باجماعت نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو وضو کے بعد بنا کا حکم
اگر کوئی شخص شروع سے امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوا پھر نماز کے دوران اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وہ وضو کرنے چلا گیا وضو کر کے دوبارہ امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوا اس دوران امام صاحب نے ایک رکعت پڑھ لی تھی تو اب یہ شخص وہ ایک رکعت کیسے پڑھے گا ؟
الجواب
نماز کے دوران وضو ٹوٹ جانے کے بعد وضو کرکے اسی نماز کو جاری رکھنے کو فقہی اصطلاح میں "بنا کرنا” کہتے ہیں۔بنا کے مسائل اور شرائط بہت باریک ہیں،ہر شخص کو ان کا علم بھی نہیں ہوتا، اس وجہ سے بہتر یہ ہے کہ مذکورہ شخص وضو کر کے ازسرنو نماز پڑھے لیکن اگر وہ اسی نماز پر بنا کرنا چاہتا ہےتو بنا کی تمام شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کو اختیار ہے، چاہے تو وضو کرنے کے بعد پہلے وہ رکعت بطور لاحق ادا کرے جو اس سے وضو کرتے ہوئے رہ گئی تھی پھر باقی نماز میں امام کی اتباع کرے ،یا وضو کرنے کے بعد امام کی اتباع کرے اورامام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت بطور لاحق کے پڑھے (یعنی وہ قرات نہ کرے صرف سورت فاتحہ کے بقدر قیام کرے )باقی نماز(تسبیحات اور التحیات وغیرہ) حسب قاعدہ پڑھے۔
عن عائشۃ قالت : قال رسول اللہ ﷺ : ’’ من أصابہ قيء أو رعاف أو قلس أو مذي فلینصرف فلیتوضأ ولیبن علی صلاتہ وہو فی ذلک لا یتکلم ‘‘ ۔ (السنن لابن ماجۃ: ص:87َ)
باب الحدث في الصلاة:
(و) اعلم أن (المدرك من صلاها كاملة مع الإمام، واللاحق من فاتته) الركعات (كلها أو بعضها) لكن (بعد اقتدائه) بعذر كغفلة ورحمة وسبق حدث وصلاة خوف ومقيم ائتم بمسافر، وكذا بلا عذر؛ بأن سبق إمامه في ركوع وسجود فإنه يقضي ركعة،وحكمه كمؤتم فلا يأتي بقراءة ولا سهو ولا يتغير فرضه بنية إقامة، ويبدأ بقضاء ما فاته عكس المسبوق ثم يتابع إمامه إن أمكنه إدراكه وإلا تابعه.(تنویرالأبصار مع الدر المختار:1/ 594)
قولہ : (والمقتدی یعود إلی مکانہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ فإن أدرک إمامہ فی الصلاۃ فہو مخیر بین أن یقضی ما سبقہ الإمام فی حال اشتغالہ بالوضوء بغیر قراء ۃ ثم یقضی آخر صلاتہ ، وبین أن یتابع الإمام ثم یقضی ما سبقہ الإمام یعد تسلیمہ ، لأن ترتیب أفعال الصلاۃ لیس بشرط .
(فتح القدیر لإبن الہمام 1/393)
