پیسے دے کر متعین نفع حاصل کرنا
ایک شخص نے ایک دوکاندار کو کاروبار میں لگانے کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے اس شرط پر کہ وہ دوکاندار ہر مہینے ایک لاکھ پر تین ہزار کا نفع دے گا،پانچ لاکھ پر پندرہ ہزار،تقریبا دو سال تک یہ معاملہ چلتا رہا،کچھ دن پہلے میں نے اس سے کہا کہ یہ تو سود ہے،آپ پیسوں پر پیسے لے رہے ہو،دوکاندار کہتا ہے کہ میں نے اس کو ابھی تک دو لاکھ اسی ہزار روپے ادا کیے ہیں،ان دونوں نے مجھے ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیےاپناحکم بنایا ہے ۔
اب شرعا اس مسئلہ کا ایسا حل بتا دے جس سے ان دونوں کا مسئلہ بھی حل ہو اور دونوں سود سے بھی بچ جائے۔
الجواب
مذکورہ معاملہ شرکت کا معاملہ ہے، نفع کا تناسب طے نہ کرنے کی وجہ سے شرکت فاسد ہوگئی اور شرکتِ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ اس میں ہر ایک شریک اپنے سرمائے کے تناسب سے نفع نقصان کا حق دار ہوتا ہے، لہذامذکورہ دوکاندار دوسرے شخص سے دولاکھ اسی ہزار روپے واپس لے،اس کے بعد فریقین اپنے اپنے سرمائے کے تناسب سے نفع و نقصان کا حساب لگاکر سرمایہ وصول کرکے علیحدہ ہوجائیں، اور اگر دوبارہ شرکت کا معاملہ کرنا چاہیں تو شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے از سرِ نو معاہدہ کریں۔
الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال , وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر.( مجلة الأحكام العدلية ,ص: 263)
[ (المادة 1369) الضرر والخسارة الحاصلة بلا تعد ولا تقصير تقسم بنسبة مقدار رءوس الأموال]
المادة (1369) – (الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال، وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر).
الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة، بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي إن شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى) .( درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:3/ 389)
وأما بيان شرائط جواز هذه الأنواع فلجوازها شرائط:……. (ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح. (بدائع الصنائع:6/ 58)
"وكل شركة فاسدة فالربح فيهما على قدر المال، ويبطل شرط التفاضل” لأن الربح فيه تابع للمال فيتقدر بقدره، كما أن الريع تابع للبذر في الزراعة، والزيادة إنما تستحق بالتسمية، وقد فسدت فبقي الاستحقاق على قدر رأس المال ".( الهداية :3/ 13)
(قوله: والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال وإن شرط الفضل) لأن الربح فيه تابع للمال فيقدر بقدره كما أن الريع تابع للزرع في المزارعة، والزيادة إنما تستحق بالتسمية، وقد فسدت فبقي الاستحقاق على قدر رأس المال أفاد بقوله بقدر المال أنها شركة في الأموال فلو لم يكن من أحدهما مال وكانت فاسدة فلا شيء له من الربح. (البحر الرائق :5/ 198)
