لیجئے ایک اور ناصبی ۔۔۔۔۔۔۔
لگائیے فتوی ۔!
حضرت الاستاذ علامہ خالد محمود صاحب قدس سرہ
📌 معرکۂ صفین: حق و باطل کا معرکہ یا اجتہادی اختلاف؟

✍️ حجۃالاسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ
سوال: حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جو اختلاف ہوا اور جو جنگیں ہوئیں وہ حق و باطل کا معرکہ تھا یا یہ کوئی امر مشتبہ تھا جس پر دو مختلف رائیں ہو سکتی تھیں اور یہ دو متضاد فکریں تھیں۔ اگر ان میں سے ایک فریق صریح باطل پر تھا تو کیا اسے ان کی اجتہادی خطاء کہنا جائز ہے؟ اور اگر یہ کوئی امر مشتبہ تھا اور واقعی اس پر دو رائیں ہو سکتی ہیں تو کسی ایک کو قطعی طور پر حق اور ایک کو قطعی طور پر باطل کہنا کیا جائز ہو گا؟ اور اگر یہ ایک اجتہادی معاملہ تھا اور صواب اور خطاء کے درمیان دائر تھا تو اگر ایک مجتہد کسی ایک فریق کو خطا پر کہے تو یہ بات تو سمجھ میں آجاتی ہے لیکن کیا ہم یہ حق عوام کو دے سکتے ہیں کہ وہ کسی مجتہد کو اجتہادی خطا کا مرتکب قرار دیں۔ اتنی بات تو مجھے معلوم ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد علماء درس حدیث میں برسر عام امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے موقف کو خطاء کہتے ہیں اور شافعی علماء امام ابوحنیفہ کا تخطیہ کرتے ہیں لیکن جب یہ اجتہادی اختلاف ائمہ کے درمیان دائر نہ ہو، صحابہ میں دائر ہو تو کیا کسی عامی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خطائے اجتہادی کے نام سے صحابہ کرام پر تنقید کرے؟ بینوا توجروا!
الجواب: سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں جو جنگیں ہوئیں وہ حق و باطل کا معرکہ نہ تھیں ایک امر ملتبس میں دو مختلف آراء کا ٹکراؤ تھا۔ موضوع اختلاف سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا مظلومانہ قتل اور یہ کہ امت اس کی ذمہ داری سے کس طرح عہدہ برآ ہو اور اس میں ان دونوں بزرگوں کا ٹکراؤ تھا۔ صحابہ کرام میں بھلا حق و باطل کے معرکے کیسے ہو سکتے ہیں؟ وہ تو سب کے سب عادل ہیں یہ صرف ایک امر مشتبہ اور موضوع ملتبس تھا جس نے دونوں میں ٹکراؤ پیدا کر دیا تھا۔ امر مشتبہ وہ ہے جس میں حقیقت نمایاں نہ ہو ہر طرف شبہ کو راہ مل سکے۔ اور ملتبس اسے کہتے ہیں جس میں حقیقت پردے میں ہو، واضح نہ ہو، زیر لباس ہو، یہ التباس ہے۔
معرکہ صفین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں:
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی تو لوگوں سے مخاطب ہوتے اور کبھی اپنے نواسے کی طرف دیکھتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن ابني هذا سيد، ولعل الله ان يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين ( صحیح البخاری، كتاب الصلح، حدیث نمبر: 2704)
ترجمہ: میرا یہ بیٹا سید ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کو پھر سے جوڑ دے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریق کو عظیمتین کے ایک وزن میں تولہ ہے اور ہر ایک کا نام فئۃ عظیمہ رکھا ہے۔ ان میں سے ایک بھی فئہ باغیہ ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظالم اور مظلوم میں فرق ضرور کرتے اور دونوں کو فئتین عظیمتین کے پلڑوں میں برابر نہ رکھتے۔ حضور نے ان دونوں میں سے کسی سے اسلام کی نفی نہیں کی۔ حضرت علی اور حضرت حسن سے لڑنے والوں کو بھی مسلمان ہی کہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں حضرات مامور من اللہ نہ تھے، ان میں سے کسی کے پاس کوئی آسمان حق امامت نہ تھا۔
اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اطہر میں یہ اختلاف کوئی ضد اور عناد کا اختلاف نہ تھا، نہ یہ عہد جاہلیت کی ہاشمی اور اموی چنگاریاں تھیں جو پھر چمک اٹھی تھیں بلکہ یہ ایک امر مشتبہ تھا جس پر دونوں طرف کچھ نہ کچھ کہا جا سکتا ہے اور اس کا مرکزی نقطہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون تھا کہ اس کی ذمہ داری کس کس پر آتی ہے اور اسے کیسے ادا کیا جائے اور دونوں بزرگ اپنے مقاصد میں حق پر تھے:
