عید غدیر حدیث ِ خم کے تناظر میں ایک مطالعاتی تجزیہ
رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع سے واپسی کے سفر میں مقامِ غدیرِ خم پر ایک عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا۔ غدیرِ خم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ایک مقام ہے۔ اس خطبے میں آپ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:
"من كنت مولاه فعلي مولاه”

یعنی: جس کا میں دوست اور محبوب ہوں، علی بھی اس کے دوست اور محبوب ہیں۔
اس ارشاد کا ایک خاص پس منظر تھا۔ حجۃ الوداع سے قبل نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تھا۔ وہاں آپ نے بیت المال اور دیگر مالی امور کی ذمہ داری انجام دی۔ اسی دوران بعض افراد نے بعض معاملات کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کیے اور مدینہ و مکہ پہنچ کر یہ باتیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی عرض کیں۔
نبی کریم ﷺ نے ان اعتراضات کو سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تائید فرمائی اور واضح کیا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ درست تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھنے کی تلقین فرمائی اور ان کے بارے میں دل میں کسی قسم کی کدورت یا بدگمانی رکھنے سے منع فرمایا۔ چنانچہ جن لوگوں کے دلوں میں کوئی شکوک یا اشکالات تھے وہ بھی دور ہوگئے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت ان کے دلوں میں مزید بڑھ گئی۔تاہم چونکہ اس معاملے کی گفتگو قافلے میں جاری رہی، اس لیے واپسی کے سفر میں غدیرِ خم کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ایک عمومی خطبہ ارشاد فرمایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبے کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
"اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه”
ترجمہ: اے اللہ! جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔
:اس موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا
"هنيئا لك يا ابن أبي طالب! أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة”
ترجمہ: "اے ابنِ ابی طالب! آپ کو مبارک ہو، آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کے محبوب و دوست بن گئے۔
اس خطبے کا مقصد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت، محبت اور عظمت کو واضح کرنا تھا، نہ کہ خلافت کا اعلان کرنا۔اگر یہ خطبہ خلافتِ بلا فصل کے اعلان کے لیے ہوتا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس کو اسی معنی میں سمجھتے، جبکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور محبت کے بیان ہی پر محمول کیا۔
اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے، جلیل القدر صحابی اور اہلِ بیتِ نبوت میں سے ہیں، اور ان سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اسی طرح تمام اہلِ بیت اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا بھی اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے۔
بعد کے ادوار میں ایک گروہ نے” حدیثِ غدیر” سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلا فصل پر استدلال کیا اور 18 ذوالحجہ کو "عیدِ غدیر” کے نام سے منانا شروع کر دیا۔ تاریخی طور پر اس عید کو سرکاری سطح پر رواج دینے والا بویہی شیعہ حکمران معزالدولہ تھا، جس نے 351 ہجری میں بغداد میں اس دن جشن منانے کا حکم دیا۔
شریعتِ اسلامیہ میں "عیدِ غدیر” نام کی کسی عید کا ثبوت نہیں ملتا۔ اسلام میں صرف دو عیدیں مشروع ہیں:عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ ان کے علاوہ کسی دن کو دینی عید قرار دینا شرعی دلیل کا محتاج ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اجمعین سب سے محبت رکھیں، اختلافات اور تعصبات سے بچیں، اور دین کو انہی اصولوں کے مطابق سمجھیں جو قرآن، سنت اور فہمِ صحابہ سے ثابت ہیں۔
اس لیے کہ اصل چیز نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا طرز ہے ۔اور یہ سب چیزیں جو موجودہ زمانے میں پائی جارہی ہیں ،یہ نبی کریم صلی اللہ کی تعلیمات کے بلکل منافی اور خلاف ہیں ۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد موجود ہے:
"علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین”
ترجمہ : کہ اے دنیا کے مسلمانوں اگر دین و دنیا کی کامیابی چاہتے ہو تو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر آؤ (تب کا میابی ملے گی ) اس کے علاوہ کوئی گارنٹی نہیں ۔
مأخَذ
صحیح بخاری : الحدیث
جامع الترمذی: حدیث نمبر 3713
مسند احمد: حدیث نمبر 18464، 18508
سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 121
2 دعا کے الفاظ: "اللهم وال من والاه وعاد من عاداه:
جامع الترمذی: حدیث نمبر 3713
مسند احمد: حدیث نمبر 18464۔ 3۔ یمن کے معاملہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تائید :
صحیح البخاری: حدیث نمبر 4350
صحیح البخاری: حدیث نمبر 4351
صحیح مسلم: حدیث نمبر 2404
4۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مبارک باد:
مسند احمد: حدیث نمبر 18464
المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث نمبر 4986
5۔ اسلام میں صرف دو عیدوں کا ثبوت:
سنن ابی داود: حدیث نمبر 1134
سنن النسائی: حدیث نمبر 1556
6۔ عیدِ غدیر کو سرکاری طور پر رائج کرنے کا تاریخی ذکر:
البدایہ والنہایہ: جلد 11، حوادث 352ھ
الکامل فی التاریخ: حوادث 351ھ
تاریخ بغداد: ذکرِ واقعاتِ عیدِ غدیر و بویہی دور
