جسم پر لگی نجاست کو خشک کردیا جائے تو کپڑے لگنے سے ناپاک نہیں ہونگے

ہم بستری کے بعد عضو خاص کو دھوئے بغیرکسی کپڑے سے اچھی طرح صاف کرنے بعد جو کپڑے پہنے جائیں تو وہ کپڑے پاک ہونگے یا ناپاک؟ان کپڑوں میں نماز پڑھنا درست ہوگا یا نہیں؟

الجواب

ہم بستری کے بعد اگر شرم گاہ کو کسی کپڑے  وغیرہ سے اچھی طرح صاف کرلیا جائے تو اس سے شرم گاہ پاک تو نہیں ہوتی، البتہ اگر پونچھنے  کی وجہ سے وہ بالکل خشک ہوجائے اور کسی قسم کی تری اس پر باقی نہ رہے، تو اس کے بعد جو کپڑے پہنے جائیں وہ پاک ہی رہیں گے، ناپاک نہیں ہوں گے ، چنانچہ غسل کرنے کے بعد انہی کپڑوں کو دوبارہ پہن کر نماز پڑھنا جائز ہوگا۔ 

نام أو مشى على نجاسة، إن ظهر عينها تنجس وإلا لا. ولو وقعت في نهر فأصاب ثوبه، إن ظهر أثرها تنجس وإلا لا. (تنویر الأبصار مع الدر المختار ورد المحتار:1/ 345)

 (قوله: نام) أي: فعرق، وقوله: أو مشى: أي: وقدمه مبتلة. (قوله: على نجاسة) أي: يابسة لما في متن الملتقى لو وضع ثوبا رطبا على ما طين بطين نجس جاف لا ينجس، قال الشارح: لأن بالجفاف تنجذب رطوبة الثوب من غير عكس بخلاف ما إذا كان الطين رطبا. اهـ. (قوله: إن ظهر عينها) المراد بالعين ما يشمل الأثر؛ لأنه دليل على وجودها لو عبر به كما في نور الإيضاح لكان أولى. (قوله: تنجس) أي: فيعتبر فيه القدر المانع كما مر في محله.( رد المحتارمع الدر المختار:1/ 346)

متعلقہ فتاویٰ