شوقِ علم کی ایک عظیم داستان
دکتور عبد العاطی الشرقاوي حفظه الله _
امام ابو داودؒ — طلبِ حدیث کے اسفار سے سنن کی تدوین اور روایات تک
قسط 03
پیشکش: محمد ثاقب
میزبان محمدالشثری:
اب ہم امام ابو داود رحمہ اللہ کی طرف آتے ہیں۔ آپ نے اپنے ماسٹرز کا ذکر کیا اور ابو داود کا بھی ذکر کیا۔ آج ہماری گفتگو بھی امام ابو داود رحمہ اللہ ہی کے بارے میں ہے۔
ہم مسلمان بخاری، مسلم، پھر ابو داود اور کتبِ ستہ کو جانتے ہیں۔ بتائیے، آپ کے ماسٹرز کا سفر کب شروع ہوا اور اس عظیم امام کے ساتھ آپ کا تعلق کیسے قائم ہوا؟دکتور عبد العاطی الشرقاوي:میں دبئی میں تھا اور اپنے منصوبے کے کام میں بہت مصروف تھا۔ یہاں تک کہ کسی جگہ جا کر باقاعدہ ماسٹرز میں داخلہ لینے کے لیے بھی میرے پاس وقت نہیں تھا۔ میں ڈیٹابیس کے منصوبے میں بہت زیادہ مصروف تھا۔ تو میں نے سوچا کہ جامعہ الشارقة تو ہمارے قریب ہی ہے۔ شیخ سلطان حفظہ اللہ نے بھی اس کے قیام، ترقی اور اس کی لائبریری وغیرہ کے لیے بہت کام کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمائی اور میں نے جامعہ الشارقة میں ماسٹرز میں داخلہ لے لیا۔ جامعہ الشارقة سے میں نے ماسٹرز کیا، اور پھر ڈاکٹریٹ کے لیے جامعہ ازہر میں رجسٹریشن کروادی۔
امام ابو داودؒ — طلبِ حدیث کے اسفار سے سنن کی تدوین اور روایات تک
میری ایک بات میرے ماسٹرز کا سب بنی تھی اسکی وضاحت یہ ہے کہ ماسٹرز سے پہلے اپنی علمی مشغولیت کے زمانے میں میں قونیہ وغیرہ کا سفر بھی کرتا تھا۔ اسی دوران ہمارے ایک فاضل استاد، ڈاکٹر قاسم علی سعد، ہمیں «مناهج المحدثين» کے موضوع پر ایک مضمون پڑھاتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی درس میں امام ابو داود کے بارے میں گفتگو ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ آج جو سنن ابی داود مطبوعہ شکل میں ہمارے سامنے ہے، وہ ابن داسہ کی روایت کے مطابق نہیں ہے، اور ضرورت ہے کہ روایتِ ابن داسہ کو الگ سے شائع کیا جائے۔۔
یعنی سنن ابی داود ہم تک ایک ہی طریقے سے نہیں پہنچی؛ مختلف شاگردوں نے اسے اپنے اپنے سماع کے مطابق روایت کیا، اور ان روایات میں بعض جگہ فرق پایا جاتا ہے۔ میری گفتگو کا تعلق اسی مسئلے سے تھا کہ ابن داسہ کی روایت کو الگ سے سامنے لایا جائے، اور مختلف علاقوں کے علماء کی منفرد روایات اور ان کے طرق کو بھی سمجھا جائے۔ڈاکٹر قاسم علی سعد حفظہ اللہ، میری نظر میں، اہلِ فضل و صلاح میں سے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا:“شیخ عبد العاطی! میں چاہتا ہوں کہ تم اسی موضوع پر اپنا ماسٹرز کرو اور میں تمہاری نگرانی کروں گا۔”میں نے کہا:“استاد محترم! میں حاضر ہوں۔
”یہ بھی اسی سلسلے کی ان نشانیوں میں سے ہے جن کی ہم بات کر رہے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو کسی بندے کی زبان سے وہ بات نکلوا دیتا ہے۔وہاں ڈاکٹر صاحب نے مزاحاً عفان بن مسلم کا ایک واقعہ بھی سنایا۔ عفان بن مسلم کثرت سے حدیث بیان کرتے اور پڑھاتے تھے۔ ان کے بارے میں ایک مزاحیہ بات بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، “اللہ اکبر” کہا اور لوگوں کی امامت شروع کی، لیکن فاتحہ پڑھنے کے بجائے کہنے لگے:“حدثنا فلان!”پھر انہوں نے ہنستے ہوئے کہا:“میرا خیال ہے عبد العاطی کی بھی یہی حالت ہونے والی ہے؛ اب اس کے پاس ابو داود، سنن اور کتبِ ستہ وغیرہ کی روایات ہیں!”اور وہ چاہتے تھے کہ باقی کتبِ ستہ کی روایات پر بھی اسی طرح تحقیق کی جائے، جس طرح سنن ابی داود کی مختلف روایات پر تحقیق کی جا رہی ہے۔
