شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ھے

6 اکتوبر 2003تاریخ کا ایک ایسا سیاہ روز جس دن اسلام آباد کے داخلی دروازہ گولڑہ موڑ پر اسلام کے ایک عظیم جرنیل کو چار ساتھیوں سمیت چھلنی کیا گیا۔ پل بھر میں ایک ایسے عظیم انسان کو خون میں لت پت کر دیا گیا جس جیسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔۔وہ شخص جو کراچی کی سڑکوں پہ ننگے پاوں جماعت کا کام کرتا رھا۔وہ شخص جو تین بار ایم این اے۔۔اور چار بار ایم پی اے رھا۔۔مگر جنازہ اڑھائی مرلہ کے اس مکان سے اٹھا جو مسجد کمیٹی نے دے رکھا تھا۔۔وہ شخص جو جیل میں تھا وہیں سے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوا۔ تاریخ میں اس طرح کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔۔جو چوہنگ جیسے عقوبت خانہ میں رہ کر بھی روزانہ ایک قرآن پاک ختم کرتا تھا۔وہ شخص جس نے اسمبلی میں نہ صرف وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کو للکارا تھا بلکہ زبیدہ جلال کے ہاتھ میں پکڑا نصاب تعلیم سے مقدس شخصیات کو نکالنے کا مسودہ لے کر پرزے پرزے کر دیا تھا۔وہ شخص جس پہ 17 بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ جس کا ساتھ دینے والے۔۔ساتھ چلنے والے ایک ایک کر کے قبر میں اترتے گئے ۔۔۔ مگر وہ ڈٹا رھا۔وہ نہ بکا اور نہ جھکا۔وہ شخص جو ساری زندگی اسلام کی بقاء کیلئے مار کھاتا رھا۔۔زخمی ہوتا رھا۔۔جسم کٹواتا رھا۔۔مگر استقامت سے ڈٹا رھا۔وہ شخص جس نے اسمبلی کے فلور پہ کھڑا ہو کے وقت کے وزرائے اعظم۔۔بے نظیر اور نواز شریف کو للکارا تھا۔۔۔وہ شخص جس کا کوئی نہ تو کوئی بنک اکاونٹ تھا۔۔ اور جس نے نہ ہی کوئی جایئداد بنائی۔۔وہ شخص جس کو حضرت لدھیانوی شہید نے عین جوانی میں خلافت عطا کی تھی۔ وہ شخص جس نے کون مشرف، کون جمالی۔۔کہہ کر اس وقت کلمہ حق بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خدا کے علاوہ کسی سے اور سے ڈرنا شرک سمجھتا ہوں جب ہر طرف خوف و سکوت کے پہرے تھے۔۔وہ شخص جس نے دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں برستی گولیوں میں بھی اپنا خطاب لاجواب جاری رکھا تھا۔۔وہ شخص جس نے افغان۔ستان پر امریکی حملہ کے وقت اسلام آباد میں دفاع افغان۔ستان کونسل کے جلسہ میں اپنا جوتا دکھاتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم یہ جوتے کھا کے یہاں سے نہ بھاگو تو میرا نام بدلی کردینا۔۔وہ شخص جو زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود پی ٹی وی کے پروگرام میں پہنچا اور اس کا مخالف اس حالت میں بھی اس کا سامنا نہ کرسکا۔۔وہ شخص جس کا ساری زندگی ایک ہی موقف رھا حالات خواہ کیسے بھی آئے وہ یہ عزم لے کے میدان عمل میں ڈٹا رھا کہ۔۔مصلحت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے۔۔ میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے۔۔اور پھر انہی بلاوں سے لڑتا ہوا جبل استقامت کا تمغہ سینے پہ سجائے 6 اکتوبر 2003 کی ایک خزاں رسیدہ سہ پہر اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر کے خون میں لت پت جامعہ محمودیہ میں اپنے مرشد کے قدموں میں جا کے ہمیشہ کی نیند سو گیا۔اور دنیا کو بھولا ہوا یہ سبق یاد دلایا گیا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ھے۔۔۔مرگئے ہم تو یہ کتبے پہ لکھا جائے گا۔سو گئے آج غریبوں کو جگانے والے ۔6 اکتوبر یوم شہادت مولانا اع ظم طارق شہ ید

متعلقہ فتاویٰ