اعلی،متوسط اور ادنی قسم کا غلہ ملا کر فروخت کرنے کا حکم
ہمارا منڈی میں کاروبار ہے،ہمارے پاس مختلف قسم کی اجناس مثلا:چاول،مکئی اور سرسوں وغیرہ آتی ہیں ۔ہمارے پاس اعلی درجے کی اجناس بھی آتی ہیں اور ادنی اور متوسط بھی۔ پھر ہم تینوں قسم کی اجناس کو ملا کربوریوں میں بھرتے ہیں اور کسی مل والوں کو بیچتے ہیں،ان کے پاس اجناس کو پرکھنے کا ایک پیمانہ ہے وہ اس پیمانہ کے ذریعہ ان بوریوں میں موجود اجناس کو پرکھتے ہیں اگر ان کی معیار کے مطابق ہو تو لے لیتے ہیں ورنہ واپس کرلیتے ہیں۔ اگر ہم صرف اعلی قسم کا دیں تو ہمیں نفع کے بجائے نقصان ہوتا ہے،اس لیے کہ ہمیں اعلی درجہ کی اجناس کرایہ وغیرہ ملا کر 1010 روپے کا من پڑتا ہے جب کہ مل والے ہم سے 1000 روپے من کے حساب سے مطالبہ کرتے ہیں،اگر ہم اعلی،ادنی اور متوسط کو ملا کر بیچتے ہیں تو پھر ہمیں نفع ہوتا ہے۔ مل والے کبھی تو بغیر شرط کے ہم سے لیتے ہیں کبھی اعلی کی شرط لگا کر لیتے ہیں،اب ان دونوں صورتوں میں ہمارے لیے تینوں قسم کی اجناس کو ملا کر بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟اگر ناجائز ہے تو ایسی صورت بتائیں جو جائز بھی ہو اور ہمیں نفع بھی حاصل ہو۔
الجواب
جس صورت میں مل والوں کی طرف سے اعلی غلہ دینے کی شرط نہیں ہے اس صورت میں اگر منڈی میں تینوں قسم کا ملاوٹ کے ساتھ بیچا جانا معروف ہواور آپ ملاوٹ بھی منڈی کے عرف کے مطابق کرتے ہوں تب تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔اگر آپ عرف سے زیادہ ملاوٹ کرتے ہیں لیکن کمپنی والوں کوخریداری سے پہلے آپ کی زیادہ ملاوٹ کا علم ہو تب بھی یہ معاملہ شرعا درست ہوگا۔ اگر کمپنی والوں کو آپ کی زیادہ ملاوٹ کا علم نہیں تو یہ معاملہ ناجائز ہوگا۔
جس صورت میں مل والوں کی طرف سے اعلی غلہ دینے کی شرط لگائی گئی ہو اس صورت میں ملاوٹ جائز نہیں۔مل والوں کو اعلی قسم کا غلہ دینا ہوگا۔اور نقصان سے بچنے کا حل یہ ہے کہ آپ مل والوں کے ساتھ معاملہ ایسی قیمت پر کریں جس سے نقصان نہ ہو،نفع حاصل ہو،نہ کہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعہ نقصان کی تلافی کی جائے۔
حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن العلاء، عن أبيه عن أبي هريرة: أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – مر برجل يبيع طعاما، فسأله "كيف تبيع؟ ” فأخبره، فأوحي إليه: أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه، فإذا هو مبلول، فقال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: "ليس منا من غش.” (سنن أبي داود :5/ 323)
ويكره أن يلبس الجيد بالرديء وأن يصبغ اللحم بالزعفران ولا بأس ببيع المغشوش إذا كان الغش ظاهرا كالحنطة بالتراب، وإن طحنه لم يجز حتى يبينه. (الفتاوى الهندية:3/ 215)
وأما الذي يرجع إلى نفس العقد فهو أن يكون القبول موافقا للإيجاب، بأن يقبل المشتري ما أوجبه البائع وبما أوجبه، فإن خالفه بأن قبل غير ما أوجبه أو بعض ما أوجبه أو بغير ما أوجبه أو ببعض ما أوجبه؛ لا ينعقد من غير إيجاب مبتدإ موافق بيان هذه الجملة: إذا أوجب في العبدين فقبل في أحدهما بأن قال: بعت منك هذين العبدين بألف درهم فقال المشتري: قبلت في هذا العبد وأشار إلى واحد معين لا ينعقد؛ لأن القبول في أحدهما تفريق الصفقة على البائع، والصفقة إذا وقعت مجتمعة من البائع لا يملك المشتري تفريقها قبل التمام؛ لأن من عادة التجار ضم الرديء إلى الجيد ترويجا للرديء بواسطة الجيد فلو ثبت للمشتري ولاية التفريق لقبل في الجيد دون الرديء فيتضرر به البائع، والضرر منفي.( بدائع الصنائع: 5/ 136)