جب ڈاکٹر قاسم صاحب نے یہ موضوع میرے سامنے رکھا تو میں اس کے لیے تیار ہوگیا، لیکن تقریباً ایک سال تک اسی سوچ میں رہا کہ تحقیق کو کس طرح مرتب کروں؟ اس کی ترتیب کیا ہو؟ تقریباً ایک سال تک میں اسی فکر میں رہا۔اس دوران معلومات جمع ہوتی رہیں اور میں لکھتا رہا، کیونکہ میری تحقیق کا مقصد سنن ابی داود کی مختلف روایات اور ان کی منتقلی کی تاریخ کو مخطوطات میں درج سماعات اور اجازات کی مدد سے سمجھنا تھا۔ یہ سماعات اور اجازات عموماً مخطوطات کے سرورق یا ابتدائی صفحات پر درج ہوتی ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کس نے کس سے پڑھی اور آگے روایت کی۔ہم سنن ابی داود کی روایت اور اس کے سفر کی پوری تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے صرف بعد میں لکھی جانے والی عام کتابوں پر اعتماد نہیں کرنا تھا، بلکہ قدیم علمی ماخذ بھی دیکھنے تھے، جن میں کتبِ اثبات، برامج اور مسلسلات شامل ہیں۔
ان کتابوں میں یہ معلومات ملتی ہیں کہ کسی عالم نے یہ کتاب کس شیخ سے پڑھی، پھر اسے اپنے شاگردوں تک کیسے پہنچایا اور یہ روایت ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک کس طرح منتقل ہوئی۔اس کے بعد ہم ان معلومات کو خود سنن ابی داود کے قدیم مخطوطات سے بھی ملانا چاہتے تھے۔ کیونکہ مخطوطات کے ابتدائی صفحات، سرورق یا حواشی پر موجود سماعات اور اجازات میں اکثر یہ درج ہوتا ہے کہ فلاں شخص نے یہ کتاب فلاں شیخ سے پڑھی، فلاں نے اس کی مجلس میں سماع کیا، یا اسے آگے روایت کرنے کی اجازت حاصل کی۔ اس طرح ان تحریری شواہد کی مدد سے ہم سنن ابی داود کی مختلف روایات، ان کے راویوں اور ان نسخوں کے باہمی تعلق کو زیادہ ٹھوس انداز میں سمجھ سکتے تھے۔یعنی ہماری کوشش یہ تھی کہ سنن ابی داود کی روایت کی تاریخ صرف کتابی حوالوں سے نہ لکھی جائے، بلکہ ان حوالوں کو اصل مخطوطات پر موجود شواہد سے ملا کر دیکھا جائے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کتاب امام ابو داود رحمہ اللہ سے نکل کر نسل در نسل کن لوگوں کے ذریعے ہم تک پہنچی۔اب روایتوں اور مخطوطات کی تفصیل میں جانے سے پہلے، آئیے بہت مختصر طور پر سنن ابی داود کی اہمیت اور امام ابو داود رحمہ اللہ کے مقام کو سمجھ لیتے ہیں۔امام ابو داود سجستانی رحمہ اللہ! اہلِ علم ان کا مقام اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ حدیث کی دنیا کی کتنی بڑی شخصیت تھے، لیکن ان کی زندگی اور علمی سفر کی تفصیل آگے آئے گی۔
اس وقت بس اتنا سمجھ لیجیے کہ بخاری و مسلم کے بعد سنن ابی داود کو کتبِ حدیث میں نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ان کا پورا نام سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر بن شداد الأزدي السجستاني تھا، لیکن وہ اپنی کنیت ابو داود سے زیادہ مشہور ہوئے۔وہ قبیلہ ازد سے تعلق رکھتے تھے۔ ازد ایک عرب قبیلہ تھا اور اس کی اصل یمن سے تھی۔ یمن سے بہت سے قبائل کی طرح ان کے خاندان کے افراد بھی مختلف علاقوں میں جا کر آباد ہوئے۔میں امام ابو داود کے عرب ہونے کے مسئلے کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا۔ اتنا جان لینا کافی ہے کہ ان کا تعلق ازد سے تھا اور ان کے خاندان کی اصل یمن کی طرف تھی۔
