مروجہ حیلہ اسقاط

            ہمارے ہاں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کو دفنانے کے بعد جنازہ میں موجود سب لوگ دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اورمیت کے رشتہ دار کچھ پیسے رومال میں بند کر کے اپنے محلے کے امام کو دیدیتے ہیں،امام اپنے کسی شاگرد کو دیدیتا ہے،شاگرد ان پیسوں کو لے کر پورے مجمع میں تین یا چار دفعہ گماتا ہے،ایک چکر نماز کے فدیہ کے لیے ایک روزوں کی فدیہ کے لیے،ایک چکر حقوق اللہ کے لیے اور ایک چکر حقوق العباد کے لیے ہوتا ہے، مجمع کا ہر آدمی چاہے وہ غریب ہو یا امیر وہ پیسے لے کر واپس کرتا ہے،بعض یہ کہ کر واپس کرتے ہیں کہ” مجھے قبول ہے،میں نے واپس بخش دیے” بعض ویسے واپس کردیتے ہیں،اکثر لوگوں کو اس کی حقیقت کا بھی علم نہیں ہوتا بس لوگوں کے دیکھا دیکھی ایسا کرتے ہیں-پھر میت کے رشتہ ان پیسوں سے کچھ تو اسی وقت موجود علماء،طلبہ اور غرباء میں تقسیم کرتے ہیں اور باقی پیسے فاتحہ خوانی میں تقسیم کرتے ہیں یا اس سے تین دن حلوا بناکرمحلےمیں تقسیم کرتے ہیں اور مساجد اور مدارس میں بھیجتے ہیں-برائے مہربانی اس مسئلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح حیلہ اسقاط درست ہے؟اگر درست نہیں تو درست طریقے کی طرف رہنمائی فرمائیں

الجواب

مروجہ حیلہ اسقاط

            حیلہ اسقاط بہت سی شرائط کے ساتھ بعض کتابوں میں مذکور ہے-لیکن ہمارے زمانے میں شرائط نہ پائے جانے اوردرج ذیل خرابیوں کی بناء پر اجازت نہیں

لوگوں نے اس کو ایک رسم بنا لیاہے،چنانچہ اگر کسی کے پاس پیسے نہ ہو تو لوگوں کے طعنوں سے بچنے کے لیے قرض تک لے لیتے ہیں

لوگوں نے اس کو عمل تکفین کا لازمی جز بنالیا ہے،اس طرح کے التزام سے مباح بلکہ مندوب عمل بھی ناجائز ہوجاتاہے

اس حیلہ کی وجہ سے فساد عقیدہ لازم آتاہے،لوگ گناہوں پر دلیر ہوجاتے ہیں اور نماز،روزہ کی کوئی پرواہ نہیں کرتے

إذا أراد أن يؤدي الفدية عن صوم أبيه أو صلاته وهو فقير فإنه يعطي منوين من الحنطة فقيرا، ثم يستوهبه، ثم يعطيه هكذا إلى أن يتم كذا في الفتاوى السراجية.( الفتاوى الهندية: 6/ 392)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 72)

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.

 (قوله ولو لم يترك مالا إلخ) أي أصلا أو كان ما أوصى به لا يفي. زاد في الإمداد: أو لم يوص بشيء وأراد الولي التبرع إلخ وأشار بالتبرع إلى أن ذلك ليس بواجب على الولي ونص عليه في تبيين المحارم فقال: لا يجب على الولي فعل الدور وإن أوصى به الميت لأنها وصية بالتبرع، والواجب على الميت أن يوصي بما يفي بما عليه إن لم يضق الثلث عنه، فإن أوصى بأقل وأمر بالدور وترك بقية الثلث للورثة أو تبرع به لغيرهم فقد أثم بترك ما وجب عليه. (الدر المختارمع رد المحتار:2/ 73)

متعلقہ فتاویٰ