والکل کانوا فی مقاصدھم علی الحق (مقدمہ ابن خلدون، صفحہ: 205)
معرکہ صفین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نظر میں:
حضرت امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ(110ھ) سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن بدیل رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا اور اسے حضرت ابو بکر کے سامنے بیان کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تیرا یہ سچا خواب ہے تو تم ایک امر ملتبس میں قتل کیے جاؤ گے اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ جنگ صفین میں قتل کیے گئے۔ محدث عبد الرزاق (211ھ) اسے روایت کرتے ہیں:
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ بُدَيْلٍ رُؤْيَا فَقَصَّهَا عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : ” إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكَ ، فَإِنَّكَ سَتُقْتَلُ فِي أَمْرٍ ذِي لَبْسٍ ” ، فَقُتِلَ يَوْمَ صِفِّينَ ( المصنف عبد الرزاق، جلد:11، صفحہ: 214، رقم: 20435)
ترجمہ: امام ابن سیرین سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن بدیل نے ایک خواب دیکھا جو انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ آپ نے فرمایا اگر تیرا خواب سچ نکلا تو تم کسی ایسے معاملہ میں قتل کیے جاؤ گے جو امر ملتبس ہو گا اور عبداللہ بن بدیل معرکہ صفین میں قتل ہوئے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے زیرک صاحب علم بھی جب اسے ایک امر ملتبس قرار دیتے ہیں تو اسے حق و باطل کا معرکہ کیسے کہا جا سکتا ہے۔ سو چاہیے کہ ان دو بزرگوں کی معرکہ آرائیوں کو اجتہادی اختلاف کا نام دیا جائے، اسے حق و باطل کا معرکہ کہنا بڑی جسارت اور خلاف حقیقت بات ہو گی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اسے صریح طور پر امر ملتبس قرار دیتے ہیں، اب کیا ہے کوئی جو اسے حق و باطل کا معرکہ کہے؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف:
سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے باہمی اختلاف میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہی ہے کہ صحابہ کرام دونوں طرف حق کی طلب میں کھڑے تھے، نفس پرستی کسی جانب نہ تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں میں حق کے زیادہ قریب تھے۔ احتیاط بھی اسی میں ہے کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کو حق پر کہا جائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اولی الطائفتین بالحق قرار دیا جائے۔
سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی خوارج کے خلاف جو جنگیں تھیں وہ اس قبیل کی نہ تھیں، وہ مذہبی جنگیں تھیں اور اختلاف عقیدہ پر مبنی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية( صحیح البخاری، كتاب استتابة المرتدين، حدیث نمبر: 6931) یعنی (خوارج) اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار میں سے نکل جاتا ہے۔
وہ مارقۃ تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ انہیں وہ لوگ ماریں گے جو اولی الطائفتین بالحق ہوں اور امر واقعہ یہ ہے کہ ان کا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے مقابلہ کیا تھا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ
تمرق مارقة عند فرقة من المسلمين يقتلها اولى الطائفتين بالحق (سنن ابو داؤد، كتاب السنة، حدیث نمبر: 4667)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ارشاد نبوت کی رو سے حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما اصولاً دونوں حق پر تھے اور دونوں جماعتیں فئتین عظیمتین من المسلمین تھیں، دونوں طرف کے لوگ مسلمان تھے۔ ہاں حق کے زیادہ قریب حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ تھے۔ اب یہ کہنا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حق پر نہ تھے منشاء نبوت کے صریح خلاف ہے۔ ہاں ان دونوں میں سے خوارج سے لڑنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے۔