اب ان کی نسبتِ سجستانی کو سمجھ لیجیے۔ سجستان، جسے سیستان بھی کہا جاتا ہے، ایک تاریخی خطہ تھا جو موجودہ افغانستان اور ایران کے بعض علاقوں پر مشتمل تھا۔ یہ خطہ تاریخی خراسان کے جنوبی مغربی حصے میں واقع تھا اور اپنے زمانے میں علم و حدیث کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ وہاں محدثین، مشائخ اور فقہاء موجود تھے، اور اسی علمی ماحول میں امام ابو داود نے اپنی ابتدائی زندگی گزاری۔امام ابو داود بھی دوسرے محدثین کی طرح طلبِ حدیث کے لیے سفر پر نکلے۔خطیب بغدادی نے اپنی نہایت اہم کتاب «الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع» میں طلبِ حدیث کے آداب اور سفرِ حدیث پر گفتگو کی ہے۔
اس کتاب کا ایک مستقل باب ہی دور دراز علاقوں میں حدیث حاصل کرنے کے لیے سفر کے بارے میں ہے۔ اس میں یہ اصول ملتا ہے کہ طالبِ حدیث پہلے اپنے شہر کے اہلِ علم اور وہاں کی حدیث سے واقف ہو، پھر دوسرے شہروں کے علم اور محدثین کی طرف سفر کرے۔خطیب بغدادی کی علمی عظمت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ابن نقطہ کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا:«كل من تكلم في الحديث بعد الخطيب فهم عيال عليه»یعنی خطیب کے بعد حدیث کے بارے میں گفتگو کرنے والے اہلِ علم نے کسی نہ کسی درجے میں ان کی کتابوں سے استفادہ کیا۔خطیب واقعی اپنے زمانے کی ایک غیر معمولی علمی شخصیت تھے۔
بعض لوگ تصنیف کرتے ہیں اور پہلے لوگوں کی باتیں جمع کرکے آگے بڑھاتے ہیں، لیکن بعض لوگ ایسا تخلیقی کام کرتے ہیں جس کی اپنی ایک الگ شان ہوتی ہے۔ خطیب کی تصانیف دیکھیں تو علومِ حدیث کے متعدد شعبوں میں ان کی مستقل کتابیں ملتی ہیں۔بہرحال اسی اصول کے مطابق امام ابو داود نے بھی سفر کیا۔وہ سجستان اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے نکلے، ہرات گئے، وہاں کے بڑے اہلِ علم سے حدیث سنی۔ بغلان گئے۔ بغلان ایک شہر تھا، اور وہاں انہوں نے قتیبہ بن سعید البغلانی سے روایت لی۔
امام ابو داود رحمہ اللہ اپنے طلبِ حدیث کے سفر میں جن بڑے اہلِ علم سے ملے، ان میں قتیبہ بن سعید بھی شامل تھے۔ قتیبہ اپنے زمانے کے معروف ائمۂ حدیث میں شمار ہوتے تھے اور امام ابو داود نے ان سے بھی حدیث کا علم حاصل کیا۔یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ امام ابو داود جن علاقوں میں گئے اور جن اہلِ علم سے حدیث پڑھی، وہ عام درجے کے لوگ نہیں تھے۔ ان کے اس سفر میں ہمیں ایک کے بعد ایک ایسے بڑے محدثین اور ائمہ کے نام ملتے ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں علم و حدیث کے نمایاں ستون تھے۔ اس لیے جب ہم امام ابو داود کے شیوخ کے نام پڑھیں تو انہیں محض ناموں کی ایک فہرست نہ سمجھیں؛ یہ دراصل ان کے اس عظیم علمی سفر کی تصویر ہے جس میں وہ اپنے زمانے کے بڑے محدثین سے علم حاصل کرتے رہے۔
