۔ ٹھنڈی آب و ہوا، باغات اور پھلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ **مسجد عبداللہ بن عباسؓ** شہر کے وسط کے قدیم علاقے میں ہے اور طائف کی نمایاں ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا بلند مینار اور وسیع صحن دور سے توجہ کھینچتے ہیں۔ مسجد کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ کی قبر مبارک مقامی طور پر مشہور ہے۔
## نسب اور ولادت
آپؓ رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کے بیٹے اور آپ ﷺ کے چچازاد بھائی تھے۔ ولادت ہجرت سے تقریباً تین سال پہلے مکہ کے شعبِ ابی طالب میں ہوئی۔ جب نبی کریم ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تو آپؓ کی عمر تقریباً تیرہ برس تھی۔ اتنی کم عمری میں علم کا ایسا ذخیرہ جمع کر لینا اللہ کی خاص عنایت تھی۔
## نبی ﷺ کی دعا
آپؓ کی علمی عظمت کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کی دعا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں سینے سے لگا کر دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے کتاب کا علم عطا فرما۔ مسند احمد وغیرہ میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ اے اللہ! اسے دین کی سمجھ دے اور تاویل سکھا۔ الفاظ میں معمولی فرق ہے، مگر مفہوم ایک ہے۔دعا جب محبوب ﷺ کے لبوں سے نکلے تو صدیوں کی علمی روشنی بن جاتی ہے۔
## وہ رات جو سبق بن گئی
صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ ابن عباسؓ نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہؓ کے گھر رات گزاری تاکہ نبی ﷺ کی رات کی نماز دیکھ سکیں۔ نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو وہ بھی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ ایک نوعمر لڑکا رات بھر جاگ کر سیکھنے کے لیے مصلے کے پہلو میں کھڑا ہے۔ علم ایسی ہی لگن سے ملتا ہے۔## "اللہ کو یاد رکھ، وہ تجھے یاد رکھے گا”ایک دن آپؓ سواری پر نبی ﷺ کے پیچھے بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: *”اے لڑکے! اللہ کی حفاظت کر، اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کی حفاظت کر، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔”* (جامع ترمذی، امام ترمذی نے حسن صحیح کہا)یہ چند جملے توحید اور توکل کا پورا نصاب ہیں۔
## علم کی طلب اور حضرت عمرؓ کی مجلس
روایت ہے کہ آپؓ صحابہ کے دروازوں پر انتظار کرتے تاکہ کوئی حدیث سن سکیں۔ شاہی خاندان کا فرد ہو کر بھی علم کے لیے ایسی عاجزی کمال ہے۔ (یہ روایت کتبِ تراجم میں آتی ہے اور اس کی تفصیل میں اہلِ علم کا کلام ہے۔)خلیفہ دوم حضرت عمرؓ بدری بزرگ صحابہ کی مجلس میں نوعمر ابن عباسؓ کو بھی بٹھاتے۔ بعض کو یہ ناگوار گزرا۔ ایک دن حضرت عمرؓ نے سورۃ النصر کا مفہوم پوچھا۔ بزرگوں نے فتح پر حمد و استغفار کا حکم بتایا، جبکہ ابن عباسؓ نے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے قریب ہونے کی اطلاع ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں بھی اس کے سوا کچھ نہیں جانتا جو تم کہتے ہو۔ (صحیح بخاری)
## ترجمانِ قرآن
آپؓ نے قرآن کے الفاظ، اسبابِ نزول اور عربی محاورات پر گہری نظر رکھی۔ تفسیر کی بنیادی شخصیات میں آپؓ کا نام سب سے نمایاں ہے۔ آپؓ سے سولہ سو سے زائد احادیث منقول بتائی جاتی ہیں۔ شاگردوں میں مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عطاء اور طاؤس جیسے جلیل القدر تابعین شامل ہیں، جن سے مکہ کا مدرسۂ تفسیر وجود میں آیا۔ (تفسیر ابن عباس کے نام سے منسوب بعض کتابوں کی نسبت پر محققین کا کلام ہے، اس لیے ہر روایت پر اعتماد ضروری نہیں۔)## طائف: نبی ﷺ کی آزمائش کی سرزمینطائف کا نام سنتے ہی سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک دردناک ورق کھل جاتا ہے۔ دسویں سالِ نبوت میں حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد جب مکہ میں مشکلات بڑھ گئیں تو رسول اللہ ﷺ دعوتِ اسلام لے کر طائف تشریف لائے۔ ساتھ حضرت زید بن حارثہؓ تھے۔سرداروں نے دعوت ٹھکرا دی اور شہر کے اوباش لڑکوں کو پیچھے لگا دیا۔ پتھر برسائے گئے، یہاں تک کہ قدمین مبارک لہو لہان ہو گئے۔ آپ ﷺ ایک باغ کی دیوار کے سائے میں بیٹھے اور اپنی کمزوری اور بے سروسامانی کی دعا اللہ سے کی۔ (یہ دعا سیرت کی کتب میں آتی ہے اور اس کی سند پر محدثین کا کلام ہے۔)
