مدرسے کے کھانے پر کسی کی دعوت کرنا
کسی طالب علم کا مدرسے کے کھانے پر کسی کی دعوت کرنا اور اس دعوت کا کھانا کیسا ہے؟
الجواب
مدرسے کے کھانے پر کسی کی دعوت کرنا
مدارس میں طلبہ کو کھانا عموما بطور اباحت دیا جاتا ہے،لہٰذامہمانوں کو کھلانے کی اجازت نہیں ہوتی، اس وجہ مدرسہ کا کھانا مہمان کو کھلانا اور مہمان کا اس کو کھانا جائز نہیں-البتہ جہاں انتظامیہ کی جانب سےخرید کر مہمان کو کھلانے کی اجازت ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور نظم ہو تو اس نظم کا لحاظ رکھتے ہوئے مہمان کو کھلانا جائز ہوگا- اسی طرح اگر مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سے دوسرے مدارس کے طلبہ کو بھی مدرسہ کے کھانے کی عام اجازت ہو تب تو طالب علم کی دعوت درست ہوگی ورنہ دوسرے مدرسے کے طالب علم کا حکم بھی عام مہمانوں جیسا ہوگا
دعا قوما إلى طعام وفرقهم على أخونة ليس لأهل خوان مناولة أهل خوان آخر، ولا إعطاء سائل وخادم وهرة لغير رب المنزل ولا كلب، ولو لرب المنزل إلا أن يناوله الخبز المحترق للإذن عادة، وتمامه في الجوهرة. (الدر المختارمع رد المحتار:5/ 710)
ولا يجوز لمن كان على المائدة أن يعطي إنسانا دخل هناك لطلب إنسان أو لحاجة أخرى، كذا في فتاوى قاضي خان. والصحيح في هذا أنه ينظر إلى العرف والعادة دون التردد، كذا في الينابيع.
(الفتاوى الهندية :5/ 344)