یہ وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سنتِ رسول ﷺ کے علم اور اس کی حفاظت کے کام کے لیے منتخب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:{إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ}اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کا ایسا انتظام فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپ کی احادیث بھی نسل در نسل محفوظ ہو کر ہم تک پہنچیں۔قامام ابو داود رحمہ اللہ کی زندگی بھی اسی علمی جدوجہد کی ایک نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے ایک ہی جگہ بیٹھ کر حدیث کا علم حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس دور کے مختلف علمی مراکز کا سفر کرتے اور وہاں کے محدثین سے احادیث سنتے تھے۔چنانچہ وہ ری، ہرات، بغلان، نیشاپور اور اصفہان جیسے علاقوں میں گئے اور وہاں کے اہلِ حدیث سے روایتیں حاصل کیں۔ پھر ان کا سفر آگے بڑھتا ہے اور ہم انہیں عراق کی طرف، بالخصوص بغداد میں دیکھتے ہیں۔ذرا نقشے پر ان علاقوں کو دیکھیے؛ ایک شہر سے دوسرے شہر تک یہ سفر معمولی سفر نہیں تھا۔
ان دور دراز علمی مراکز تک پہنچ کر وہاں کے محدثین سے حدیث سننا ہی ان کے سفرِ طلب کا مقصد تھا۔ پھر اسی علمی سفر میں وہ بغداد پہنچے، جو اس زمانے میں علم و حدیث کا ایک بڑا مرکز تھا۔امام ابو داود رحمہ اللہ 202 ہجری میں پیدا ہوئے۔ سفرِ طلبِ حدیث شروع کرنے سے پہلے قرآن کریم حفظ کیا اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے حدیث کا علم حاصل کرنے کے لیے مختلف علاقوں کا سفر شروع کیا۔ان کے سفر کے آغاز کے زمانے کا ایک اہم قرینہ عفان بن مسلم رحمہ اللہ سے متعلق ہے۔ امام ابو داود نے عفان بن مسلم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی تھی، جبکہ عفان بن مسلم کا انتقال 219 یا 220 ہجری میں بغداد میں ہوا۔
بعض مصادر میں یہ بھی ذکر ہے کہ امام ابو داود 220 ہجری میں بغداد پہنچے تھے۔ اگر یہ دونوں معلومات درست مانیں تو اس وقت امام ابو داود کی عمر تقریباً اٹھارہ سال بنتی ہے۔اس سے کم از کم یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ امام ابو داود نے بہت کم عمری میں طلبِ حدیث کے لیے سفر شروع کر دیے تھے۔ یعنی وہ ابھی نوجوانی ہی میں اپنے شہر اور علاقے سے نکل کر بڑے علمی مراکز کا رخ کر رہے تھے اور وہاں کے محدثین سے حدیث حاصل کر رہے تھے۔
ہم اگر امام ابو داود کے ہر شیخ، ہر سفر اور ہر روایت کی مکمل تفصیل میں چلے جائیں تو گفتگو بہت طویل ہو جائے گی، کیونکہ ہر راوی کی اپنی مشیخہ اور اس کے جمع ہونے کی ایک مستقل داستان ہے۔ اس وقت ہماری توجہ صرف امام ابو داود کے طالبِ علم ہونے کے زمانے پر ہے؛ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ علمِ حدیث کی تلاش میں کہاں کہاں گئے، کن اہلِ علم سے ملے اور کیسے حدیث حاصل کرتے رہے۔ اس کے بعد آگے چل کر ہم انہی ابو داود رحمہ اللہ کو ایک شیخ اور صاحبِ تصنیف کی حیثیت سے دیکھیں گے۔ بغداد پہنچنے کے بعد بھی ان کے سفر جاری رہے۔ کبھی ایک شہر میں کچھ عرصہ قیام کیا، کبھی دوسرے شہر کا رخ کیا۔ بصرہ میں خاص طور پر ان کا بار بار آنا جانا رہا اور آخرکار ان کی زندگی کا آخری بڑا علمی مرکز بھی یہی شہر بنا۔