مسجد عمر فاروقؓ: عدل کی دہلیز پر ایک سجدہ
تمہید
کچھ نام ایسے ہیں کہ زبان پر آئیں تو دل میں ہیبت بھی اترتی ہے اور شفقت بھی۔ عمر بن خطابؓ ایسا ہی ایک نام ہے۔ وہ شخص جس کے راستے سے شیطان کترا کر نکل جاتا تھا، وہی رات کے اندھیرے میں اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری اٹھائے بھوکے بچوں کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا تھا۔ ایک ہی دل میں جلال اور جمال کا یہ ملاپ تاریخ میں بہت کم دیکھا گیا ہے۔
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے مغرب کی جانب، مسجد الغمامہ اور مسجد ابوبکرؓ کے پہلو میں ایک چھوٹی سی مسجد کھڑی ہے جو انہی کے نام سے منسوب ہے: مسجد عمر فاروقؓ۔ عمارت مختصر ہے، مگر اس کی نسبت بہت بلند ہے۔

محلِ وقوع اور نسبت
یہ مسجد مسجد نبوی ﷺ سے پیدل چند منٹ کے فاصلے پر اس علاقے میں واقع ہے جسے قدیم زمانے میں عیدگاہ یا مصلّیٰ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق یہاں عیدین کی نمازیں ادا ہوتی رہیں، اور خلفائے راشدین کے عہد میں بھی یہ مقام اجتماعی نماز کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ حضرت عمرؓ کی طرف اس مسجد کی نسبت انہی روایات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ البتہ مؤرخین کے ہاں تفصیلات میں اختلاف ہے، اس لیے اسے ایک تاریخی نسبت کے طور پر ہی بیان کرنا درست ہے۔
تلوار سے سجدے تک
عمرؓ کی کہانی ایک بند دروازے سے شروع ہوتی ہے۔ ابتدا میں وہ اسلام کے سخت مخالف تھے۔ روایت ہے کہ ایک دن وہ غصے میں گھر سے نکلے، مگر راستے میں معلوم ہوا کہ ان کی اپنی بہن اور بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ گھر پہنچے تو وہاں قرآن کی تلاوت ہو رہی تھی۔ غصہ بھڑکا اور ہاتھ بھی اٹھ گیا، مگر بہن کے چہرے پر بہتا خون اور اس کی ثابت قدمی نے دل کی دیوار میں پہلی دراڑ ڈال دی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے۔ جب سورۃ طٰہٰ کی آیات سامنے آئیں تو کلام کی ہیبت نے دل کو جکڑ لیا۔ جو ہاتھ تلوار کے دستے پر تھا، وہ کلمہ پڑھنے کے لیے بڑھ گیا۔ یہ ہدایت کی وہ گھڑی تھی جو کسی کو تلوار کے سائے میں بھی نصیب ہو سکتی ہے، شرط یہ ہے کہ دل میں سچائی کی ایک کرن باقی ہو۔
قرآن جس کی رائے کی تائید کرتا رہا
عمرؓ کا مرتبہ یہ تھا کہ بعض مواقع پر ان کی رائے کے مطابق قرآن کی آیات نازل ہوئیں۔ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ انہوں نے مقامِ ابراہیمؑ کو نماز کی جگہ بنانے کا مشورہ دیا اور ازواجِ مطہراتؓ کے پردے کے بارے میں رائے دی، اور ان کے مطابق وحی نازل ہوئی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ جس دل میں اخلاص ہو، اس کی سوچ بھی حق کے قریب ہو جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ ایک اور موقع پر فرمایا کہ اے ابنِ خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان تمہیں جس راستے پر چلتا دیکھتا ہے، اسے چھوڑ کر کسی اور راستے پر چل پڑتا ہے۔
وہ حکمران جو رات کو جاگتا تھا
خلافت ملی تو عمرؓ کے ہاں تخت آرام کا نہیں، جواب دہی کا نام بن گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے کہ کہیں کوئی بھوکا یا مصیبت زدہ تو نہیں۔ ایک رات ایک عورت کے بچے بھوک سے بلک رہے تھے اور وہ خالی ہانڈی چولہے پر چڑھائے انہیں بہلا رہی تھی۔ عمرؓ نے بیت المال سے آٹا اور گھی لیا، خود اٹھایا، خود پکایا، اور بچوں کو کھاتے دیکھ کر ہی لوٹے۔
ان سے منقول ہے کہ اگر فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ مجھ سے اس کا سوال کرے گا۔ جس حکمران کے دل میں یہ خوف ہو، اس کی سلطنت میں عدل خود بخود جنم لیتا ہے۔
سادگی کی عظمت
وہ شخص جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرزتے تھے، پیوند لگے کپڑوں میں پھرتا تھا۔ جب بیت المقدس کی فتح کے موقع پر وہاں تشریف لے گئے تو سواری کے ایک ہی اونٹ پر خادم کے ساتھ باری باری سوار ہوئے۔ تاریخ کا یہ منظر شاید ہی کہیں دہرایا گیا ہو کہ فاتح پیدل چل رہا ہے اور غلام اونٹ پر ہے۔
