دو معلق طلاقوں کا حکم

سوال نمبر 3۔جب میری شادی ہوگئی اور ہم میاں بیوی کے آپس میں آزادانہ گفتگو  شروع ہوئی تو  بیوی نے کچھ راز کی ایسی باتیں بتائیں جس کی  وجہ سےمجھے اپنی بیوی پر اعتماد نہ رہا۔اس وجہ سے جس رات کو میں واپس یہاں آرہا تھا اسی رات کو میں نے بیوی سے کہاں کہ اگر تم نے میرے واپس آنے تک زنا کیا تو تجھے طلاق ہے ۔نیت ایک طلاق کی تھی۔ اب میں واپس یہاں پر آگیا دو تین ماہ بعد میں نے ان سے فون پر کہا کہ اگر تونے سہنار خان کے بیٹوں کو سلام کیا تو یہ میرا اور تمہارا ایک ساتھ رہنے کاآخری دن ہوگا ۔ یہ بات کرتے وقت نیت طلاق کی تھی یعنی میں اسے طلاق سے ڈرانا چاہ رہا تھا۔پھر ہوایہ کہ سلام کرنے والی جو دوسری شرط تھی وہ شرط تو اس بیچاری سے پہلے ٹوٹ گئی اور جو پہلی شرط تھی(زنا کی) وہ اس نے دوسری شرط  کے کافی وقت(تقریبا آٹھ،دس مہینے) گزر جانے کے بعد  توڑ دی۔ جس  کا اس نے خود  اقرار کیا کہ اس کو اس سے عمر میں بڑے بھانجے نے  مجبور کیا اور وہ دونوں ایک دو ماہ تک آپس میں زنا کرتے رہیں۔اس کے بعد بیوی نے مجھ سے منت سماجت کی اور معافی مانگی،میں نے اس کو معاف کیا اور جب گھر واپس آیا تو اس سے رجوع بھی کرلیا۔اس کا کیا حکم ہوگا؟

:تنقیح

سائل نے استفسار پر بتایا کہ دوسری شرط اور پہلی شرط پائے جانے کے دوران اس کی بیوی کی عدت گزر گئی تھی۔

الجواب

            ‘ اگر تونے سہنار خان کے بیٹوں کو سلام کیا تو یہ میرا اور تمہارا ایک ساتھ رہنے کاآخری دن ہوگا’طلاق کے کنائی الفاظ میں سے ہے،اور ان الفاظ سے آپ نے نیت بھی طلاق کی کی تھی اس وجہ سے آپ کی بیوی کی طلاق  سنہار خان کے بیٹوں کے ساتھ سلام پر معلق ہوگئی تھی،لہٰذا جب سنہار خان کے بیٹوں کے ساتھ سلام کی شرط پائی گئی تو آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی جس کی وجہ سے آپ کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح ختم ہوگیا۔

اس کے بعد جب پہلی شرط(زنا کی) پائی گئی اس وقت چونکہ آپ کی بیوی  کی پچھلی طلاق کی عدت گزر چکی تھی،جس کی وجہ سے آپ کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کا تعلق بالکل ختم  ہوگیا تھا اس لیے مزید طلاق واقع نہیں ہوئی۔

            چونکہ آپ کی بیوی کو ایک طلاق بائن ہو گئی تھی اور طلاق بائن کے بعد رجوع کے لیے نئے مہر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے نکاح کرنا ضروری ہے،لہٰذاگر آپ نے مذکورہ شرائط کے ساتھ نکاح نہیں کیاہو توصرف معاف کرنے اور رجوع  کرنے سے وہ آپ کی بیوی نہیں بنی اگر اسی حالت میں آپ نے اس کے ساتھ ہمبستری تو وہ ناجائز اور حرام تھی۔لہٰذا آپ کو چاہیے کہ آپ اس کے ساتھ ازسرنو نکاح کریں جس میں نیا مہر بھی مقرر کریں اور دو گواہ بھی بٹھائیں۔پھر آپ کے لیے اس کے ساتھ میاں بیوی کے تعلقات قائم کرنا جائز ہوگا۔

” وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ” وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا ".

(الهداية :1/ 244)

واما المكنى فهو على ثلاثة أقسام……وقسم منها يصدق الرجل فيه على أي وجه كان إن كان في حال الرضا أو في حال الغضب أو علي تقدمة ذكر الطلاق وهو قوله 1 خلعتك 2 وفارقتك 3 وخليتك وسبيلك 4 ولا سبيل لي عليك 5 ولا ملك لي عليك 6 ولا نكاح بيني وبينك 7 أو قال انكحي من شئت أو تزوجي أو تزوجي من شئت أو اذهبي أو اذهبي حيث شئت أو قومي أو اخرجي أو اعزبي أو اعتدي أو حبلك على غاربك أو قال أحللتك للزواج أو أربع طرق عليك مفتوحة فخذى أيها شئت أو وهبتك لاهلك أو أنت حرة أو انت عتيقة أو الحقي بأهلك …….فكل هذه الالفاظ يصدق الرجل فيها. (النتف في الفتاوى للسغدي :1/ 327)

وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية. (الفتاوى الهندية :1/ 376)

فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة – وإن كان بائنا – فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية.     (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :3/ 187)

 (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر.

(الدر المختار مع رد المحتار:3/ 520)

وزوال الملك بعد اليمين لا يبطلها ” لأنه لم يوجد الشرط فبقي والجزاء باق لبقاء محله فبقي اليمين ” ثم إن وجد الشرط في ملكه انحلت اليمين ووقع الطلاق ” لأنه وجد الشرط والمحل قابل للجزاء فينزل الجزاء ولا تبقى اليمين لما قلنا ” وإن وجد في غيرالملك انحلت اليمين ” لوجود الشرط ” ولم يقع شيء ” لانعدام المحلية. (الهداية :1/ 244)

متعلقہ فتاویٰ