وہ بغداد سے کوفہ گئے، کوفہ کے اہلِ علم سے روایت کی، پھر بصرہ گئے۔ بصرہ سے نکلے اور دوبارہ بھی بصرہ آتے رہے۔ یعنی یہ ایک ہی سفر نہیں تھا کہ شہر دیکھا اور آگے نکل گئے، بلکہ طلبِ حدیث کے دوران ان شہروں سے ان کا بار بار تعلق رہا۔خطیب بغدادی نے امام ابو داود رحمہ اللہ کے بصرہ آنے جانے اور وہاں ان کے قیام و مشغولیت کے بارے میں بھی معلومات نقل کی ہیں۔ امام ابو داود بصرہ میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار آتے جاتے رہے، یہاں تک کہ زندگی کے آخری حصے میں بھی بصرہ سے ان کا گہرا تعلق رہا۔عراق کے مختلف شہروں میں حدیث حاصل کرنے کے بعد امام ابو داود رحمہ اللہ شام کی طرف روانہ ہوئے۔
وہ دمشق گئے اور وہاں کے محدثین سے حدیث سنی، پھر حمص گئے۔ اس زمانے میں ان کی عمر تقریباً پچیس سے تیس برس کے درمیان تھی اور وہ مسلسل طلبِ حدیث کے سفر میں تھے۔پھر وہ حلب پہنچے اور وہاں کے محدثین سے بھی حدیث حاصل کی۔ اس طرح ان کے سفرِ طلب کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا گیا؛ وہ مختلف شہروں میں جاتے، وہاں کے محدثین سے حدیث سنتے اور ان کی روایات کو اپنے علمی ذخیرے میں جمع کرتے رہے۔اب اگر آپ کے ہاتھ میں سنن ابی داود کی کتاب ہو تو یہ ذہن میں رکھیں کہ اس کتاب کے پیچھے صرف کتاب لکھنے کا کام نہیں تھا۔ امام ابو داود ان علاقوں میں گئے، وہاں کے علماء سے ملے، ان سے احادیث سنیں، ان کی مرویات جمع کیں اور پھر آگے بڑھے۔ابن عساکر نے دمشق کے حوالے سے امام ابو داود کے متعدد شیوخ کا ذکر کیا ہے۔
میرے اندازے کے مطابق دمشق میں ان کے آٹھ شیوخ تھے۔اس زمانے میں شیخ کے پاس جانا صرف چند احادیث سن لینے کا نام نہیں تھا۔ طالبِ علم کسی شیخ کے پاس بیٹھتا اور اس سے اس کی مرویات سنتا، کیونکہ اس کی مرویات ایک مستقل صحیفۂ اسناد کی صورت میں بھی محفوظ ہوتی تھیں۔یعنی ایک شیخ کے پاس جو احادیث اپنی سند کے ساتھ موجود ہیں، وہ ایک الگ صحیفے کی صورت میں جمع ہوتیں ، دوسرے شیخ کی مرویات دوسرے صحیفے میں، اور اسی طرح مختلف شیوخ سے روایتیں جمع ہوتی جاتی تھیں۔اور بغداد میں ہم امام احمد رحمہ اللہ کو بھی نہیں بھول سکتے۔
امام ابو داود رحمہ اللہ کے اندازِ زندگی، چال ڈھال اور مجموعی طرزِ عمل کو امام احمد رحمہ اللہ سے مشابہ قرار دیا جاتا تھا۔امام ابو داود زہد و ورع کے بھی بڑے مقام پر تھے۔ ان کی «کتاب الزهد» بھی ہے، اور اس سے بھی ان کے ذوق کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ زہد سے متعلق روایات کو اہمیت دیتے تھے، یہاں تک کہ ان کی اپنی پسند کے انتخابِ احادیث میں بھی ان کے زہد اور ورع کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ذرا ان کے اس سفر کا تصور کیجیے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر، کہیں دو ماہ قیام، کہیں تین ماہ، کہیں چھ ماہ، کہیں اس سے بھی زیادہ۔ یہ مسلسل سفر، مختلف شہروں میں قیام، اور ہر جگہ کے محدثین سے حدیث حاصل کرنا ایک طویل علمی جدوجہد تھی۔