## رحمت کا اوج
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے قرن الثعالب کے مقام پر جبریلؑ اور پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہوا۔ فرشتے نے عرض کیا کہ اگر آپ حکم دیں تو میں دونوں پہاڑ ان پر ملا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے گی۔پتھر کھا کر بھی بددعا نہ دینا، یہ رحمۃ للعالمین ﷺ کی وہ شان ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اور آج اسی طائف میں اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے چچازاد کو علم کی صورت میں ہمیشہ کی مقبولیت عطا کی۔
## ابن عباسؓ کا طائف میں آخری وقت
آخری عمر میں آپؓ کی بینائی کمزور ہو چکی تھی۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے دور کے فتنوں کے دوران آپؓ مکہ سے طائف منتقل ہو گئے، اور تقریباً 68 ہجری میں، ستر کے قریب برس کی عمر میں، یہیں وفات پائی۔ روایات کے مطابق محمد بن حنفیہؒ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ (تدفین کے وقت پرندے کے قبر میں داخل ہونے کا واقعہ بعض کتب میں ہے، مگر اس کی سند کمزور مانی جاتی ہے، اس لیے اسے بطور ثبوت بیان نہ کریں۔)وفات سے علم رخصت نہ ہوا۔ ان کے شاگردوں نے سلسلہ جاری رکھا اور آج بھی تفسیر کی ہر بڑی کتاب میں ان کے اقوال ملتے ہیں۔ یہی صدقۂ جاریہ ہے۔
## مسجد کی تعمیر
مسجد طائف کی قدیم اور مرکزی مساجد میں سے ہے۔ مختلف ادوار میں اس کی تجدید ہوتی رہی، اور سعودی دور میں اسے وسیع توسیع اور جدید سہولیات کے ساتھ تعمیر کیا گیا۔ آج یہاں ہزاروں نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ تعمیر کی تواریخ کی جزئیات میں مآخذ کے ہاں فرق ہے۔
## مسجد کی روحانی فضا
وسیع صحن میں قدم رکھیں تو طائف کی ٹھنڈی ہوا چہرے کو چھوتی ہے اور دل میں ایک نرم ٹھہراؤ اتر آتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر یہ سوال جاگتے ہیں:- کیا میں قرآن کو صرف پڑھتا ہوں یا اس کے معانی میں اترنے کی کوشش بھی کرتا ہوں؟- کیا میرا علم مجھے جھکاتا ہے یا اکڑاتا ہے؟- کیا میں "اللہ کو یاد رکھ” کی نصیحت پر عمل کرتا ہوں؟- کیا میں دعوت کے راستے میں ملنے والے پتھروں کو رحمت سے سہنے کا حوصلہ رکھتا ہوں؟- کیا میں ایسا علم یا عمل چھوڑ جاؤں گا جو بعد میں بھی نفع دے؟
## ایک ضروری وضاحت
مسجد ابن عباسؓ میں نماز یا دعا کی کوئی خاص فضیلت صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ خاص فضیلت مسجد حرام، مسجد نبوی ﷺ، مسجد اقصیٰ اور مسجد قباء کی آئی ہے۔ اس مسجد کو تاریخی و علمی نسبت والا مقام سمجھ کر یہاں نماز اور دعا کی جائے۔ قبر کی زیارت کا مقصد دعا، عبرت اور آخرت کی یاد ہے۔ قبر سے مدد مانگنا، طواف کرنا یا سجدہ کرنا جائز نہیں۔ قبر کے مقام کے بارے میں بھی مقامی روایت مشہور ہے اور مؤرخین نے اس پر بحث کی ہے۔
## زیارت کے آداب1
. **نیت کی درستی:** مقصد علم، عبرت اور سیرت سے سبق ہو۔2. **اہلِ قبر کے لیے دعا:** مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کریں، اور غلو سے بچیں۔3. **طائف کے دیگر مقامات:** مسجد عداس اور قرن المنازل (میقات) کا ذکر بھی سیرت و فقہ میں آتا ہے، حسبِ سہولت دیکھ لیں۔4. **ادب و سکون:** مسجد میں خاموشی اور نظم کا خیال رکھیں۔5. **نمازیوں کا لحاظ:** تصویر کشی میں ان کے لیے رکاوٹ نہ بنیں۔
## سبق جو ساتھ لے جانا ہے1. *
*دعا کی طاقت:** نبی ﷺ کی ایک دعا نے ایک نوجوان کو امت کا معلم بنا دیا۔2. **علم کے ساتھ عاجزی:** اصل علم وہ ہے جو انسان کو نرم کرے۔3. **دعوت میں صبر:** طائف کے پتھر بھی نبی ﷺ کو رحمت سے نہ ہٹا سکے۔4. **قرآن فہمی:** تلاوت کے ساتھ تدبر ضروری ہے۔5. **علم کی وراثت:** علم وہ سرمایہ ہے جو موت کے بعد بھی چلتا رہتا ہے۔6. **توکل:** مانگنا بھی اللہ سے اور مدد بھی اسی سے۔
## اختتامیہ
شام ڈھلتی ہے تو طائف کے پہاڑوں پر نارنجی روشنی پھیل جاتی ہے۔ زائر مسجد سے نکلتا ہے تو دل میں دو تصویریں ہوتی ہیں: ایک وہ جب اسی شہر کی گلیوں میں رحمت کے پیکر ﷺ پر پتھر برسے، اور دوسری وہ جب اسی مٹی نے امت کے سب سے بڑے مفسر کو اپنی آغوش میں لیا۔ پتھروں کی اس زمین میں علم اور رحمت کے دو چراغ ہمیشہ کے لیے روشن ہو گئے۔اے اللہ! ہمیں قرآن کا فہم، علم میں عاجزی اور عمل میں اخلاص عطا فرما۔ ابن عباسؓ کے درجات بلند فرما، ہماری اس زیارت کو قبول فرما، اور ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی رحمت بھری سیرت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین**#مسجد_ابن_عباس #طائف #ترجمان_القرآن #سیرت_النبی #روحانیت**

