پیسوں کے عوض ڈگری حاصل کرنے اور اس ڈگری پر ملازمت حاصل کرنے کا حکم۔
میں نے دو دفعہ بی اے پارٹ ٹو کا امتحان دیا ،لیکن دونوں مرتبہ میری انگلش رہ گئی،اب میں نے عربی کے پوسٹ کے لئے این ٹی ایس میں ٹیسٹ دیا تھا جس میں میں میرٹ پر ہوں لیکن بی اے کی ڈگری کے بغیر یہ نوکری مجھے نہیں مل رہی، اب میں پیسے دے کر بی اے کی ڈگری لینا چاہتا ہوں،کیا یہ میرے لئے جائز ہے؟ اور اگر میں نے ایسا کر لیا تو ملنے والی تنخواہ کا کیا حکم ہوگا؟ از راہ کرم رہنمائی فرمائیں-
الجواب
پیسوں کے عوض ڈگری لینا رشوت اوردھوکہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے – مزید یہ کہ ملازمت کے لئے بی اے کی شرط سے معلوم ہوتا ہے کہ بی اے جیسی استعداد ضروری سمجھی گئی ہے اور یہ معقول بھی ہے کیونکہ عربی استاد کو بھی ادارتی خط و کتابت اور تفہیم کے لئے انگریزی سے ضروری واقفیت ہونی چاہئے جو آپ میں مفقود ہے- نیز آپ کے رشوت دینے کی وجہ سے دیگر اہل لوگ ملازمت سے محروم ہو جائیں گے جو کہ سراسر ظلم ہے- اس لئے آپ محنت کر کے انگریزی پاس کریں اور جائز طریقہ سے نوکری حاصل کریں- اللہ تعالی آپ کی مدد کرے گا-
عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: "لعنة الله على الراشي والمرتشي”.
(سنن ابن ماجه:3/411)(مسند أحمد :6/100،رقم الحديث:6532)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ»
(المعجم الأوسط:2/295)
أخبرنا الفضل بن الحباب، قال: حدثنا موسى بن إسماعيل، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن العلاء، عن أبيه عن أبي هريرة أن النبي مر على صبرة طعام، فأدخل أصابعه فيها، فإذا فيه بلل، فقال: "ما هذا يا صاحب الطعام”؟ قال: أصابته سماء يا رسول الله، قال: "فهلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، من غشنا فليس منا”. (صحيح ابن حبان : 11/ 270