اور انہی مسلسل اسفار اور محنتوں کے نتیجے میں ہمارے سامنے وہ کتاب آئی جسے آج ہم سنن ابی داود کے نام سے جانتے ہیں۔ تو ذرا سوچیے، ایسی کتاب کتنی بڑی محنت کا نتیجہ ہوگی!یہ صرف ایک کتاب نہیں تھی؛ یہ ایک انسان کی عمر بھر کی علمی محنت کا حاصل تھی۔اور یہ کسی معمولی آدمی کی عمر نہیں تھی۔ یہ ایسے عظیم عالم کی زندگی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی سنتِ رسول ﷺ کی حفاظت کے لیے استعمال فرمایا اور اس عظیم خدمت کے لیے منتخب کیا۔حلب کے بعد امام ابو داود رحمہ اللہ دوبارہ دمشق آئے، پھر بیروت اور طرسوس کی طرف گئے۔ طرسوس میں انہوں نے نسبتاً طویل عرصہ گزارا۔آخر طرسوس میں اتنا وقت کیوں گزارا؟اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ طرسوس ایک ثغر تھا، یعنی سرحدی علاقہ۔ اس زمانے میں علماء صرف کتابوں اور مدارس تک محدود نہیں رہتے تھے، بلکہ ثغور میں رباط بھی کرتے تھے۔ وہ اللہ کی راہ میں سرحدی علاقوں میں کچھ عرصہ قیام کرتے، اور اس دوران علم و حدیث کی مجلسیں بھی قائم رہتیں۔کبھی پانچ مہینے، کبھی چھ مہینے، لوگ اس طرح رباط کرتے اور ساتھ ساتھ علم میں بھی مشغول رہتے تھے۔مجھے ایک مرتبہ علامہ بقاعی رحمہ اللہ کی ایک کتاب میں ایک عبارت ملی۔
بقاعی وہی بڑے عالم ہیں جن کی معروف کتاب «نظم الدرر في تناسب الآيات والسور» ہے۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا:«كتبه العبد الفقير إلى الله إبراهيم بن رباط البقاعي، وهو مرابط في سبيل الله ينتظر الشهادة»یعنی یہ تحریر ایسے وقت لکھی گئی جب وہ اللہ کی راہ میں رباط کیے ہوئے تھے اور شہادت کے منتظر تھے۔ایسی عبارتیں جب ہمیں تراجم اور کتبِ علم میں ملیں تو ہمیں انہیں محض پڑھ کر آگے نہیں گزر جانا چاہیے۔ ہر عبارت اپنے اندر ایک دلالت رکھتی ہے اور ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس عبارت کے پیچھے اس دور کی زندگی، علم اور اہلِ علم کا کیسا ماحول تھا۔اسی لیے میں ابن حبان کو «فيلسوف المحدثين» کہتا ہوں۔ ان کی «روضة العقلاء» بھی دیکھیے، کیا ہی عمدہ کتاب ہے۔ ابن حبان بُست کے رہنے والے تھے، اور بُست اسی تاریخی خطے میں تھا جو آج افغانستان کے علاقے میں آتا ہے۔اب امام ابو داود رحمہ اللہ کے بارے میں بھی یہ ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے طرسوس میں کئی سال رباط کیا۔ بعض لوگ بیس سال تک کے قیام کا ذکر کرتے ہیں۔یہ احتمال بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ان ہی طویل قیاموں کے دوران اپنے شیوخ کے صحیفے جمع کیے ہوں اور ثغر میں رہتے ہوئے اپنی کتاب کی تدوین پر بھی کام کیا ہو۔ یہ ایک احتمال ہے، حتمی بات نہیں۔
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امام ابو داود نے اپنی سنن امام احمد رحمہ اللہ کے سامنے پیش کی تھی۔ اگر یہ بات درست ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امام ابو داود نے سنن کی تصنیف امام احمد کی وفات، یعنی 241 ہجری، سے پہلے مکمل کرلی تھی۔ اب امام احمد کی طرف ایک اور پہلو سے دیکھیں۔امام ابو داود رحمہ اللہ کے ہدی اور دل، یعنی ان کے اندازِ زندگی، وقار، چال ڈھال اور مجموعی طرزِ عمل کی مثال امام احمد رحمہ اللہ سے دی جاتی تھی۔ امام احمد رحمہ اللہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے ہدی اور دل میں سفیان ثوری سے مشابہت تھی۔ سفیان ثوری کی مثال منصور بن المعتمر سے، منصور کی ابراہیم سے، اور ابراہیم کی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دی جاتی تھی۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہدی، سمت اور دل میں سب سے زیادہ مشابہ صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔یہ صرف علم کی سند نہیں، کردار، طرزِ زندگی اور ہدی و سمت کی ایک نسبت بھی ہے۔وہ کہا کرتے تھے:“فلاں شخص نظر ہی سے تربیت کرتا ہے!”یعنی بعض لوگ صرف اپنی گفتگو سے نہیں بلکہ ان کے پاس بیٹھنے اور انہیں دیکھنے ہی سے آدمی کو کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔اس لیے کسی عالم کو سمجھنے کے لیے صرف اس کا منہج، اس کی احادیث اور اس کے سفر پڑھ لینا کافی نہیں۔ اس کے نسک، حال، ادب اور صدق کو بھی دیکھنا چاہیے۔کوئی شخص اس مقام تک صرف اس لیے نہیں پہنچتا کہ اس نے بہت سی کتابیں پڑھ لیں۔
اس کے پیچھے اس کا حال اور اس کی صداقت بھی ہوتی ہے۔علم میں ایک قوت ہے۔ اگر علم کے ساتھ ادب، عاجزی اور اپنے عجز کا احساس نہ ہو کہ حقیقی قوت اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے، تو یہی علم آدمی کے لیے وبال بن سکتا ہے۔ پھر انسان دوسروں کو حقیر اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ان لوگوں کا زاد کیا تھا؟زہد، علم اور عبادت و ریاضت۔اسی لیے میں کسی شخص کو دیکھتے ہوئے صرف اس کے علم کو نہیں دیکھتا، بلکہ اس کا حال اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کا تعلق بھی دیکھتا ہوں۔ یہی نور ہے، اور رسول اللہ ﷺ اس نور کا سرچشمہ ہیں۔امام مالک بن انس کو دیکھیے۔
ان سے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے شخص سے روایت نہیں کرتے تھے جس پر رسول اللہ ﷺ کا ذکر اثر انداز نہ ہوتا ہو۔ پھر ایک شخص کو زمزم کے پاس دیکھا گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے رو رہا تھا، تو اس سے حدیث لکھ لی گئی۔اصل چیز شوق اور استحضار تھی، دل کی کیفیت تھی۔ یعنی حدیثِ رسول ﷺ کے ساتھ صرف علمی تعلق نہیں، بلکہ دل کا تعلق بھی تھا۔اور یہی وہ اندرونی کیفیت ہے جو امام ابو داود کے ان اسفار میں بھی نظر آتی ہے اور ان کے زمانے کے دوسرے بہت سے محدثین میں بھی۔ایک راوی کسی عالم کا تعارف کراتے ہوئے کہتا ہے:“میں نے فلاں سے مصر میں حدیث لکھی اور وہ بہت زیادہ رونے والے تھے۔”دیکھیے، اس نے اس عالم کی تعریف میں کیا چیز یاد رکھی؟ صرف علم یا حافظہ نہیں، بلکہ یہ کہ:“وہ بہت روتے تھے۔”سلیمان بن الاشعث السجستانی بھی اسی امت کے ان رجال میں سے تھے جو ایک پوری امت کے برابر تھے۔
امام احمد ایک پوری امت کے برابر تھے۔ امام بخاری، اسحاق بن راہویہ، امام مسلم بن الحجاج النیشاپوری، ابن حبان، خطیب بغدادی، بیہقی اور نہ جانے کتنے بڑے علماء اپنے اپنے مقام پر ایسی ہی عظیم شخصیات تھے۔ہم آج ان لوگوں کی زندگیوں اور ان کے علمی مقام سے ایک طرح سے دور ہوگئے ہیں۔ایک بھائی نے مجھ سے پوچھا:“آپ کس کے بارے میں بات کریں گے؟”میں نے کہا:“ابو داود کے بارے میں۔”وہ کہنے لگا:“ہم امام ابو داود کے بارے میں زیادہ سنتے کیوں نہیں؟ ان کے بارے میں لوگوں کو زیادہ بتایا کیوں نہیں جاتا؟”واقعی، ہمیں ان لوگوں کا تعارف دوبارہ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہیے، تاکہ لوگ ان سے واقف ہوں اور شاید ان کی پیروی بھی کریں۔اب ہم دوبارہ امام ابو داود کے سفر کی ترتیب کی طرف آتے ہیں۔ہم نے طرسوس اور وہاں رباط کا ذکر کیا، لیکن ترتیب سے چلیں تو اس سفر میں حمص، حلب، حران اور جزیرہ بھی آتے ہیں۔
