زکوٰۃ،صدقہ فطر اورقربانی کا نصاب ایک ہے یا الگ الگ
زکوٰۃ،صدقہ فطر اور قربانی کا نصاب ایک ہے یا الگ الگ؟ اگر ان میں فرق ہے تو کیا فرق ہے؟
الجواب
:نصاب دو طرح کے ہیں
: زکوٰۃ کا نصاب
صرف سونا ساڑھے سات تولےہو یاصرف چاندی ساڑھے باون تولے یا نقدی اور مال تجارت اتنا ہو کہ ان میں سے کسی ایک کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہو یا ان چار میں سے بعض یا کل کو ملا کر مجموعی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہو
جو شخص اس نصاب کا مالک ہوگا اس پر قربانی اور صدقہ فطر لازم ہوگا اور اس کے لئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہو گا-اور اس نصاب پر سال گزرنے پر اس شخص پر زکوٰۃ دینا بھی لازم ہوگا
: قربانی اور صدقہ فطر کا نصاب
صرف سونا ساڑھے سات تولےہو یاصرف چاندی ساڑھے باون تولے یا نقدی،مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان اتنا ہو کہ ان میں سے کسی ایک کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہو یا ان پانچ میں سے بعض یا کل کو ملا کر مجموعی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہو
جو شخص اس نصاب کا مالک ہوگا اس پر قربانی اور صدقہ فطر واجب ہوگا اور اس کے لئےزکوٰۃ لینا جائز نہیں ہوگا
:زکوٰۃ،صدقہ فطر اور قربانی کے نصاب میں دو بنیادی فرق ہیں
(الف) زکوٰۃ صرف اس مال پر فرض ہوتی ہے جو عادتا بڑھتا ہو یا اس میں بڑھنے کا امکان ہو جیسے:سامان تجارت،مویشی اور نقدی وغیرہ،جب کہ صدقہ فطر اور قربانی کے نصاب میں ان چیزوں کے علاوہ ضرورت سے زائد سامان کو بھی ملایا جاتا ہے
(ب) دوسرا فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے نصاب کے مالک ہونے کے ساتھ نصاب پر پورا سال گزرنا بھی ضروری ہے جب کہ قربانی اور صدقہ فطر کے واجب ہونے کے لیے سال کا گزرنا ضروری نہیں۔
ولا تجب هذه الصدقة إلا على حر مسلم غني، والغني أن يملك نصابا أو ما قيمته نصاب فاضلا عن مسكنه وأثاثه وثيابه على نحو ما يعتبر في حرمة الصدقة.
( المحيط البرهاني في الفقه النعماني:2/ 410)
قال القدووي في «شرحه» : الأضحية واجبة عند أصحابنا إلا في إحدى الروايتين عن أبي يوسف فإنها سنة.وشرط وجوبها اليسار عند أصحابنا رحمهم الله، والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم، أو عشرون دينارا، أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومتاعه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من متاعه أو رقيقه أو … أو متاع….. أو لغيرها فإنها…. في داره. (المحيط البرهاني في الفقه النعماني :6/ 85)
هي تمليك مال مخصوص لشخص مخصوص فرضت على حر مسلم مكلف مالك لنصاب من نقد ولو تبرا أو حلييا أو آنية أو ما يساوي قيمته من عروض تجارة فارغ عن الدين وعن حاجته الأصلية ولو تقديرا. وشرط وجوب أدائها حولان الحول على النصاب الأصلي.
(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح,ص: 271)
