بیوی کے زیور کی زکوٰۃ کا مطالبہ کس سے ہوگا ؟
اگر بیوی کے پاس زیور کی زکوۃ ادا کرنے کے پیسے نہ ہو تو اس کے شوہر کے ذمہ زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں ؟اگر شوہر زکوٰۃ نہ دے تو اس کو گناہ ہوگا یا نہیں؟
الجواب
اگر زیور بیوی کی ملکیت میں ہواور وہ زکوٰۃ کے نصاب کےبقدرہو تو اس کی زکوٰۃ بیوی کے ذمہ لازم ہے،اگر بیوی کے پاس نقد رقم نہیں ہے تو زیور میں سے کچھ بیچ کر زکوٰۃ ادا کرے یا وزن کے اعتبار سے اسی زیور کا چالیسواں حصہ دےدے-اگر وہ ادانہیں کرتی تو گناہ بھی اسی کو ہوگا،شوہر پر نہ تو اس کی زکوٰۃ لازم ہے نہ ہی ادا نہ کرنے کی وجہ سے اس کو گناہ ہوگا البتہ اس پر یہ لازم ہے کہ بیوی کو اس کبیرہ گناہ سے بچنے کی ترغیب دیتا رہے-نیز مروۃ کا تقاضہ یہ ہے کہ بیوی کو اتنا جیب خرچ وغیرہ بھی دے دیا کرے جس سے وہ کم از کم اپنے ضروری اخراجات پوری کر سکے کیونکہ اس کے کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے-
وحدثني سويد بن سعيد، حدثنا حفص يعني ابن ميسرة الصنعاني، عن زيد بن أسلم، أن أبا صالح ذكوان، أخبره أنه سمع أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من صاحب ذهب ولا فضة، لا يؤدي منها حقها، إلا إذا كان يوم القيامة، صفحت له صفائح من نار، فأحمي عليها في نار جهنم، فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره، كلما بردت أعيدت له، في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة، حتى يقضى بين العباد، فيرى سبيله، إما إلى الجنة، وإما إلى النار» (صحيح مسلم :2/ 680)
وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور.( بدائع الصنائع :2/ 9)
