#پہلی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے یونیورسٹی چانسلرز، الغزالی یونیورسٹی کراچی، منعقدہ 11، 12 اکتوبر 2026ء *11 اکتوبر، بروز اتوار
**محترم جناب ڈاکٹر اویس رؤوف صاحب — جامعہ لاہور*
🔴 تمام تعلیمی اداروں کی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے، جو ان کی ماضی کی روایات اور تجربات کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ ان کا وژن مستقبل کے اہداف اور ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔

🔴 محض معلومات (Information) کا حصول علم (Knowledge) نہیں کہلا سکتا، بلکہ علم وہ ہے جو انسان کی فکری و عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرے۔
🔴 علم کا بنیادی مقصد معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اگر علم انسانی زندگی کے مسائل حل کرنے اور معاشرے میں بہتری لانے میں مؤثر کردار ادا نہ کرے تو اس کے حقیقی مقصد پر سوال اٹھتا ہے۔
🔴 پندرہویں سے بیسویں صدی کے دوران دنیا کے تقریباً 95 فیصد حصے کو نوآبادیاتی نظام (Colonization) کا سامنا کرنا پڑا، جس نے مختلف معاشروں کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی ڈھانچوں کو بہت متاثر کیا۔
🔴 نوآبادیاتی طاقتوں نے مقامی اور روایتی تعلیمی نظاموں کو فرسودہ قرار دے کر انہیں کمزور یا ختم کیا اور ان کی جگہ اپنے نظریات، اقدار اور تعلیمی تصورات کو رائج کیا۔
🔴 صنعتی دور (Industrial Age) میں تشکیل پانے والے تعلیمی نظام نے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے مخصوص اور غیر لچکدار راستے متعین کیے، لیکن بدلتے ہوئے حالات میں ان روایتی طریقوں کی افادیت محدود ہوتی جا رہی ہے۔
🔴 آبادی میں اضافے اور عمرانی تبدیلیوں کے باعث دنیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2050ء تک عالمی آبادی میں مزید ڈیڑھ ارب افراد کا اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً عالمی شمال ، کو بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی جیسے مسائل درپیش ہیں۔
🔴 دنیا میں ڈیجیٹل سہولیات کی غیر مساوی تقسیم، یعنی ڈیجیٹل تفریق ، ایک اہم مسئلہ ہے۔ آج بھی کروڑوں افراد بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جس کے باعث وہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے ثمرات سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکتے۔
🔴 معلومات اور ڈیٹا پر اختیار حاصل کرنے کی بڑھتی ہوئی دوڑ ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر رہی ہے جسے ڈیجیٹل آمریت (Digital Dictatorship) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر ٹیکنالوجی اور معلومات پر چند قوتوں کی اجارہ داری قائم ہو جائے تو یہ انسانی آزادی، خودمختاری اور معاشرتی ترقی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
🔴 مستقبل میں انسان اور ٹیکنالوجی کا باہمی تعلق مزید گہرا ہوگا اور انسان جدید ٹیکنالوجی کی معاونت سے اپنی صلاحیتوں کو وسعت دے کر کام کرے گا۔ اس تصور کو Augmented Humansسے تعبیر کیا جاتا ہے۔
🔴 عصرِ حاضر کی جامعات کو صنعتی دور کے روایتی تعلیمی ماڈلز سے آگے بڑھ کر ایسے نظام تشکیل دینے ہوں گے جو جدید تقاضوں، ٹیکنالوجی، تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں اور معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
🔴 مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فرسودہ تصورات اور غیر مؤثر طریقوں کو ترک کرنا سیکھیں (Unlearn) اور نئی حقیقتوں، بدلتے حالات اور جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ سیکھنے (Relearn) کا عمل جاری رکھیں۔*میڈیا رپورٹنگ ٹیم*
