معاہدہ بدر کیا ہے؟ تاریخی پس منظر اور اہم حقائق
اگست میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدہ ہوا۔ اور
اب دوحہ میں پاکستان، قطر، ترکی اور انڈونیشیا نے معاہدہ بدر پر دستخط کردیئے۔ ان دونوں معاہدوں میں ایک بڑا باریک فرق ہے۔ مکہ معاہدہ کہتا ہے، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یعنی یہ ویسا ہی فوجی اتحادہے جیسا امریکا اور یورپ نے نیٹو کے نام سے بنا رکھا ہے۔ جبکہ معاہدہ بدر کہتا ہے کہ اب ہم ہتھیاروں کیلئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ اپنے ہتھیار ہم خود بنائیں گے۔ یعنی مکہ الائنس ایک ڈھال ہے اور بدر ایگریمنٹ اس ڈھال کا کارخانہ ۔یہاں سوال ذہن میں آتا ہے کہ سعودی عرب مکہ الائنس میں تو ہے، لیکن وہ بدر ایگریمنٹ میں شامل نہیں۔
اسی طرح قطر بدر ایگریمنٹ میں شامل ہے لیکن وہ مکہ اتحاد کا حصہ نہیں۔
لیکن ایک ملک ایسا بھی ہے جو مکہ میں بھی بیٹھا ہے، بدر میں بھی، اور تہران کی میز پر بھی۔ تو سوال یہ ہے کہ مکہ الائنس کے بعد معاہدہ بدر کی ضرورت کیوں پڑی؟ سعودی عرب معاہدہ بدر سے باہر کیوں ہے؟ کیا یہ دراڑ ہے یا کوئی چال؟ جس اتحاد میں ایران کا قریبی دوست بیٹھا ہو، اسے فرقہ وارانہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ جو کام او آئی سی پچاس سال میں نہ کر سکی، یہ دو معاہدے کیسے کریں گے؟ بھارت، اسرائیل اور ان کے اتحادی ان معاہدوں سے خوفزدہ کیوں ہیں؟۔دشمنوں کو زیادہ تکلیف اس معاہدے سے نہیں بلکہ اس کے نام "بدر” سے ہے۔ بدر کا مطلب ہے پورا چان، ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ چاروں ملک ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ لیکن یہ نام چودہ سو سال پرانی ایک جنگ کی یاد بھی دلاتا ہے۔ میدان بدر میں صرف 313 مسلمانوں نے کفار کے بڑے لشکر کو میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ نام بڑا سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔ پیغام بڑا واضح ہے کہ جنگ کا فیصلہ اب دشمن کی تعداد پر نہیں ہوگا۔ بلکہ اس بات پر ہوگا کہ جنگ کیلئے کس نے اچھی تیاری کی۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ مکہ الائنس جیسا مضبوط اتحاد ہوتے ہوئے معاہدہ بدر کی ضرورت کیوں پڑی؟تو اس کا جواب ایک لفظ میں ہے۔ محتاجی۔۔۔!۔مکہ معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ لیکن لڑیں گے کس ہتھیار سے؟ وہ ہتھیار جو امریکا اور یورپ سے خریدے جاتے ہیں؟ جن کے پرزے بھی ان کی مرضی سے ملتے ہیں؟ مسلم ورلڈ ایک ہی سبق دو بار سیکھ چکی ہے۔ پہلی بار یہ سبق ہم نے پچھلے سال سیکھا جب اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا۔ قطر کے پاس مہنگے مغربی ہتھیار تھے، مگر اس کے باوجود وہ اسرائیلی میزائلوں کو روک نہ سکا۔ دوسری بار رواں سال، جب ایران جنگ میں خلیجی ملکوں پر میزائل گرے۔
اسی لیے معاہدہ بدر کا پہلا ہدف سستا اور اپنا فضائی دفاعی نظام تیار کرنا ہے۔ یعنی اپنے آسمان کی حفاظت، اپنے ہاتھ سے۔ اور یہ کام ہوگا کیسے؟ معاہدے کے مطابق چاروں ملک مل کر ہتھیار بنائیں گے۔ دفاعی میدان میں مل کر ریسرچ کریں گے۔ ایک دوسرے کی فوجوں کو تربیت دیں گے اور مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے۔ ہتھیار بنانے کیلئے مشترکہ کارخانے لگیں گے۔ چاروں ممالک کا ایک وزارتی بورڈ بنے گا، جو بجٹ اور کارخانوں کی جگہ طے کرے گا۔ اب دیکھیں کہ اس معاہدے کے تحت کون سا ملک کیا لا رہا ہے؟ ترکی کے پاس ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت ہے۔ قطر کے پاس پیسہ ہے اور ہتھیاروں کی ضرورت بھی۔ پاکستان کے پاس ہنرمند ہاتھ اور ہتھیار بنانے کا تجربہ ہے۔ جبکہ انڈونیشیا کے پاس بڑی فوج اور بڑی منڈی ہے۔ اور یہ صرف کاغذی باتیں نہیں۔ ترکی کے ڈیزائن کردہ جنگی جہاز آج کراچی میں بن رہے ہیں۔ ترکی کا ٹینک انڈونیشیا میں تیار ہو رہا ہے۔یہ معاہدہ ان سب کو ایک چھت تلے لے آیا ہے۔ لیکن اسی چھت کے نیچے ایک کرسی خالی ہے۔ اور وہ کرسی ہے سعودی عرب کی۔تو کیا سعودی عرب معاہدہ بدر سے ناراض ہے؟۔ مکہ الائنس کے ہوتے ہوئے معاہدہ بدر کرنا دراڑ کی علامت نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی چال ہے۔ یہ دو الگ الگ اتحاد نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی دو کڑیاں ہیں۔ دفاعی صنعت میں تعاون کی شق مکہ معاہدے میں بھی شامل ہے۔ پاکستان اور ترکی دونوں معاہدوں میں ہیں۔ مکہ معاہدے کی طرف سے سعودی سرمایہ اور بدر ایگریمنٹ کی طرف سے قطری سرمایہ۔ دونوں کا رخ ایک ہی منزل کی طرف ہے۔ اور یہ منزل ہے مسلم دنیا کی اپنی دفاعی صنعت۔ اس بات کو بھی یاد رکھیں۔ کچھ سال پہلے سعودی عرب اور قطر ایک دوسرے کا بائیکاٹ کر رہے تھے۔ آج دونوں کا پیسہ ایک ہی مقصد کی طرف جا رہا ہے۔ اور دونوں کو جوڑنے والا پاکستان ہے۔ اسی لیے سعودی عرب کو معاہدہ بدر پر کوئی اعتراض نہیں۔ اور یہ بات ہمارے دشمنوں کو بہت چبھ رہی ہے۔
اسی لئے اب وہ ان معاہدوں کو فرقہ واریت کا رنگ دے رہے ہیں۔ آپ اسرائیلی میڈیا دیکھیں۔ انڈین چینلز دیکھیں۔ ویسٹرن میڈیا کی خبریں پڑھیں۔ ہر جگہ ایک ہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ایران ان معاہدوں میں کیوں نہیں؟ اگر یہ ایران کے خلاف سنی اتحاد ہے تو اس میں قطر کیا کر رہا ہے؟ قطر اور ایران دونوں ملک دنیا کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ خلیج میں تہران کا سب سے قریبی دوست قطر ہے اور پاکستان؟آپ دیکھیں کہ ایران جنگ میں پاکستان نے کسی فریق کا ساتھ نہیں دیا۔ اسلام آباد نے ایران پر حملوں کی مذمت کی، اور خلیج پر حملوں کی بھی۔ جنگ بندی پاکستان نے کرائی۔ امریکا اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی کی۔ اور آج بھی دونوں کے درمیان ثالثی کر رہا ہے ۔ رہ گیا انڈونیشیا۔ تو وہ دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک ہے، اور مشرق وسطیٰ کے فرقہ وارانہ جھگڑوں سے ہزاروں میل دور۔ فیصلہ خود کر لیں۔ جس اتحاد میں ایران کا قریبی دوست بھی ہو اور ایران کا ثالث بھی، وہ اتحاد ایران کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ الزام اس لیے بھی بے معنی ہے کیونکہ یہ دونوں اتحاد ضرورت کی بنیاد پر بنے ہیں۔اور یہی ضرورت وہ کام کرے گی جو آج تک او آئی سی نہ کر سکی۔ ویسے دنیا کے تمام بڑے اتحاد ایسے ہی بنے ہیں۔ یورپی یونین آج ستائیس ملکوں کا اتحاد ہے۔ مگر یہ یونین صرف چھ ملکوں کے کوئلے اور اسٹیل کے ایک معاہدے سے شروع ہوئی تھی۔ ابتدا میں نیٹو بھی صرف بارہ ملکوں سے شروع ہوا تھا۔ آج جب مسلم ملک مل کر دفاعی تحقیق کریں گے تو اس کا فائدہ ان کی صنعت اور معیشت کو بھی ہوگا۔ یوں او آئی سی نے جو خواب دیکھا تھا ۔اب وہ شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے ۔یہ وہی تصور ہے جو علامہ اقبال نے دیا تھا۔ لیکن یہ تصویر بعض ملکوں کی نیند حرام کر رہی ہے۔سب سے پہلے آپ اسرائیل کو دیکھیں۔
اسرائیل کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ عرب ملک اپنے ہتھیار مغرب سے خریدتے ہیں، اور مغرب ہتھیاروں کی سپلائی سے پہلے اسرائیل کی برتری کا پورا خیال رکھتا ہے۔ ایف تھرٹی فائیو فائٹر جیٹس کو ہی دیکھ لیں۔ سعودی عرب کو بھی وہ ویریئنٹ نہیں مل رہے جو اسرائیل کے پاس ہیں۔ اور ترکی کو تو اس پروگرام سے ہی نکال دیا گیا تھا۔ اسی طرح اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا تو امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم کے ہوتے ہوئے بھی قطر کچھ نہ کر سکا۔ اسی لئے قطر آج اپنا فضائی دفاع خود بنانے نکلا ہے۔ اسرائیل آج تک مڈل ایسٹ کے آسمان پر بلا روک ٹوک اڑتا رہا ہے۔ لیکن یقین رکھیں اگلے چند سال میں اسرائیلی پائلٹ عرب فضاؤں میں داخل ہونے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔۔بھارت نے تو پچھلے سال ہی دیکھ لیا تھا کہ پاکستان کیا کر سکتا ہے۔ اب اسی پاکستان کی دفاعی صنعت کو ترکی کی ٹیکنالوجی اور قطر کا سرمایہ ایک ساتھ مل گیا ہے۔ بھارت کے حلق سے تو مکہ معاہدہ ہی نہیں اتر رہا تھا۔ اب اس کیلئے معاہدہ بدر سے بری خبر کوئی ہو نہیں سکتی۔ دلی میں سوگ ہے۔ بھارت کے دفاعی تجزیہ کار اور ریٹائرڈ جنرلز اپنی حکومت کے لتے لے رہے ہیں۔ اب یہ لوگ اپنی شرمندگی مٹانے کیلئے ان معاہدوں کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔کیونکہ جب آپ کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو لیبل ہی کام آتا ہے ۔اسی لئے ان معاہدوں پر فرقہ واریت کا لیبل لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔اللہ حافظ۔