اور جب تراث کی کتابوں میں “جزیرہ” کہا جاتا ہے تو یہاں مراد دجلہ اور فرات کے درمیان واقع وہ تاریخی خطہ ہے، جس میں میافارقین، رقہ اور دوسرے شہر شامل تھے۔امام ابو داود نے وہاں بھی مختلف شہروں کے شیوخ سے حدیث سنی۔پھر وہ رملہ گئے، پھر طرسوس، اور رملہ و طرسوس کے بعد بیروت پہنچے۔اس کے بعد مصر گئے اور اسکندریہ اور قاہرہ پہنچے۔آج ہم قاہرہ سے اسکندریہ گاڑی کے ذریعے چند گھنٹوں میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن اُس زمانے میں امام ابو داود یہ سفر پیدل یا کسی سواری کے ذریعے طے کرتے تھے۔ مقصد صرف یہ تھا کہ کسی عالم تک پہنچیں اور اس سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنیں۔
یہی ان کے سفر کا اصل مقصد تھا۔میزبان محمد الشثری: یہی تو مقصد ہے۔میں امام احمد کے حوالے سے دوبارہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے سنن ابی داود کا ذکر کیااس کے متعلق یہ بات نقل کی جاتی ہے کہ انہوں نے اسے امام احمد کے سامنے پیش کیا تھا؟دکتور عبد العاطی الشرقاوي:جی، اگر یہ بات صحیح ثابت ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام ابو داود نے سنن کی تدوین 241 ہجری سے پہلے مکمل کرلی تھی، اور پھر وہ تقریباً 34 سال تک اس کتاب کو پڑھاتے رہے۔اب ہمارے سامنے امام ابو داود رحمہ اللہ کی طالبِ علمی، ان کے شیوخ اور ان کے سفر آگئے۔ پھر انہوں نے سنن کی تدوین کی۔ یہ ایک غیر معمولی کتاب تھی۔خود امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی کتاب میں تقریباً 4800 احادیث ہیں۔ انہوں نے اپنی مشہور «رسالة أبي داود إلى أهل مكة في وصف سننه» میں اپنی سنن کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا ہے۔ اس میں انہوں نے کتاب کی نوعیت، احادیث کے انتخاب اور اس کے مقصد کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ڈاکٹر صاحب کی گفتگو کے مطابق امام ابو داود نے یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پانچ لاکھ احادیث لکھیں اور پھر ان میں سے اپنی اس کتاب کے لیے انتخاب کیا۔آج جو مطبوعہ نسخے ہمارے سامنے ہیں، ان میں احادیث کی ترقیم ایک جیسی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے موجودہ طبعات میں 5278 احادیث کا ذکر کیا ہے، جبکہ بعض طبعات میں یہ تعداد 5300 سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ اس لیے امام ابو داود کا بیان کردہ عدد 4800 اور موجودہ طبعات کی ترقیم کو ایک ہی شمار نہیں سمجھنا چاہیے۔اہلِ مکہ کے نام اپنے رسالے میں امام ابو داود نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی سنن کا بنیادی مقصد احادیثِ احکام کو جمع کرنا تھا۔ اپنی سنن کے بارے میں امام ابو داود رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ان میں سے چار احادیث انسان کے دین کے لیے کافی ہیں۔