جو شخص یہ کہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے مقصد کے اعتبار سے حق پر نہ تھے وہ یقیناً اہل سنت والجماعت میں سے نہیں ہے۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو تو اولی الطائفتین بالحق کہہ سکتے ہیں لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ کو علی الاطلاق خطاء پر کہنا ارشاد نبوت کے صریح خلاف ہے، ایسا کہنے والا اعتقادا شیعہ ہے۔ حضرت علامہ ابن خلدون کی پوری عبارت یوں ہے:
فلم یکن معاویۃ قائما فیھا بقصد الباطل۔ وانما قصد الحق و اخطاء والکل کانوا فی مقاصدھم علی حق (مقدمہ ابن خلدون، صفحہ: 205)
ترجمہ: حضرت امیر معاویہ کسی امر باطل پر کھڑے نہ تھے۔ آپ حق کا قصد کیے ہوئے تھے اور چوک گئے اور دونوں گروہ اپنے مقاصد میں حق پر ہی تھے۔
شیخ الاسلام علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی (852ھ) نے تہذیب التہذیب میں تشیع بعرف متقدمین کی تعریف یہ کی ہے:
فاتشیع فی عرف المتقدمین ھو اعتقاد تفضیل علی عثمان وان علیا کان مصیبانی حروبه وان مخالفه مخطی مع تقدیم الشیخین و تفضیلھما (تہذیب التہذیب، جلد:1، صفحہ:94)
ترجمہ: متقدمین کی اصطلاح میں جو شخص حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی پوری فضیلت اور افضلیت کا اقرار کرتے ہوئے یہ دو عقیدے رکھے وہ شیعہ سمجھا جاتا تھا (1) حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے افضل تھے (2) حضرت علی المرتضی اپنی جنگوں میں راستی پر تھے اور آپ کے مخالف خطا پر تھے۔
سو حضرت امیر معاویہ کو علی اطلاق مخطی کہنے والا متقدمین کی اصطلاح کے مطابق تفضیلی شیعہ شمار ہوتا تھا۔ ہاں اگر یوں کہہ دیا جائے کہ حضرت امیر معاویہ اپنے فیصلہ میں چوک گئے لیکن قصداً ان کا فیصلہ غلط نہ تھا وہ اپنے مقصد میں حق پر تھے اور حق کا ہی قصد کیے ہوئے تھے تو اس عقیدے سے کوئی مسلمان شیعہ نہیں ہو جاتا۔
رہا مسئلہ تفضیلی شیعوں کا سو حق یہ ہے کہ تفضیلی شیعہ حقیقت میں شیعہ نہیں ہیں اور شیعہ کے سات بنیادی عقائد میں سے وہ ایک کے بھی قائل نہیں ہیں:
(1) عقیدہ تحریف قرآن (2) عقیدہ امامت (3) انکار خلافت خلفاء ثلاثہ (4) تکفیر جمیع صحابہ بااستثنائے چند (5) قدف ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا (6) تفضیل ائمہ بر انبیاء سابقین (7) عقیدہ رجعت (یعنی اس دنیا میں دوبارہ آنا)
یہ شیعہ کے سات بنیادی عقائد ہیں اور تفضیلی شیعہ ان میں سے کسی بات کے مدعی نہیں۔ ہاں یہ لوگ اہل سنت میں سے بھی نہیں ہیں۔ حضرت امام ابو داؤد السجستانی رحمہ اللہ (275ھ) نے اپنی سنن کی کتاب السنۃ میں ان تمام لوگوں کو مردود العمل قرار دیا ہے جو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے احق بالولایۃ جانیں۔ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کے ہاں ایسے لوگ (یعنی تفضیلی شیعہ) ہرگز اہل سنت میں سے نہیں ہیں۔ حضرت سفیان رضی اللہ فرماتے ہیں:
من زعم ان عليا رضی اللہ عنہ كان احق بالولاية منهما فقد خطا ابا بكر، وعمر، والمهاجرين، والانصار، وما اراه يرتفع له مع هذا عمل إلى السماء (سنن ابی داؤد، جلد: 2، صفحہ: 630، كتاب السنة، رقم: 4630)
ترجمہ: جو شخص یہ سمجھے کہ حضرت علی رضی اللہ اللہ عنہ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما دونوں سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور تمام مہاجرین و انصار کو غلطی پر یقین کیا اور میں ایسے شخص کا کوئی عمل آسمان کی طرف اٹھتا ہوا نہیں دیکھتا۔
صرف نیک اعمال ہیں جو اوپر اٹھتے ہیں:
اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ (پارہ: 22، الفاطر: 10)
📒 عبقات، جلد سوم (زیر طبع)
📍 پیشکش: بزم علامہ خالد محمود یوکے و یورپ
