اپنے پتھر پھینکتے رہے،وہ تاریخ رقم کر گیا

اپنے پتھر پھینکتے رہے، اور وہ تاریخ رقم کر گیا!جب مخالفت دشمن نہ کریں بلکہ اپنے ہی صف آرا ہو جائیں، جب اصلاح کے نام پر کردار کشی کی جائے، القابات تراشے جائیں اور آپ کے ادارے کے خلاف دائرہ تنگ کر دیا جائے… تو اکثر انسان ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔۔وہ کیسا کٹھن وقت تھا جب الزامات کی بوچھاڑ میں دفاع کرنے والے مخلص ساتھی بھی اس خوف سے خاموش رہنے پر مجبور تھے کہ کہیں بدزبانی اور گالیوں کا رخ ان کے گھروں کی طرف نہ مڑ جائے۔ ایک شخص بالکل اکیلا تھا، مگر اس کے پاس صبر تھا، اپنے رب پر یقین تھا اور اپنے طلبہ کے مستقبل کا درد تھا۔ نہ اس نے تلخ جواب دیے، نہ کام کی رفتار کم کی، اور نہ ملامت کرنے والوں کے خوف سے حق کا راستہ چھوڑا۔اور پھر زمانے نے دیکھا کہ اخلاص اور خاموش محنت کا جواب کیسا ہوتا ہے!آج تاریخ نے گواہی دی کہ دنیا بھر کی دو سو سے زائد جامعات کی نمائندہ عالمی تنظیم "رابطۃ الجامعات الإسلامية” نے اپنی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کا رخ کیا، تو اس کا مرکز جامعہ الغزالی اور جامعۃ الرشید بنا۔ دنیا بھر سے 34 جامعات کے وائس چانسلرز اور چانسلرز ایک چھت تلے جمع تھے۔ وہ شخص جس کے نام کے ساتھ روایتی "ڈاکٹر” کا لاحقہ نہیں، آج دنیا کے چوٹی کے محققین اور ڈاکٹرز کی فکری قیادت کر رہا تھا اور پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی افق پر ترقی کے نئے دروازے کھول رہا تھا۔اب ذرا اپنے گریبان میں جھانکنے کا لمحہ ہے:اگر آپ کی مخالفت واقعی "اصلاح اور خیر خواہی” کی بنیاد پر تھی، تو آج وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کیجیے، آگے بڑھیے اور دل کھول کر مبارکباد دیجیے۔ کیونکہ یہ عزت صرف ایک ادارے کی نہیں، پورے پاکستان اور اہل علم کی ہے۔اور اگر وہ سب محض "تنقید برائے تنقید” اور حسد کی آگ تھی، تو اب خاموش ہی رہیے آپ کو کوئی نہیں چھیڑے گا۔جب کوئی دیندار اور اہلِ درد قیادت قوم کے نوجوانوں کو عالمی معیار سے روشناس کرائے، تو اس پر فخر کیا جاتا ہے، رکاوٹیں نہیں کھڑی کی جاتیں۔حضرت استاد صاحب مفتی عبدالرحیم دامت برکاتہم اور ان کے تمام رفقاء کو اس تاریخ ساز کامیابی پر دلی خراجِ تحسین، جنہوں نے طعنوں اور الزامات کا جواب الفاظ سے نہیں، ایک لازوال کارنامے سے دیا۔

متعلقہ فتاویٰ