مکہ رائل کلاک ٹاور
مکہ رائل کلاک ٹاور دنیا کی چوتھی سب سے اونچی بلڈنگ ہے، 601 میٹر اونچا
اور 16 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا دنیا کا سب سے مہنگا اسکائی اسکریپر۔ اس پر لگی گھڑی دنیا کی سب سے بڑی گھڑی ہے، ہر سائیڈ 43 میٹر بڑی، یعنی ایک سائیڈ 16,000 اسکوائر فٹ، مطلب 500 گز کے 35 پلاٹس جتنی بڑی!
2002 سے، جہاں آج یہ ٹاور ہے وہاں پہلے عثمانی دور کا اجیاد قلعہ تھا جو 1780 میں کعبہ شریف کی حفاظت کے لیے بنا تھا۔ حاجیوں کی بڑھتی بھیڑ کی وجہ سے شاہ عبداللہ نے اسے ختم کر کے یہاں 7 ٹاورز کا کمپلیکس بنانے کا فیصلہ کیا، لیکن ایک ٹاور کو مسجد الحرام کے مینار کے طور پر 600 میٹر تک اونچا کرنے کا آئیڈیا آیا۔
فاؤنڈیشن 450 میٹر کے حساب سے بنی تھی، اب 150 میٹر مزید بڑھانا خطرہ تھا۔ پھر شاہ کی فرمائش آئی کہ ٹاپ پر ایک ہیروں جیسا شیشے کا فساد ہو اور اس پر دنیا کا سب سے بڑا 24 قیراط گولڈ پلیٹڈ چاند ہو۔
انجینئرز نے حل نکالا کہ اوپر کے 150 میٹر کا وزن 36,000 ٹن سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اس لیے اوپر ہلکا اسٹیل اسٹرکچر بنایا گیا، فلورز کو جان بوجھ کر اونچا اور بیچ سے کھوکھلا رکھا گیا تاکہ وزن کم ہو۔
گھڑی بنانے کا کام 165 سال پرانے تجربے والی جرمن کمپنی PERATE کو دیا گیا۔ اس کے کانٹے عام نہیں، بڑا کانٹا 23 میٹر، چھوٹا 17 میٹر، یعنی 5 منزلہ بلڈنگ جتنا! 600 میٹر پر ہوا 200 کلومیٹر فی گھنٹہ چلتی ہے، اس لیے کانٹوں کو اسٹیل کے بجائے کاربن فائبر سے بنایا گیا جو ہلکا اور زنگ سے پاک ہے۔ 4 گھڑیوں کے لیے 5 سیٹ بنے، ایک اسپئیر۔
چاند اور ہیروں کے فساد کا کام جرمن کمپنی SL Rasch / Riva GMBH کو دیا گیا۔ لیکن سعودی قانون ہے کہ مکہ میں صرف مسلم کو انٹری ہے، جبکہ کمپنی کے مالک اور انجینئرز نان مسلم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سائٹ پر کام کرنے کے لیے کچھ انجینئرز نے اسلام قبول کیا، جبکہ جنہوں نے مذہب نہیں بدلا انہوں نے سارا کام دبئی میں رہ کر کیا اور ڈیمو بھی وہیں لگایا۔
75 فٹ اونچا چاند فائبر گلاس اور کاربن فائبر سے بنا ہے، پھر بھی وزن 35 ٹن! اس پر 10 کروڑ موزیک ٹائلز پر سونے کی لیئر چڑھائی گئی۔ اسے ایک ساتھ اوپر لے جانا ناممکن تھا، کیونکہ نیچے لاکھوں لوگ ہوتے ہیں، اس لیے اسے 4 حصوں میں 600 میٹر پر کرین سے کھینچا گیا، ہر حصہ 4 ٹن کا۔ ہوا چلی تو پینڈولم بن گیا، مزدوروں نے رسیوں سے پکڑ کر روکا۔
اس چاند میں 3 فلور ہیں، ایک مسجد بھی جو انسان کی بنائی ہوئی سب سے اونچی مسجد ہے۔ اس ٹاور کا آرکیٹیکٹ گنٹر لین کبھی قریب سے اپنی بلڈنگ نہ دیکھ سکا اور باہر سے دیکھ کر واپس چلا گیا۔

