رضاعت کے شبہ کی صورت میں نکاح کاحکم

        ایک آدمی نے اپنی لڑکی کا نکاح بچپن میں کسی کے ساتھ کروایا،لڑکے کے والد نے نکاح کے وقت کہا تھا کہ اس لڑکی کولڑکے کی ماں نے دودھ پلایا ہے،بعد میں اس کو شک ہوا کہ شاید اس نے دودھ نہ پلایا ہو،اس شک کی وجہ سے نکاح کو برقرار رکھا گیا،کچھ عرصہ بعد خاندان کی ایک عورت نے کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے لڑکے کی ماں کو اس کو دودھ پلاتے ہوے دیکھا ہے،اب اس لڑکی کانکاح اس لڑکے کے ساتھ  کیسا ہے؟

الجواب

      چونکہ لڑکے کا باپ اپنے اقرار پر برقرار نہیں ہے اور ایک عورت کی گواہی رضاعت کی ثبوت کے لیے کافی نہیں، اس وجہ سے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ لڑکا اور لڑکی اس عورت کے بارے میں کیا رائے رکھتےہیں-اگر دونوں کے خیال میں یہ عورت سچی ہےتو نکاح نہیں ہوگا،اگر دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے تو نکاح درست ہے، البتہ اگر اس سے پہلے اس  عورت کے جھوٹ بولنے کا کوئی واقعہ نہ ہو تو احتیاط اس میں ہے کہ یہ نکاح چھوڑدیں-اگر لڑکا اس کو جھوٹاسمجھتا ہے اور لڑکی سچا سمجھے تو بھی نکاح ہوجائے گا ،البتہ لڑکی لڑکے سے اس بات کی قسم لے سکتی ہےکہ لڑکے کےعلم میں نہیں ہے کہ لڑکی اس کی رضاعی بہن ہے-اگر لڑکا قسم نہ کھائے تو بھی جدا ہونا ضروری ہے-اگر لڑکا اسے سچا سمجھےاورلڑکی جھوٹا تو نکاح نہیں ہوگا-

وأما بيان ما يثبت به الرضاع أي: يظهر به فالرضاع يظهر بأحد أمرين: أحدهما الإقرار والثاني البينة………….

وأما البينة: فهي أن يشهد على الرضاع رجلان أو رجل وامرأتان ولا يقبل على الرضاع أقل من ذلك ولا شهادة النساء بانفرادهن. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:4/ 14)

 (و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي. (الدر المختارمع رد المحتار:3/ 224)

في الهندية: تزوج امرأة فقالت امرأة أرضعتكما فهو على أربعة أوجه: إن صدقاها فسد النكاح ولا مهر إن لم يدخل، وإن كذباها وهي عدلة فالتنزه المفارقة والأفضل له إعطاء نصف المهر لو لم يدخل، والأفضل لها أن لا تأخذ شيئا، ولو دخل فالأفضل كماله والنفقة والسكنى، والأفضل لها أخذ الأقل من مهر المثل والمسمى لا النفقة والسكنى ويسعه المقام معها، وكذا لو شهد غير عدول أو امرأتان أو رجل وامرأة، وإن صدقها الرجل وكذبتها فسد النكاح والمهر بحاله وإن بالعكس لا يفسد ولها أن تحلفه ويفرق إذا نكل اهـ. (رد المحتارمع الدر المختار:3/ 224)

متعلقہ فتاویٰ