عظمت لباس اور سواری میں نہیں، دل کی عاجزی میں ہوتی ہے۔ عمرؓ نے یہ سبق اپنے عمل سے لکھا۔
محاسبۂ نفس
عمرؓ سے منقول ہے: "اپنا حساب خود کر لو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو تول لو، اس سے پہلے کہ وہ تولے جائیں۔”
یہ جملہ ہر سجدہ گاہ میں گونجنے کے لائق ہے۔ اس مسجد میں بیٹھ کر انسان اگر چند لمحے خود سے سوال کرے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے:
- کیا میں اپنے اختیار کو امانت سمجھتا ہوں، چاہے وہ گھر کا ہو یا دفتر کا؟
- کیا میری آنکھ اپنے آس پاس کے بھوکے اور ضرورت مند کو دیکھ پاتی ہے؟
- کیا میں دوسروں کے محاسبے سے پہلے اپنا محاسبہ کرتا ہوں؟
- کیا میری زبان حق کہنے میں اتنی ہی جرأت رکھتی ہے جتنی دوسروں کی غلطی گنوانے میں؟
خوفِ خدا کے آنسو
وہ عمرؓ جن کے رعب سے دشمن کانپتے تھے، نماز میں قرآن سنتے ہوئے اتنا روتے کہ پچھلی صفوں تک ان کی ہچکیوں کی آواز پہنچتی۔ جو شخص اللہ کے سامنے اتنا نرم ہو، وہی مخلوق کے سامنے انصاف میں اتنا سخت ہو سکتا ہے۔ یہی جلال و جمال کا راز ہے: جو رب کے آگے جھک جائے، اسے دنیا میں کوئی جھکا نہیں سکتا۔
محراب میں شہادت
عمرؓ کی زندگی کا اختتام بھی اتنا ہی بامعنی ہے جتنا آغاز۔ فجر کی نماز میں، محراب میں کھڑے، سجدے اور قراءت کی کیفیت میں، ایک بدبخت نے ان پر خنجر سے حملہ کیا۔ زخموں سے چور ہو کر بھی ان کی پہلی فکر یہ تھی کہ کیا لوگوں نے نماز پوری کی؟ فرمایا کہ جو نماز چھوڑ دے، اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
اپنی آخری خواہش کے لیے انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہؓ سے اجازت مانگی کہ مجھے اپنے دونوں ساتھیوں، رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ، کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ اجازت ملی تو فرمایا کہ اب مجھے سکون ہو گیا۔ یوں وہ آج بھی اسی گنبدِ خضرا کے سائے میں آرام فرما ہیں جس کی طرف جانے کی تمنا میں دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں۔
مسجد کی فضا
اس مسجد میں داخل ہوں تو نہ کوئی شور ہے نہ ہجوم۔ دیواریں سادہ ہیں اور فضا ٹھہری ہوئی۔ یہاں دو رکعت پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاید سادگی ہی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے۔ جو اپنے اندر خاموشی پیدا کر لے، اسے ہر دیوار کے پیچھے سے تاریخ سرگوشی کرتی سنائی دیتی ہے۔
ایک ضروری وضاحت
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ اور مسجد قبا کی فضیلت کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہیں۔ مسجد عمر فاروقؓ کی کسی خاص فضیلت کی ایسی مستند روایت معروف نہیں۔ اس لیے اسے ایک تاریخی نسبت والا مقام سمجھ کر یہاں نماز اور دعا کی جائے، اور اس کے ساتھ کوئی ایسی رسم یا عقیدہ نہ جوڑا جائے جس کی شریعت میں بنیاد نہ ہو۔ فاروقؓ سے سچی محبت یہ ہے کہ ان کے عدل، سادگی اور خوفِ آخرت کو اپنی زندگی میں اتارا جائے۔
سبق جو دل میں رکھ لیں
- ہدایت کسی بھی لمحے ممکن ہے: تلوار اٹھانے والا ہاتھ بھی سجدے میں جھک سکتا ہے۔
- اقتدار امانت ہے: جتنا اختیار، اتنی جواب دہی۔
- سادگی عزت کی دشمن نہیں: سادہ لباس میں بھی عظمت جھلکتی ہے۔
- خود احتسابی: دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح۔
- نماز اولین فکر: زخمی حالت میں بھی نماز کی فکر ایمان کی پختگی ہے۔
اختتامیہ
جب زائر مسجد سے نکلتا ہے تو مدینہ کی ہوا میں کھجوروں کی مہک اور دل میں ایک عجیب سا بوجھ اور سکون ایک ساتھ ہوتا ہے۔ بوجھ اس بات کا کہ ہم نے کتنا کم کیا، اور سکون اس بات کا کہ راستہ اب بھی کھلا ہے۔
اے اللہ! ہمیں عمر فاروقؓ جیسا خوفِ آخرت، عدل کا ذوق، حق گوئی کی جرأت اور مخلوقِ خدا کے لیے نرم دل عطا فرما۔ ہمیں ان کے اور تمام صحابہ کرامؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے، اور ہمارا حشر انہی نیک بندوں کے ساتھ فرما۔ آمین
#مسجد_عمر_فاروق #مدینہ_منورہ #فاروق_اعظم #سیرت_النبی #روحانیت
